نواز شریف کی جڑیں عوام میں
عمران خان آج خود بول اٹھا ہے اگر پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے تو مجھے مائنس کر دیں۔ مجھے یہ بیان سن کے بڑی حیرت ہوئی کیونکہ دو سال قبل یہی عمران خان کہتا تھا فوج کے پاس میرے علاوہ کو آپشن نہیں ہے۔ اس میں بھی دوسری کوئی رائے نہیں کہ نواز شریف کو مائنس کروانے میں عمران خان مرکزی کردار تھا اور مین بینیفشری بھی تھا۔ اس کے بعد دوسرے بینیفشری جنرل باجوہ تھی جنہوں نے بدلے میں ایکسٹینشن لی۔ نواز شریف کو راستے سے ہٹانے کے لئے ہر وہ کام کیا گیا جس کی پاکستان کا آئین اور قانون اجازت نہیں دیتے تھے۔
نواز شریف کو آئین پاکستان نہیں برطانیہ کی بلیک لاء ڈکشنری کے تحت نا اہل کیا گیا۔ قصہ مختصر نواز شریف نا اہل ہو گئے، لندن میں اپنی بیوی کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ واپس پاکستان جیل جانے کے لئے آ گئے۔ جیل چلے گئے تو پتہ چلا کلثوم نواز کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے جیل سپریٹینڈنٹ سے درخواست کی میری بیوی سے بات کروا دیں لیکن اس نے جو اباً کہا مجھے اس کی اجازت نہیں ہے۔ کلثوم نواز کی بیماری پر بھی تحریک انصاف نے مذاق اڑایا۔
اعتزاز احسن جیسے سینئر سیاستدان و قانون دان نے بھی اس بیماری کا مذاق اڑایا۔ اسی دوران کلثوم نواز انتقال کر گئی۔ خیر وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا نواز شریف کو عدالت نے علاج کروانے کے لئے لندن جانے کی اجازت دے دی۔ نومبر 2019 کو نواز شریف لندن گئے اس دن سے تاحال نواز شریف کے گھر کے باہر روزانہ عمران خان کے حامی چار پانچ مرد اور تین چار مخصوص خواتین مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تماشا روزانہ لگا رہتا ہے لیکن نواز شریف اور ان کے بیٹوں نے آج تک ان مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف لندن پولیس کو کوئی شکایت نہیں کی نہ ان مظاہرین سے کبھی بدتمیزی کی۔ بلکہ سب کچھ صبر و تحمل سے برداشت کر رہے ہیں۔
اگر نواز شریف یا ان کے بیٹے چاہیں تو لندن پولیس کو شکایت کر کے ان چار پانچ لونڈوں کو گرفتار کروا سکتے ہیں لیکن نواز شریف کی فیملی شریف فیملی ہے وہ جانتے ہیں ان بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ ان کو گمراہ کیا گیا ہے۔ یہی کچھ مریم نواز کے ساتھ پاکستان میں گزشتہ دس سال سے ہو رہا ہے۔ مریم نواز کی شادی اور ان کے بیٹے جنید کی پیدائش پر بھی مہم چلائی گئی اور آج بھی چلائی جا رہی ہے۔
لیکن مریم نواز کی جانب سے آج تک ذاتی کردار کشی مہم پر کوئی ردعمل نہیں دیا نہ ہی کوئی ایکشن لیا۔ نواز شریف اور مریم نواز کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے سب سے زیادہ کردار کشی جنرل باجوہ اور جنرل عاصم منیر کی گئی۔ جنرل باجوہ نے عمران خان کے ساتھ جتنا تعاون کیا پاکستان کی پوری تاریخ میں اتنا تعاون کسی وزیراعظم کو آرمی کا حاصل نہیں رہا۔ جنرل باجوہ نے عمران خان کے غیر ملکی دورے ارینج کروائے، قرض دلوائے، امیج بلڈنگ کی، اسمبلی چلوائی، اعتماد کا ووٹ دلوایا، آخر میں جنرل باجوہ کو عمران خان نے غدار کا لقب دیا اور اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار بھی ٹھہرا دیا۔
یہ وہی جنرل باجوہ ہیں جنہوں نے عمران خان کو اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں امریکی مراسلہ سب سے پہلے دیا تھا جس کو دیکھ عمران خان نے کہا باجوہ صاحب چھوڑیں ایسے مراسلے تو آتے رہتے ہیں۔ پھر اسی مراسلے کو لہرا کر کہا ہمیں امریکہ کی جانب سے لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ جنرل عاصم منیر جن کو عمران خان نے گزشتہ ایک سال کے دوران کئی مرتبہ ملنے کی خواہش کا برملا اظہار کیا۔ اس ملاقات کے لئے صدر علوی نے بھی دو تین بار کوشش کی لیکن جنرل عاصم منیر کی جانب سے ایک ہی جواب ملا کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر اپنے مسئلے حل کریں۔
پھر عمران خان نے اسی جنرل عاصم منیر کے خلاف بھی مہم چلوائی۔ ان پر بیہودہ قسم کے الزامات لگائے لیکن نواز شریف، مریم نواز اور جنرل باجوہ کی طرح جنرل عاصم منیر نے بھی آج تک عمران خان کے کسی الزام کا جواب نہیں دیا۔ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی جنرل عاصم منیر نے جس صبر کا مظاہرہ کیا وہ بھی ان کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ بنیادی طور پر جنرل عاصم نے ملک کو ٹوٹنے سے بچایا ہے اگر فوج فوری سخت ردعمل دیتی تو شرپسند عناصر بھی مزید طیش میں آسکتے تھے اس لیے فوج نے صبر کا مظاہرہ کیا۔
اب ان تمام شرپسندوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو عمران خان کو تارے نظر آرہے ہیں۔ عمران خان کو صبر کی مار ماری جا رہی ہے۔ نواز شریف کو عمران خان کے مائنس ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ نواز شریف عمران خان کو اپنے مدمقابل کبھی سمجھتے ہی نہیں۔ نواز شریف کا اعتماد ہے ان کی جڑیں عوام میں ہیں اس لیے عوام ہر بار ان کو پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس لاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نواز شریف کو اپنی ملک و قوم کے لئے کی خدمات پر بھروسا ہے وہ سمجھتے ہیں پاکستان میں آج بھی ایک بڑا طبقہ ان کی کارکردگی کی بدولت ہی ووٹ دیتا ہے۔


