رمضانی، میں اور اس کا گوکو
ٹیکسلا میوزیم اسلام آباد سے گرینڈ ٹرنک روڈ پر 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے پشاور کی طرف نکلیں اور پنجاب کی سرحد ختم ہوتے سے پہلے ایک بڑا اور تاریخی اعتبار سے اہم اور قدیم شہر ٹیکسلا آ جاتا ہے۔
ٹیکسلا میوزیم میں قبل از عیسوی اور قبل از عیسوی سے کچھ صدیاں بعد زمانہ قدیم کے نوادرات شوکیسوں میں محفوظ ہیں، جن کی تعداد 4000 سے زیادہ ہے۔ ان میں بدھا اور آشوکا کے قدیم مجسمے سٹوکو، ٹیراکوٹا، چاندی، سونا، لوہا اور قیمتی پتھر شامل ہیں۔
وہ دنیا کی مختلف تہذیب کی اشیاء ہیں۔ جن میں بدھ مت، ہندو مت اور جین مت کی باقیات شامل ہیں۔
ٹیکسلا میوزیم دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے۔ ان نوادرات کو دیکھ کر کوئی دو ہزار سال سے زیادہ قدیم تہذیب و تمدن کا عکس دیکھنے والے کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ اس دور کے فنون لطیفہ اور سنگ تراشی کے ہنر کو دیکھ کر انسانی سوچ دھنگ رہ جاتی ہے۔
سو ہمیں بھی موقع ملا تو کر ڈالی ٹیکسلا کے عجائب گھر کی یاترا۔
میوزیم کے بڑے ہال میں داخل ہوئے تو وہاں میوزیم کا ایک گائیڈ ہم سے پہلے ہی سیاحوں کے ایک گروپ کو ٹیکسلا کی قدیم تہذیب کے بارے میں تعارف کروا رہا تھا۔ اندر جاتے ہی سب سے پہلے کوئی دس فٹ اونچے مینار سے سامنا ہوتا ہے۔ گائیڈ اس مینار کی سات منزلوں کو بدھ مت کی روشنی میں سات آسمانوں اور زمینوں کے استعارے کے طور پر بتا رہا تھا۔ سیاحوں کے گروپ میں سب سے پیچھے میں شامل ہو گیا۔ سب گائیڈ کی طرف سے دی جانے والی معلومات غور سے سن رہا تھے۔
سیاحوں کا گروپ گائیڈ کی رہنمائی میں تہذیبوں کے بننے اور پھر تباہ ہونے اور پھر سے ایک نئی تہذیب کے وجود میں آنے کے عمل کو وہاں موجود نوادرات میں بدھا کے مختلف مجسم مورتیوں میں ڈھونڈ رہے تھے۔ سب ہی تقریباً گائیڈ کی طرف سے سنائی جانے والی کہانی کے سحر میں گم تھے۔
اتنے میں میرے پیچھے کسی کی مدھم سی آواز محسوس ہوئی کوئی مقامی زبان میں میوزیم کے نوادرات کے بارے میں کسی کو بتا رہا تھا۔
”ویکھ گوکو مورتیاں۔ گوکو ویکھ آنکھیی بند والی مورتی۔ ویکھ چوڑیاں۔ ٹوٹئی ہوئی چوڑیاں۔ گوکو ادھر ویکھ تندور وڈے وڈے تندور۔ روٹی پکاون والے تندور۔ “ ( دیکھ گوکو موتیاں۔ دیکھ گوکو بند آنکھوں والی مورتیاں۔ دیکھ چوڑیاں۔ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں۔ دیکھ گوکو تندور بڑے بڑے تندور۔ روٹی پکانے والے تندور۔ )
گائیڈ کی طلسماتی کہانی کے طلسم کو مقامی زبان کے خود ساختہ گائیڈ نے توڑ دیا۔
میں نے پیچھے مڑ کر مقامی زبان کے خود ساختہ گائیڈ کو دیکھا آف! ہائے۔ ہائے ایک نوجوان لڑکا بغل میں مرغا دبائے ہوئے کھڑا تھا اور مرغے کو میوزیم میں رکھی نوادرات کے بارے میں بتا رہا تھا۔ گوکو تو ظاہر ہے اس بغل میں دبے مرغے کا نام ہو گا۔
اتنا حیران میں سالوں بعد ہوا تھا۔ میوزیم قبل از مسیح کی تہذیب اور تہذیبوں کا ٹکراؤ بدھا کی مورتیاں اور بدھا کی مورتیوں کے خوشی، غمی، موت اور پھر مرنے کے بعد بدھا کے منگز کی عبادتوں اور ریاضتوں کی مجسم شکلیں۔ آشوکا اور ہندو تہذیب کا آغاز سب مقامی خود ساختہ گائیڈ کی آواز کے بعد دھرا کا دھرا رہ گیا۔
طلسماتی کہانی سنانے والا گائیڈ اور سیاحوں کا گروپ تو آگے نکل گیا۔
پیچھے رہ گیا میں، گوکو اور گوکو کو بغل میں دبائے قصباتی لڑکا۔
”کیا نام ہے تمہارا“
”رمضانی“ قصباتی نوجوان نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔
”یہ مرغا اندر کیسے لے آئے“ میری حیرت ابھی تک قائم تھی۔
”ایسے نوں تے مورتیاں وکھان لائیاں واں“ ( اسی کو تو مورتیاں دکھانے لایا ہوں )
” اچھا“ حیرت سے میرا منہ پہلے کبھی بھی اتنا نہ کھلا ہو گا۔
”واقعی مرغے کو مورتیاں دکھانے لائے ہو“ میرا منہ ابھی بھی کھلا تھا۔
”آھو جی اے ساریاں مورتیاں ساڈے گراں دے کولوں پٹ کے لے آئے نیں۔“ ( ہاں جی یہ ساری مورتیاں ہمارے گاؤں کی زمینوں سے مٹی کھود کر نکال کر لائے ہیں ) پتہ نہیں اس قصباتی لڑکے کی بے وقوفی تھی یا معصومیت!
”اے میرا گوکو اے نئیانا جئیا سی جدوں میری ماسی نے دتا سی، میرا ہر ویلے دا ساتھی اے“ ( یہ میرا گوکو ہے چوزہ سا تھا جب میری خالہ نے مجھے دیا تھا میرا ہر وقت کا ساتھی ہے )
”رمضانی تمہارا گاؤں یعنی گراں کہاں ہے“ میں نے گوکو کے معصوم ساتھی سے سوال کیا
”میرا گراں سنجانی اے۔ ایتھے نیڑے ای اے“ ( میرا گاؤں سنجانی ہے یہاں قریب ہی ہے )
اس کے بعد رمضانی گوکو کو باقی کی مورتیوں کے بارے معلومات دینے کے لیے آگے کو بڑھنے لگا اور پھر سے خود ساختہ قصباتی گائیڈ بن گیا۔ لیکن اس بار اس خود ساختہ گائیڈ کے ساتھ دو سیاح تھے ایک گوکو اور دوسرا میں۔



