عمران خان سے نو بال ہو چکی


انسان کی زندگی کے کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جب اس سے نا چاہتے ہوئے بھی کچھ فیصلے غلط ہو جاتے ہیں یا پھر اس کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ ادا ہو جاتے ہیں جس پر سوائے بچھتاوے کے کچھ نہیں ملتا۔ اچھا یہ کبھی کبھی تو انسان سے خود بخود ہو جاتا ہے تو کبھی کبار وقت اس سے ایسا کروا دتا ہے۔ مجھے لگتا ہے ایسا یا تو سب کے ساتھ ہو سکتا ہے یا پھر بہت سے لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

بی اے میں ایک نظم پڑھی تھی (The Huntsman Poem ) جس میں ایک شخص کا بڑا مشہور جملہ ہوتا ہے جو وہ اکثر بولتا ہے (Talking Brougt me here ) ۔

بس پھر سمجھ لی جئے گا کہ خان صاحب آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا یا ہونے والا ہے آپ کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ہے آپ کے مشیروں نے یا پھر آپ کے ضرورت سے زیادہ اعتماد نے۔ اس دفعہ آپ وقت کا اشارہ سمجھ نہیں پائے اور جیتے ہوئے میچ کو ضرورت سے زیادہ چالاکی یا ہوشیاری کی وجہ سے ہار بیٹھے ہیں یا ہار رہے ہیں۔ آپ نے ہجوم کو قوم بنانے کے جو پینترے استعمال کیے تھے وہ سارے ضروری نہیں درست ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ کی نیت ٹھیک ہو لیکن آپ کی حکمت عملی بے حد کمزور اور ناقص تھی۔

جو مذہبی کارڈ اور انتہاپسندی کی سٹریٹجی آپ نے دوران سیاست استعمال کی تھی وہ آپ کے ہی گلے پڑتی نظر آ رہی ہے مطلب یہ مکافات عمل۔ جو کام آپ پچھلے چند سال سے کر رہے تھے اگر اس میں امن، صلح اور سلامتی کے عنصر موجود ہوتے اور آپ کی توجہ تعلیم و تربیت پر ہوتی جس کا ذکر آپ اپنے تقریروں میں کرتے چلے آئے تھے شاید کچھ بات بن جاتی۔ آپ لیڈر بن سکتے تھے تاریخ گواہ ہے دنیا کے لیڈر پارلیمنٹ کی کرسی پر بیٹھ کر ہی نہیں بنے اس میں نیلسن منڈیلا ہوں، گاندھی ہوں یا پھر قائد اعظم ہی کیوں نہ ہوں ان کی تحریکیں پرامن رہی ہیں۔

قوم کو فی الحال ایک سیاسی تربیت کی ضرورت ہے ایک مہذب سیاسی تربیت کی جس میں آپ بری طرح ناکام رہے ہیں۔ کھلاڑی ہوتے ہوئے بھی آپ ایک لوز بال پھینک چکے ہیں اور مزید اوورز کی گنجائش نہیں۔ آپ کی ترجیحات قوم کو دلدل سے نکالنے کی بجائے کرسی تھی۔ آپ نے ملک کے اداروں سے کالی بھیڑیں نکالنی تھیں آپ نے پورے کے پورے اداروں کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔ نہ تو سب لوگ چور ہیں اور نہ سب لوگ ایماندار ہیں۔ بالخصوص فوج تو ہمارے ملک کی شان ہے جو ہر مشکل وقت میں آہنی دیوار بن کر ملک کا دفاع کرتی ہیں۔

آپ کے سیاسی مریدین جنہوں نے پچھلے چند برسوں سے سوشل میڈیا پر گفتگو یا دلیل کی بجائے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے یہاں تک کے مہذب ممالک میں پناہ گزین پاکستانی جو آپ کے مریدین تھے بے انتہا غیر مہذب رویے اپنائے ہیں قوم تو پہلے ہی سماجی و سیاسی بے راہ روی کی شکار تھی ہماری سڑکیں اور بازار ہماری بدنصیبی و بد تربیتی پر آہیں بھرتی نظر آتی ہیں اوپر سے آپ کی تربیت نے جلتی پر تیل ڈالا ہے۔ انقلاب ایسے نہیں آیا کرتے اس کے لیے مناسب تربیت ضروری ہے انقلاب فرانس کے وقت صورت حال مختلف تھی اور ساوتھ افریقہ کے معاملات اور تھے۔

اس دفعہ آپ سے غلط اندازہ ہو گیا ہے۔ جو آپ کے گلے پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے عوام معصوم تو ہوسکتے ہیں لیکن بیوقوف نہیں۔ اب اگر آپ سے ایسا ہو گیا ہے تو اپنے قدم پر کھڑے رہیں بھاگنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں اب تسلیم کریں انتشاری آپ کے ہی لوگ تھے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ کہیں اور سے تھے تو پھر غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیے۔ پچھلی چند دہائیوں سے دشت گرد بھی اسلام کے نام لے کر ہمارے لوگوں کو شہید کر رہے ہیں جن کو آپ نے حیلے بہانوں سے ہیرو گرداننے کی کئی بار کوشش کی ہے اور جیسے آپ کے خیال کے مطابق آپ کے جھنڈے استعمال ہوئے ہیں۔ آپ اس وقت بھی منکرین بیانیہ تھے آپ آج بھی منکرین بیانیہ ہیں۔ خان صاحب سچ بولیں اور تسلیم کریں یہ آئیں بائیں شائیں کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ ہو سکتا ہے آپ کی سیاسی جماعت اپنی جگہ درست ہو تو پھر حکومت اور سرکار سے تعاون کرتے ہوئے مذمت اور مزاحمت کیوں نہیں کر رہے۔

لہذا اب آپ ہمیشہ کی طرح اس بات پر بھی یوٹرن لے رہے ہیں وہ لوگ آپ کے نہیں تھے چلو مان لیا وہ آپ کے نہیں تو پھر اداروں اور حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے اس شر پسندی اور انتہاپسند کی مذمت تو کریں۔ ایسے شر پسند عناصر کو ملک و قوم کا نقصان کرتے قوم کو ملک کو ایسے لوگوں کا محاصبہ کرنا چاہیے۔ جس طرح آج پورا ملک، مین سٹریم میڈیا پی ٹی آئی کے کچھ عناصر کے اس گھناؤنی حرکتوں کی مذمت کر رہا ہے کاش پورا ملک یک مشت ہو کر اس دہشت گردی، انتہاپسندی اور شرپسندی چاہے وہ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت میں ہو مذمت کرے تو ملک امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ ملک میں ہمارا روٹھا ہوا انویسٹر آ سکتا ہے، دنیا سے ہمارے ملک میں سیاح آسکتے، ہمارا ملک قدرتی حسن سے مالا مال ہے بس اگر ضرورت ہے تو صرف امن اور باہمی تعاون کی ہے تاکہ دنیا میں ہماری عزت ہو۔ ورنہ پھر وہی ٹینشن تو چل ہی رہی ہے۔

Facebook Comments HS