کیا پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگنی چاہیے؟
8 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عدالت سے کیا گرفتار کیا گیا ملک میں افراتفری پیدا ہو گئی اور ہر جانب توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ تھا، اب وہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا اس کی ڈیٹیل میں نہیں جاتے کیوں کہ وہ سب نے دیکھا اور سب سمجھ رہے ہیں کہ یہ کیوں ہوا، کیسے ہوا اور کس نے کیا۔ آج ہر کوئی خود کو محب وطن ثابت کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ایسا کام ہی کیوں کیا جائے جس میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس ملک میں رہنے والے تمام پاکستانی ہیں اور انہیں یہ ثابت کرنے کیا ضرورت ہے کہ وہ محب وطن ہیں، آج کل پھر سے ہوا چلنے لگی ہے کہ خود کو ثابت کرو کہ اپ پاکستانی ہیں اور محب وطن ہیں۔ 9 مئی کو جو ملک میں ہوا وہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا اور اس کو کوئی بھی محب وطن بھلا نہیں سکتا، مگر ایک بات سمجھنے کی ہے کہ جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا وہاں پر ایک عوام کا ہجوم داخل ہوجاتا ہے اور وہ توڑ پھوڑ سمیت جناح ہاؤس کو آگ لگا لیتا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، یہاں تک کہ جو کور کمانڈر صاحب ہیں وہ ان لڑکوں سے بات چیت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس پوری صورتحال سے یہ ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس پوری صورتحال کو کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا کہ جو ہو رہا ہے وہ ہونے دیا جائے تاکہ ایک واضح گراؤنڈ بنا کر پی ٹی آئی کے خلاف ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے اور اس پر حکمران اور عسکری فورسز ایک پیج پر ہیں اور وہ ہی ہو رہا ہے جس جو پہلے طۂ ہو چکا ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے یا نہیں اس پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ تو سب کو پتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو کس نے بنایا اور اب کون اس کو مٹانا چاہتا ہے تو اس پر تو افسوس نہیں کرنا چاہیے ظاہر ہے مالکان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب بس مزید تحریک انصاف کو نہیں چلایا جاسکتا یہ ہی وجہ ہے کہ اب تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بری پارٹی بن گئی ہے مگر جو سوچنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر بھنگڑے ڈال رہی ہیں کہ تحریک انصاف ختم ہو رہی ہے اور اس سے لوگ روزانہ کی بنیاد پر چھوڑتے جا رہے ہیں۔
اس ملک میں پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کسی پارٹی پر پابندی لگانے کے لئے غور کیا گیا اور اور اس کے راہنماؤں اور کارکنان کو پارٹی چھوڑنے پر زور دیا گیا ہو اس سے پہلے ایم کیو ایم پر بھی یہ وقت آیا اور اس پر پابندی لگی مگر اور اس کے ایک دھڑے کو ایم کیو ایم لندن تو دوسرے کو ایم کیو ایم پاکستان بنا دیا گیا جن کارکنان اور رہنماؤں نے بانی ایم کیو ایم کو چھوڑا اس پر نام تبدیل کر کے ایم کیو ایم پاکستان بنا دیا گیا، اسی طرح سے بانی ایم کیو ایم کی سیاست زمین بوس ہو گئی۔
آج پھر سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وہ ہی ہو رہا ہے جو ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا، اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ جب تک بانی ایم کیو ایم ہمارے کرتا دھرتاؤں کے کام کا تھا تب تک وہ بہت ہی اچھا تھا جب اس نے اپنے آقاؤں کو آنکھ دکھانا شروع کر دیا تو پھر اس کو لگام ڈالی گئی اور اس کے ساتھ جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بھی آج وہ ہی ہو رہا ہے ریاست نے خود عمران خان کو بڑا لیڈر بنایا اور جب بڑے لیڈر نے ریاست کو ہی آنکھ دکھانی شروع کی تو پھر اس کی آنکھیں نکالنے کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔
2018 ع کے انتخابات کے بعد مسلسل افواج پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ سیاست سے تعلق نا ہونے کے باوجود ہو وہ ہی رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں، اس وقت ملک کی صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ڈالر ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور ہر چیز کی قیمتیں دگنی تگنی ہو گئی ہیں۔ ٹی وی چینلز دیکھو تو لگتا ہے کہ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے اگر باہر نکل کر دیکھو تو یہ تو صرف اور صرف ٹی وی پر انقلاب آ رہا ہے باقی تو عام عوام کو تو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے عام آدمی کو تو صرف اور صرف اپنا پیٹ پالنا ہے اور بس۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے والے معاملے پر سنجیدہ سے سوچیں کہ کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے کیوں کہ اگر پارٹی قیادت اور کچھ کارکنان نے جناح ہاؤس سمیت مختلف سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے تو ان پر مقدمات چلائے جائیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے باقی کسی سیاسی پارٹی پر پابندی لگانے سے اچھا امیج نہیں جاتا اور یہ تمام پارٹیز کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگی تو پھر دوسرا مرحلہ کسی اور پارٹی کا بھی آ سکتا ہے اس لئے حکمران ایسی کسی بھی بات پر آمادہ نا ہوں جو آئندہ دنوں میں ان کے لئے مشکلات پیدا ہو سکیں۔


