پاکستان کے امتحان اور عمران کے پاس موجود دو راستے


پاکستان آج کل کڑے امتحان کا سامنا کر رہا ہے ایک کے بعد ایک سخت اور مشکل ترین سوالوں کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پین ہاتھ میں پکڑا ہے سامنے سوالنامہ اور جوابی شیٹ پڑی ہے۔ ہفتے بھر کی محنت سے ایک سوال حل کیا جاتا ہے تو دوسرا اس سے بھی مشکل سوال نکل آتا ہے۔ جتنی اس نے تیاری کی تھی پیپر اس کی توقع سے بھی زیادہ مشکل نکلا ہے۔ نقل کرنے کے لئے درجنوں کتابیں سامنے پڑی ہیں لیکن کیا کریں پورا سوالنامہ پریکٹیکل پر مشتمل ہے۔

تمام سوالوں کے جوابات اپنے ہاتھوں سے اور ذہن کا بھرپور استعمال کر کے لکھنے ہیں ایک بھی سوال کا غلط جواب ہوا تو فیل ہونے کا سو فیصد چانس ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سوالنامہ بھی خود ہی تیار کیا ہوا ہے اس کو ہرگز توقع نہیں تھی میں خود ہی اتنے مشکل سوال شامل کر بیٹھوں گا۔ خیر جو بھی ہو اس پورے پرچے کو حل کرنے کے علاوہ چارہ بھی کوئی نہیں کیونکہ اگر کہی تھوڑی سی بھی غلطی کردی تو اگلے پانچ سال مزید انہی چکروں میں گزریں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں پاکستان کی فوج ہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی کمانڈ سے لے کر عام سپاہی تک سب میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ رہی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی مختصر سی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار عام شہریوں نے ان کے گھروں پر حملے کیے، ان کے فوجی شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی اور ان کے ہیڈ کواٹر پر دھاوا بولا۔ 9 اور 10 مئی کے بعد فوج کے حق میں مسلسل پورے ملک میں ریلیاں نکل رہی ہیں۔ حملے کرنے والے بھی عام شہری تھے جبکہ ان کے حق میں ریلیاں نکالنے والے بھی عام شہری ہیں۔

ان ریلیوں کی بدولت فوج کی کمانڈ اور جوانوں کا ڈاؤن مورال کچھ حد تک ہائی تو ہوا لیکن جو زخم ان کو مل چکے ہیں وہ اب اتنی جلدی بھرنے والے نہیں۔ گو کہ ان حملوں میں ملوث اکثر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن ان کے سرغنہ کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اگر عدلیہ کی بات کریں تو اس وقت عدلیہ بھی کٹہرے میں کھڑی ہے۔ کیا پہلے کبھی کسی نے سنا کہ کسی ملزم کو ایک دن میں لاہور ہائیکورٹ سے سنگین نوعیت کے 9 مقدمات اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے 8 مقدمات میں ایک ہی روز ضمانتیں ملی ہوں؟

پانچ سال سے نیب سیاسی شخصیات کو گھروں، سڑکوں، چوک چوراہوں اور عدالتوں کے احاطے سے گرفتار کر رہا ہے لیکن کسی عدالت نے نیب کے ملزم کو اگلے دن ہی رہا کرنے کا حکم نہیں دیا جبکہ سپریم کورٹ عمران خان کو اگلے دن ہی عدالت میں بلا کر رہا کرنے اور ایک رات کا شاہی مہمان بنانے کا بھی حکم دے دیتی ہے۔ جبکہ پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے تین مرتبہ سپریم کورٹ تاریخیں دے چکی ہیں آج تک اپنے حکم پر عملدرآمد نہیں کروا سکی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت 8 ججز کے خلاف ریفرنس جمع ہو جاتے ہیں جبکہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف اب تک 5 ریفرنس جمع ہوچکے ہیں اس کے باوجود ان ریفرنس کو سپریم جوڈیشل کمیشن میں نہیں بھیجا جاتا اور نہ سنا جاتا ہے۔ حکومت ججز سے متعلق آڈیو لیکس پر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیشن بناتی ہے ٹھیک دو دن بعد سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ صرف درخواست گزار کے وکیل کو سننے کے بعد اس کمیشن کو ہی کام کرنے سے روک دیتا ہے۔

سپریم کورٹ میں تقسیم در تقسیم واضح نظر آ رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے پندرہ ججز آپس میں بیٹھنے کو تیار نہیں اور نہ اپنے مسائل حل کرنے کو تیار ہیں تو ایسے میں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے 341 کے ایوان کو کیسے مذاکرات کرنے کا کہہ سکتی ہے۔ جبکہ پارلیمنٹ الگ سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے پاس کردہ بلز کو صدر منظور نہیں کر رہے جبکہ سپریم کورٹ پروسیجر ایکٹ جو ابھی ایکٹ بنا بھی نہیں تھا سپریم کورٹ اس پر حکم امتناع جاری کر دیتی ہے۔

پارلیمنٹ ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کروانے کی دو قراردادیں منظور کرچکی ہے لیکن پارلیمنٹ کی قراردادوں کی اہمیت کوئی نہیں رہ گئی۔ سپریم کورٹ کی سوئی ابھی بھی نوے دن میں الیکشن کروانے پر اڑی ہے جبکہ نوے دن عید الفطر والے دن کے گزر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ کا فلور صرف تقریریں کرنے اور بھڑاس نکالنے کے لئے رہ گیا ہے۔ فوج اور حکومت کی تمام جماعتیں 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دے چکی ہیں لیکن تاحال عمران خان پر اس حوالے سے کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ اور نہ اس ضمن میں ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ جبکہ ان کی جماعت کے مرکزی چہروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا کچھ پارٹی چھوڑ گئے ہیں کچھ تاحال چھوڑنے والوں کی لسٹ میں شامل ہیں۔ جبکہ معاشی میدان میں حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کی آخری قسط کا ہے جو بقول حکومت کے تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود جاری نہیں ہو رہی۔

بظاہر لگ رہا ہے امریکہ کی جانب سے آئی ایم ایف انتظامیہ پر دباؤ ہے۔ کیونکہ چین پاکستان کی مسلسل مالی مدد کر رہا ہے جو کہ امریکہ کو ناپسندیدہ ہے۔ امریکہ کسی صورت پاکستان کو اپنے چنگل سے نکلنے نہیں دینا چاہتا جبکہ چین پاکستان کو خود مختار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس وقت پاکستان معاشی طور پر دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان کو جلد فیصلہ کرنا ہو گا کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے بھی کب مستقل جان چھڑانی ہے۔ اگر مذاکرات کی بات کریں تو نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اس وقت عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے حامی نہیں جبکہ آصف زرداری مذاکرات کے حامی ہیں۔

جو کچھ عمران خان بطور وزیر اعظم تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ کے ساتھ سلوک روا رکھا اور جو کچھ 9 مئی والے دن فوج کے ساتھ کیا۔ اس کے بعد عمران خان کے لئے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اب عمران خان بند گلی میں نہیں بلکہ بند کمرے میں پھنس گئے ہیں جہاں سے نکلنے کے اب عمران خان کے پاس دو راستے ہی بچے ہیں، ایک وہ لندن اپنے بچوں کے پاس چلے جائیں، دوسرا وہ جیل چلے جائیں اپنے خلاف کیسز کا سامنا کریں اور جیل سے دوبارہ ہیرو بن کر باہر آئیں اور نئے سرے سے نئی سیاسی شروعات کریں۔

Facebook Comments HS