یوم تکبیر ”ایک تاریخ ساز دن“
مئی کا مہینہ آتے ہی دل کی عجیب سرشاری سی کیفیت ہو جاتی ہے پھر یوم تکبیر کا دن اتنا خوبصورت نام زیادہ دور کی بات نہیں ہے کہ جب برسہا برس سے پے درپے جانی، مالی، جذباتی، معاشرتی نقصانات سہتے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتے یکایک ایک دلیرانہ، قومی غیرت و حمیت سے بھرپور فیصلے نے پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔
بھارت کے ایک بار پھر ایٹمی دھماکوں نے جنوبی ایشیائی خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا تھا اس سے پہلے بھی بھارت 1974 میں ایٹمی دھماکے کر کے ہمیں خاصا پریشان کیا تھا اس بار اس کے طاقت کے غیر ضروری اعلان کو برداشت کرنا کسی بھی باوقار قوم کے لئے انتہائی مشکل بلکہ ناممکن تھا کیونکہ اس کے پیچھے بھارت کی دیرینہ گھناونی خواہش پاکستان پر ہر طرح کی مہم جوئی کرنا تھی چھپی ہوئی تھی وہ ہم پر مسلط ہونا چاہتا تھا یہ دھماکے اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ ہم پر مسلط ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اسے باور کرانا ضروری تھا کہ ہم ایک خود دار اور باوقار قوم ہیں اور اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ سرکاری سطح پر بھی اس بدمست ہاتھی کو یہ باور کرانا ضروری تھا کہ وہ صلاحیت جس کے بل بوتے پر اس قدر بے قابو ہو رہا ہے وہ اور اس سے بہترین صلاحیت ہمارے پاس بھی موجود ہے پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنا ضروری تھے جس کی کہ پوری دنیا اور خاص طور پر مقتدرہ قوتیں شدید مخالفت کر رہی تھیں سرکردہ اور چنیدہ ممالک پاکستان کو ملکی ترقی و خوشحالی کے نام پر بڑی بڑی امداد کی پیشکشیں کر رہے تھے تو کہیں سے ایٹمی دھماکوں کے بعد کی صورتحال سے خبردار کیا جا رہا تھا، سنگین اقتصادی، مالی مشکلات جھیلنے کی دھمکی بھی مل رہی تھی ان پابندیوں سے ڈرایا جا رہا تھا جو ہمیں ایٹمی قوت بننے کے بعد سزا کے طور پر ملیں گی ایسے میں قریبی دوست ممالک بھی حوصلہ افزا تعاون نہیں کر پا رہے تھے۔
ایک طرف معاملہ قومی و ملی غیرت و وقار کا تھا تو دوسری طرف ترقی پذیر ملک پاکستان کی معاشی بدحالی بھی سب پہ عیاں تھی ان حالات میں بھارت اپنی دیرینہ خواہش کو پوری کرنے کے لئے پر تول رہا تھا اب سرکاری و حکومتی سطح پر ایک اہم فیصلہ کیا گیا جو مسلم قوم کی تاریخ رہی ہے اس نے ہمیشہ کٹھن حالات میں اللہ ہی پر بھروسا کرتے تمام کشتیاں جلا کر اپنی جنگ کا آغاز کیا ہے اپنے قوت بازو اور ایمان کی طاقت پر بھروسا کر کہ بھارت کو با الخصوص اور پوری دنیا کو با العموم منہ توڑ جواب دیا یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا میں پہنچا دیا گیا کہ پاکستان کسی کے لئے بھی مہم جوئی کی جگہ نہیں بن سکتا اور ہم اپنے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی حفاظت خود بھرپور انداز میں کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور 28 مئی 1998 کو چار ایٹمی زیر زمین دھماکے کر ایٹمی قوت رکھنے والے ممالک میں اپنا نام لکھوا لیا اور اس طرح پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا۔
یہی وہ دن ہے کہ جب ہم نے ہر طرح کے بیرونی دباؤ کو نظر انداز کر کہ خالصتاً اپنے ملکی و قومی مفاد میں فیصلہ کیا اور اس دن کو تاریخی و یادگار دن بنا دیا تاریخ گواہ ہے کہ آنے سخت حالات میں بھی پاکستانیوں نے اپنی مدد آپ کے اصول کے مطابق اس ملک کی ترقی و کامیابی بھرپور کردار ادا کیا جسے ہر سطح پر سراہا گیا اور یہی ہماری کامیابی ہے۔

