سقراط پر شہوانیت کے الزام


سوفرونس کس ایتھنز کا مشہور سنگ تراش تھا۔ ایتھنز کی مشہور ترین عمارتیں اس کے فن کی بہترین نمائش کرتی نظر آتی تھیں۔ سوفرونس کس نفیس اور نازک کاموں کے لیے یونٹی لیکوس کے پہاڑوں کا سفید سنگ مرمر استعمال کرتا تھا۔ اس کے اوزار وہی تھے جو اس کے باپ دادا استعمال کرتے چلے آئے تھے۔ نوکیلے ہتھوڑے جن سے پتھر توڑنے کا کام لیا جاتا تھا۔ خم دار تیشے جن سے پتھر کی سطح ہموار کی جاتی تھی۔ یہ سارے سامان اس کی سنگ تراشی کے تھے

سقراط اپنے والد سوفرونس کس کو کام کرتے ہر روز غور سے دیکھتے تھے۔ چونکہ سقراط کی ذہن میں سوالوں کی انبار تھی وہ ہر چیز پر سوچتے تھے اور سوچنے کے بعد سوال کرتا۔ اس نے کئی بار اپنے والد سے یہی سوال دریافت کرتا کہ آپ کس طرح پتھروں سے شیروں کے مجسمے بناتے ہو۔ وہ بہت باتونی لڑکا تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ میری تعلق انسانوں سے ہیں اس وقت ہر بچوں کو اپنے خاندانی پیشہ اختیار کرنا تھا تو سقراط بھی سنگ تراشی کرنے لگے۔

اس نے بہت عرصے سنگ تراشی کی مندروں کے ستوں بنائیں، نقش و نگاروں کے دیکھنے کے لیے کئی لوگوں نے ان مندروں کی طرف اپنا رخ کیا تو جہاں سقراط کام کر رہا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات وہ ایشائے کوچک کا رہنے والا بوڑھا شخص فیثا غورث سے ہوئی جو ایتھنز کے بازاروں میں اس کی نظریات کا خوب چرچا ہونے لگا۔ فیثا غورث نے جب یہ نظریہ پیش کیا کہ آسمان پر پتھر ہیں دیوتا نہیں تو اس کے خلاف مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

اس نے کہا تھا کہ سورج کوئی دیوتا نہیں بلکہ چمکتی ہوئی دھات کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس نے اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ چاند مٹی کا بنا ہوا ہے اور اس میں روشنی نہیں ہے بلکہ اس پر سورج کی روشنی اپنا عکس ڈالتی ہے جس سے وہ چمکتا ہے چاند میں پہاڑ اور وادیاں ہیں اور شاہد لوگ بھی آباد ہیں۔ اس نظریہ کے خلاف پورا یونان فیثا کے دشمن بن گئے

یاد رکھیں اس وقت ہر چیز انسان کو حیرت میں ڈالتی تو اسے دیوتا تصور کرتا تھا۔ ایتھنز کے لوگ باتوں کے بہت شوقین تھے۔ بازاروں میں، ورزش گاہوں میں اور محفلوں میں ہر طرف باتیں ہی باتیں تھیں۔ کھیل، سیاست، جنگ و امن ہر موضوع پر باتیں ہی باتیں تو سقراط بھی زیادہ باتیں کرتے تھے جن کی وجہ سے زیادہ لوگ، خاص کر نوجوانوں کی اکثریت تھیں۔ سقراط نے کہا تھا کہ مجھے جہل کی تاریکی سے نفرت ہے، نیکی کے صاف اور روشن ادراک سے محبت ہے اسی لیے سورج کی روشنی سے محبت ہے۔ بعد میں اس کے ایک شاگرد افلاطون نے نیکی کے تصور کو بیان کرنے کے لیے سورج کی علامت استعمال کی تھی۔

سقراط نے اسپارٹا کے خلاف جنگ بھی لڑی۔ اس کی تربیت اس طرح بنی کہ ایک دن کسی دوست کے پاس اسے فیثا غورث کی کتاب ملی جو بہت کاغذوں کی شکل میں تھی۔ اسے پڑھ کر اس کے بہت سارے سوالوں کے جواب ملیں لیکن جستجو ابھی بھی باقی تھی۔

اس کے پاس آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوان لڑکوں کی تھی کیونکہ نئے لوگوں کو نئی باتیں سیکھنے کا زیادہ شوق ہوتا ہے تو سقراط کے مخالف لوگوں نے الزام لگایا کہ سقراط لوگوں کو دیوتاؤں کے خلاف اکسایا جا رہا ہے اور لڑکوں سے غلط تعلق رکھے ہوئے ہے۔ سقراط پر فحاشی پھیلانے کا الزام لگنے لگا۔

بقول سقراط ”جب لوگ ایک دوسرے کے حسن باطن کو دیکھ کر دوستی کرتے ہیں تو حقیقی دوستی وجود میں آتی ہے۔ تو لوگوں کو اچھے گھوڑے، کتے اور پالی کے مرغے دیکھ کر مسرت ہوتی ہے لیکن مجھے اچھے دوستوں سے مل کر زیادہ مسرت ہوتی ہے۔ اگر مجھے کوئی اچھی چیز معلوم ہوتی ہے تو میں اپنے دوستوں کو بتا دیتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کچھ نیکیاں حاصل کرسکیں گے۔ میں سائنس دانوں کی طرح سورج، چاند، ستاروں کی بات نہیں کرتا۔ انسانوں سے انسانوں کی بات کرتا ہوں میری جستجو ان اشیا کی تلاش ہے جن کا تعلق انسانوں سے ہے۔

سقراط پر شہوانیت کے الزام بہت لگے حتی کہ وہ فحاشی اور جوانوں کو گمراہ کرنے کے الزام پر جیل ہوئی، اس کو قانون پر اعتبار تھا اس لیے وہ جبین تھام کر ان الزامات کا دفاع کرنے کو کھڑا ہوا تھا۔ دوسری بات کہ وہ ایک ضدی شخص تھا موت کے حوالے سے اس کا تاریخی جملہ یہ تھا ”موت مری یا کسی اور کی زندگی کے ختم ہونے سے عبارت نہیں“ ۔

ابھی باتیں ہو رہی تھیں کہ جیلر موت کا پیغام لے کر آ گیا۔ ایک آدمی زہر کا پیالہ لایا تو سقراط نے نہایت جرات سے پیالہ ہاتھ میں لیا۔ اور کہا ”میرا اس دنیا سے سفر سعادت کا سفر ہو یہی میری دعا ہے“ اس نے دعا کی اور زہر کا پیالہ ہونٹوں سے لگا لیا۔ اور اپنی بچپن کے دوست سے آخری بات کی۔

” کرائٹو ہم پر واجب ہے کہ ایک مرغ شفا کے دیوتا کے نام پر قربان کریں۔ کیا تم میری طرف سے یہ قربانی کر دو گے؟ دیکھو بھولنا مت“ پھر سقراط گہری نیند میں چلی گئی۔

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d