اقوام متحدہ، مسئلہ کشمیر کیوں حل نہ کرا سکی؟


پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد لیگ آف نیشنز کا وجود عمل میں آیا تھا تاکہ انسان کو مزید جنگوں سے بچا کر امن کی چھتری کے نیچے محفوظ رکھا جا سکے لیکن لیگ آف نیشنز کا یہ ادارہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ جس کے نتیجہ میں کچھ ہی سالوں بعد جنگ عظم دوم دنیا پر مسلط ہو گئی۔ اس جنگ کی بدولت عظیم تباہی و بربادی اور انسانی ہلاکتوں کی نئی سیاہ تاریخ رقم ہوئی۔ سب کچھ برباد کرنے کے بعد اس وقت کے عالمی راہنماؤں کے اندر ایک نیا عالمی ادارہ قائم کرنے کی خواہش نے پھر جنم لیا۔

ایسا ادارہ جو مستقبل میں ایسی ہولناک جنگوں کو نہ صرف روک سکے بلکہ امن کے قیام میں کلیدی کردار کرسکے۔ بالآخر اکتوبر 1945 میں ”اقوام متحدہ“ کے نام سے ایسا عالمی ادارہ معرض وجود میں آ گیا جس کے ممبران ممالک کی تعداد بتدریج بڑھتی گئی اور آج کل دو صد لے لگ بھگ ممالک اس کے ممبرز ہیں۔ انسان کی خوش قسمتی کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اب تک تیسری جنگ عظیم تو نہ ہوئی لیکن دنیا کے مختلف خطے جنگوں کی زد میں ضرور رہے اور آج بھی ہیں۔

گویا مکمل عالمی امن کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے تقریباً دو سال بعد 1947 میں جنوبی ایشیا میں دو نئے ممالک معرض وجود میں آئے ان میں ایک پاکستان تھا اور دوسرا بھارت۔ خطے کی تقسیم کے وقت ہی ایک ایسے مسئلہ نے بھی جنم لیا تھا جو اب تک دو بار انہی دو ممالک کے درمیان جنگ کا باعث بن چکا ہے اور دہائیوں سے اب کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اقوم متحدہ کے قیام کے تین سال بعد ہی مسئلہ کشمیر ٹیسٹ کیس کے طور پر عالمی ادارہ کی میز پر پہنچ گیا تھا اور آج تک یہ اسی میز پر موجود ہے۔

قیام کے بعد سے اب تک 8 ایک سے ایک بڑھ کر ذہین تدبر و فراست سے بھرپور جنرل سیکرٹری آئے اور چلے گئے لیکن کسی کے دور میں بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا۔ اس وقت نویں سیکرٹری جنرل 2017 سے نوکری کر رہے ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ ایشیا سے تعلق رکھنے والے واحد جنرل سیکرٹری U Thantکا تعلق برما (موجودہ Myanmar) سے تھا جو 1961۔ 71 تک اقوم متحدہ کے جنرل سیکرٹری رہے لیکن وہ بھی ایشیا کا یہ مسئلہ حل نہ کرا سکے تھے۔

آج انہی کا اپنا ملک بھی نشان عبرت بن چکا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی سرد مہری کو دیکھتے ہوئے آج کے دور کا سبق جو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ غریب انسان ہو یا غریب ملک ہو، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہی تلخ حقیقت ہے۔ اپنی بات منوانی ہے تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ معاشی و اقتصادی طور پر طاقتور ہونا لازم ہے۔ انصاف اور ذمہ داری کا تقاضا یہی تھا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کے لئے اپنی کوششیں ترک نہ کرتا بلکہ جاری رکھتا۔

بالفرض اگر دونوں ممالک کے آپس کے کشیدہ تعلقات کے باعث مفاہمت کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی تو بھی مقبوضہ کشمیریوں کے مصائب کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ انسانی حقوق کے معاملات بھی تھے اور امن کی بات بھی تھی۔ لیکن کسی نے کشمیریوں کے زخموں پر مرہم نہ رکھی، اور ظلم و ستم کا بازار گرم رہا۔ اقوام متحدہ کے اداروں کو قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے چاہیں تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ 1948 میں اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی اپنی قرار دادیں بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے لئے بنائے گئے کمیشن کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے کشمیر کے حل سے متعلق عالمی ادارہ کی ہر تجاویز کا خیر مقدم کیا تھا لیکن پھر بھی اس کے مثبت نتائج برآمد نہ ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا بطور ممبر اقوام متحدہ کے ساتھ شروع ہی سے تعاون مثالی رہا اور اس کے منصوبوں میں عملی طور پر بھرپور شراکت داری کی ہے۔ آزادی کے ایک ماہ بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی ممبرشپ حاصل کر لی تھی۔

اس کے بعد 1960 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ بنا اور آج تک ہے اور ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اور 25 سے زائد ممالک میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستانی فوج نے ہر دور حکومت میں خدمات سرانجام دیں اور فوجی افسران اور جوانوں کی ایک بڑی تعداد مشن منصوبوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی آواز کو کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو۔

اقوام متحدہ یہی نہیں سمجھ سکا کہ مسئلہ کشمیر بھی امن اور انسانی حقوق سے متعلق ایک عالمی مسئلہ ہے۔ وہاں ہونے والے مظالم کسی سے اوجھل نہیں ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی تھی کہ یہاں بھی اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ سرد مہری روا رکھنے کے نتیجہ میں اس کے حل میں جو گرمجوشی ابتدائی سالوں میں ملتی ہے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دم توڑتی رہی اور اب مکمل طور پر عالمی سیاست کی نذر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

عالمی سطح پر بڑی معاشی و اقتصادی طاقتوں کے درمیان جس طرح کی مقابلہ بازی اور چپقلش چل رہی ہے اس کے اثرات سے مسئلہ کشمیر بھی محفوظ نہیں رہا۔ اس کا ایک ثبوت اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ پر پراسرار عالمی خاموشی ہے۔ اقتصادی طور پر امیر ترین ممالک کا جی سیون ممالک کا گروہ ہو یا جی ٹونٹی کا گروپ، سبھی نے اپنے اپنے مفادات کا جال بچھا رکھا ہے۔ بھارت کو ان گروپس میں بطور مبصر شامل کر کے غیر علانیہ طور پر مسئلہ کشمیر پر اس کی مدد کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں جی ٹونٹی سربراہی کانفرنس کی تیاریوں کی غرض سے سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ایک میٹنگ سری نگر میں منعقد ہوئی اس پر پاکستان کا رد عمل بھی سامنے آ چکا تھا اور اس نے اس کی بھرپور مذمت کی تھی۔ اب ستمبر میں جی ٹونٹی ممالک کے سربراہان کی سالانہ میٹنگ مقبوضہ کشمیر میں ہونے کی بازگشت سنی جا رہی ہے۔ چین اور دیگر چند ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود اگر یہ سربراہی میٹنگ مقبوضہ کشمیر میں منعقد ہوتی ہے تو پھر یہ مسئلہ کشمیر پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی جانب سے ایک خاموش پیغام ہو گا۔

Facebook Comments HS