دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت و نگہداشت خطروں سے دوچار کیوں؟

بچے ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ جملہ کثرت سے جملہ ارباب اقتدار کی طرف سے بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن عملی طور دنیا بھر میں ایسا نہیں ہے۔ بچے قیمتی اثاثہ ہیں، یہ اب محض کاغذوں کے اندر لکھی گئی رپورٹس اور بیانوں تک ہی محدود رہ چکا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس قیمتی اثاثہ کا اب دنیا بھر میں کوئی پرسان حال نہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 30 فیصد حصہ ہیں۔

Read more

جرمنی کی بدلتی سیاست پر ایک نظر

جرمن صدر والٹر شٹائن نے 27 دسمبر جمعہ کے دن وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں کو تحلیل کر دیا۔ اب اگلے نئے عام انتخابات 23 فروری 2025 کو ہوں گے۔ اس موقع پر صدر نے مزید یہ کہا کہ ”موجودہ حالات میں ملک کو مستحکم پارلیمان میں اکثریت کی حامل حکومت چاہیے“ ۔ جرمن صدر نے اس ایک ہی جملے میں جرمن شہریوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں تاکہ

Read more

محمدرفیع کا 100 واں یوم پیدائش

  عظیم گلوکار محمد رفیع کا 100 واں یوم پیدائش 24 دسمبر 2024 کو ہے۔ محمد رفیع آج ہی کے دن سو سال قبل 1924 کو امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد رفیع کا لاہور سے بھی تعلق رہا ہے جہاں انہوں نے بھاٹی دروازہ کے محلہ چومالہ میں لڑکپن کے دن گزارے تھے۔ محمد رفیع گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے جن کی مدھ بھری آواز اپنے

Read more

میرے ابو کہاں ہے؟ کوئی ہے جو جواب دے سکے

جناب آصف علی زرداری آج کل دوسری بار صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہیں۔ جب پہلی بار صدر مملکت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے تو اسی دوران بحیثیت صدر پاکستان ان کا ایک بیان یوم آزادی کے موقع پر ایوان صدر سے جاری کیا تھا جو قومی اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ نوائے وقت نے اس بیان سے جو شہ سرخی لگائی تھی وہ کچھ یوں تھی کہ ”پاکستان کو ملائیت کی ریاست بنانے کی ہر کوشش مسترد

Read more

انسانی حقوق کا عالمی دن اور عالمی منشور کا تاریخی پس منظر

10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی منشور یعنی یونیورسل ڈیکلریشنUDHR کے منظور کیے جانے کے 76 سال پورے ہو رہے ہیں۔ اس عظیم اعلامیہ کی اہمیت آج بھی نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس پر عمل داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے انسانوں کے سماجی، سیاسی، مذہبی، معاشی، ثقافتی اور شہری حقوق پر مشتمل یہ منفرد دستاویز آج بھی اقوام عالم کی توجہ کی منتظر ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں

Read more

لاہور، ماضی و حال کے آئینے میں

لاہور پاکستان کا دوسرا اور دنیا کا اٹھارہواں بڑا شہر ہے۔ اس کو کالجوں کا شہر، پھولوں کا شہر، پارکوں کا شہر، داتا کی نگری، اور پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس کو دیکھنے کی تمنا ہر پاکستانی کو رہتی ہے کیونکہ اس شہر میں دیکھنے اور کھانے کو اتنا کچھ ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے بس جیب بہت بھاری ہونی چاہیے۔ اتوار اور چھٹی والے دن تگڑا ناشتہ اور دوپہر

Read more

ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر: مساوی شہری حقوق کا عظیم علمبردار

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے انتقال کو نصف صدی ( 56 سال) بیت چکی ہے لیکن اس کا نام تاریخ میں آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ وہ صرف 39 سال زندہ رہے تھے، اگر تعلیم کا عرصہ بھی نکال دیا جائے تو باقی عرصہ بہت مختصر بچتا ہے لیکن اس قلیل مدت میں بھی انہوں نے امریکہ کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ ان کی وجہ شہرت مساوی انسانی و شہری حقوق اور نسلی مساوات کے

Read more

سیاسی حماقتیں اور سماجی ڈھانچے کی ٹوٹ پھوٹ

16 نومبر کو دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان کا پتہ نہیں کیونکہ یہاں سنہری اصولوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ اصولوں کا تعلق دین سے ہو یا جمہوریت سے، کچھ لینا دینا نہیں۔ کیوں کہ جس مزاج کی سوچ عوام الناس پر مسلط ہو چکی ہے یا ماضی میں بھی مسلط رہی ہے، ان سبھی کا اصولوں کی پاسداری سے کچھ غرض نہیں تھی لہذا ان کی پاسداری ارباب اقتدار ضروری نہیں سمجھتے۔

Read more

بھارتی انتخابات کا ایک ”آزادانہ“ جائزہ

ہمارے پڑوس میں بھارت نام کا ایک ملک موجود ہے۔ 1965 کی لڑائی ہونے تک دونوں ممالک جڑواں بچوں کی طرح رہا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے لیکن اب ایسا ویسا کچھ نہیں رہا۔ بھارت نے گزشتہ سال 2023 میں پڑوسی ملک چین سے دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کا اعزاز چھینا تھا اور اسی اعزاز کے ساتھ پہلے عام انتخابات 2024 منعقد ہوئے۔ ان انتخابات کو 1951۔ 52 میں

Read more

خود نوشت، ”ریاض نامہ“ پر ایک نظر

آپ ملک کے اندر ہوں یا باہر، یادوں سے چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب گزرے شب و روز ”یادیں“ بن جاتی ہیں۔ ان یادوں کے بہت سے کردار بھی ہوتے ہیں کچھ زندہ ہوتے ہیں اور کچھ گزر گئے ہوتے ہیں۔ کچھ قریب ہوتے ہیں، کچھ ہزاروں میل دور ہوتے ہیں۔ بقول شاعر، ہر طرف یوں تیری یادوں کا دھواں ہوتا ہے تیری دوری میں بھی قربت کا گماں

Read more

آزادی صحافت کا عالمی دن

ہر سال تین مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ابتداء اقوام متحدہ کی ایماء پر آج ہی کے دن تین مئی 1993 کو ہوئی تھی۔ اس طرح سال رواں میں یہ اکتیسواں عالمی یوم آزادی صحافت ہے۔ اس دن سے پہلے شاید صحافت اور قلم کی اتنی بری حالت نہ ہو جتنی اب 1993 کے بعد ہو چکی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے کبھی یہ دن منایا بھی نہیں جاتا تھا۔

Read more

ڈاکٹر حبیب الرحمان کا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“

محترم ڈاکٹر حبیب الرحمان مقیم کینیڈا کا نیا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“ کے نام سے پی ڈی ایف فارمیٹ میں ایک سانجھے دوست ندیم احمد مرزا مقیم انگلستان کی توسط سے وصول ہوا۔ ندیم صاحب شکریہ کے حقدار ہیں کہ انہوں نے ایک بہترین شاعر کی تخلیقات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ چونکہ ادب و شاعری سے اتنا تعلق تو ہے کہ پڑھتا بھی ہوں، سنتا بھی ہوں۔ لاہور میں اور جرمنی میں متعدد مشاعروں میں شرکت بھی

Read more

پاکستانی نوجوان کیا سوچتے ہیں؟

دور حاضر میں نوجوانوں کی اہمیت اور ضرورت مسلمہ ہے۔ یہ طبقہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہی طبقہ بے راہ روی کی نذر ہو جائے تو ملک اور معاشرے کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے اور وہ یقینی طور پر دوسروں کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے ریڑھ کی ہڈی ناکارہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان کی ساتویں مردم شماری 2023 کے مطابق پاکستان

Read more

چھاپہ خانے کے موجد جوہن گٹن برگ میوزیم کی یاترا

جرمن کی سرزمین کو اگر ایجادات اور دریافتوں کی سرزمیں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا کے بیشتر اہم ترین ایجادات اور دریافتوں میں اس عظیم جرمن قوم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ علم دوستی اور تحقیق کے پاگل پن میں اس قوم کی کوئی انتہا نہیں دکھائی دیتی۔ یہ قوم صدیوں پہلے بھی علم کی پیاس بجھانے کی پیاسی تھی اور آج بھی تحقیق میں پیش پیش ہے۔ دنیا کی سب سے قدیم اور شاید اولین

Read more

اللہ پاکستان پر رحم اور فضل فرمائے

بد قسمتی سے اندرونی اور بیرونی سازشوں میں گھرے پاکستان سے کوئی اچھی، خوشگوار اور ہونٹوں پر مسکان لانے والی خبریں کانوں تک نہیں پہنچتیں جبکہ حیرت سے آنکھیں کھول دینے والی خبروں کی کوئی کمی نہیں۔ روز ہی ایک سے بڑھ کر ایک پریشان کن خبر ملتی ہے۔ اب تک انڈیا کے بارڈرز کے حوالے سے دہائیوں تک سیاسی فوائد سمیٹے گئے۔ اب افغانستان کے سرحدی علاقوں پر ”چھیڑ خانی“ شروع ہو چکی ہے۔ دور حاضر میں دوست ممالک

Read more

نیو دہلی جی 20 کانفرنس، ایک آزادانہ جائزہ

پڑوسی ملک بھارت میں جی ٹونٹی گروپ ممالک کے سربراہان کی اٹھارہویں کانفرنس حال ہی میں منعقد ہوئی ہے۔ گروپ کے ممالک میں امریکہ، چین، روس، انڈیا، ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکیہ، برطانیہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ روس چین کے صدور نے شرکت نہیں کی لیکن ان ممالک کی نمائندگی تھی۔ دونوں صدور کی کمی کو کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔ اس گروپ کی خاصیت یہ ہے

Read more

جب میں نے دیوار برلن کو دیکھا

برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ دو بار برلن کی یاترا ہوئی لیکن دیوار برلن دیکھنے سے محروم رہا تھا۔ تیسری بار کامیابی ہوئی اور دیوار برلن کے سائے کچھ وقت گزرا۔ پہلی بار برلن یاترا میں دیوار برلن کا میوزیم ضرور دیکھا تھا جس میں دیوار کی اشیاء اور تاریخ دیکھنے کو ملیں۔ ان تصاویر میں دیوار برلن کی تعمیر اور منہدم ہونے کے مناظر کو دکھایا گیا تھا۔ اسی

Read more

بھارت چاند پر پہنچ گیا، ہم کیوں نہ پہنچ سکے؟

ہمارا پڑوسی ملک بالآخر تیسری کوشش میں چاند پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ بھارتی خلائی مشن چندریان 3 نے چاند کے جنوب قطب کے اس مقام پر لینڈ کیا جہاں ابھی تک دنیا کا کوئی اور ملک نہ پہنچ سکا ہے اور یوں امریکہ، چین اور روس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر کامیاب لینڈنگ کے لئے سکولوں اور بھارت بھر میں وسیع پیمانے پر خصوصی پوجا کی گئی تھی۔ بھارتی مسلمانوں کی جانب

Read more

APPS یورپ کے بانی و صدر ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد

جولائی 2021 میں خاکسار پر انفیکشن کی شکل میں بیماری نے اچانک حملہ کیا تھا۔ تین ہفتے ہسپتال میں گزارے جو کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔ گھر پہنچ کر بھی کئی ماہ بستر تک ہی محدود رہا تھا۔ اللہ کے فضل اور پیاروں کی دعاؤں سے چلنے پھرنے والی شفایابی ملی لیکن بیماری اپنے پیچھے کچھ ایسے اثرات چھوڑ گئی کہ موسمی احتیاط لازم ہو گئی۔ اسی عرصہ میں اندازہ ہوا کہ ”تندرستی ہزار نعمت ہے“ والی کوئی

Read more

بڑھتا ہوا گھریلو تشدد

سوسائٹی کے اندر پھیلی دیگر سماجی برائیوں میں ایک ”تشدد“ بھی ہے۔ قانون اور نظام کے بانجھ ہو جانے کے بعد ہمارا معاشرہ تشدد کی ایسی آماج گاہ بن چکا ہے جہاں ہر طرح کا تشدد تسلسل کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی تشدد کا ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جو پہلے کی نسبت زیادہ لرزہ خیز ہوتا ہے۔ تشدد، جنسی تشدد، اجتماعی عوامی تشدد کے بعد اب گھریلو تشدد میں خطرناک اضافہ ہو چکا

Read more

دیسی کتے بمقابلہ ولائتی کتے

کتا ایک ایک وفادار جانور ہے اور اس کی وفاداری ضرب المثل ہے اور یہ بھی انسانوں کی طرح دنیا کے ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔ وفاداری ”کتے کی خاص پہچان ہے لیکن یہ اب انسانوں میں ناپید ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں انسان کی حالت ابتر ہو رہی ہے وہیں جانور بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان میں کتوں کی حالت سب سے پتلی ہے۔ اس خطے کے کتے جو دیسی کتے کہلاتے ہیں ان کی شہروں گلی محلوں

Read more

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی خوش آئند ٹویٹ

پاکستان کے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک ٹویٹ کے ذریعے احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ Ahmadiyyas are citizens of Pakistan and are entitled to protection by the Govt۔ Open vandalism against their homes, graveyards and businesses must be stopped by the district administration۔ No one has the authority to perpetuate violence against any citizen with impunity۔ یہ ایک خوش آئند ٹویٹ ہے جس میں

Read more

ڈبل ڈیکر بس کے سفر کی یادیں اور باتیں

لاہور سے وابستہ بچپن کی یادوں میں ایک یاد ڈبل ڈیکر بس کا سفر ہے، جو نہیں بھولتا اور آج بھی یاد ہے۔ دس، بارہ سال کی عمر میں جب اپنے والد گرامی احمد علی سراج صاحب کے ساتھ سیر کو کہیں جانا ہوتا تو دو منزلہ بس میں بیٹھنا ہے، کی فرمائش اور کبھی ضد ہوا کرتی تھی۔ یہ بات ساٹھ کی دہائی کے اختتام اور ستر کی دہائی کے شروع کی بات ہے۔ ان دنوں یہ دو منزلہ

Read more

برلن کے تین پاکستانی قلمی شہسوار

برلن شہر میں 180 سے زائد اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اس طرح یہ شہر ملٹی نیشنز افراد کا مرکز بھی ہے ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں جن کا تعلق پاکستان کے تمام صوبوں کے مختلف شہروں سے ہے۔ یہاں مقیم پاکستانیوں میں ایک تعداد وہ ہے جو 1980 کی دہائی میں تعلیم کے لئے جرمنی آئی تھی اور تعلیم مکمل کر کے پھر یہیں مستقل قیام کر لیا تھا۔ انہی طالب علموں میں ایک سرور

Read more

جمہوریت کے نام پر ظلم کا راج

لک چھپ جانا، مکئی دا دانا، راجے دی بیٹی آئی جے۔ یہ وہ کھیل ہے جو بچپن میں گلی محلے کے بچے مل جل کر پارکوں اور کھیل کے میدانوں میں کھیلا کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اب یہی کھیل رنگ ڈھنگ بدل کر پارلیمان کے اندر کھیلا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ رہا کہ اب راجے کی جگہ سیاست دان نے لے لی ہے۔ کبھی کسی سیاست دان کا بیٹا اور کبھی کسی کی بیٹی راج کرتی ہے۔ ماضی

Read more

جرمنی میں تارکین وطن کے لئے ”پوائنٹ سسٹم“ پر مبنی نئے قانون کی منظوری

جرمن کی پارلیمان نے گزشتہ جمعہ 23 جون کو کثرت رائے سے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے مطابق موجودہ قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے مجوزہ نئے قانون میں اب کینیڈا کی طرز کا پوائنٹس سسٹم متعارف کرایا جائے گا جس کی بنیاد عمر، تعلیمی یا ٹیکنیکل مہارت اور جرمنی سے تعلق کی بنیاد پر ہو گی۔ اس کے علاوہ مجوزہ نئے قانون میں تعلیمی قابلیت اور جرمن زبان کی مہارت میں بھی نرمی کا ذکر بھی

Read more

کیا اس دور میں اکثریت، اقلیت کے امتیاز کی گنجائش ہے؟

آج کی دنیا جس دور میں داخل ہو چکی ہے وہاں ”اکثریت“ اور ”اقلیت“ کے کسی تصور کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔ یہ نظریہ اب باطل اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ معاشی طاقت اور ٹیکنالوجی میں برتری نے لے لی ہے۔ آج کے دور میں ہم وطن شہری ہی نہیں بلکہ تارکین وطن بھی اقوام کی تعمیر ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ آج

Read more

اقوام متحدہ، مسئلہ کشمیر کیوں حل نہ کرا سکی؟

پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد لیگ آف نیشنز کا وجود عمل میں آیا تھا تاکہ انسان کو مزید جنگوں سے بچا کر امن کی چھتری کے نیچے محفوظ رکھا جا سکے لیکن لیگ آف نیشنز کا یہ ادارہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ جس کے نتیجہ میں کچھ ہی سالوں بعد جنگ عظم دوم دنیا پر مسلط ہو گئی۔ اس جنگ کی بدولت عظیم تباہی و بربادی اور انسانی ہلاکتوں کی نئی سیاہ تاریخ رقم ہوئی۔ سب کچھ

Read more

کیا اسی لئے ”پاکستان“ حاصل کیا تھا؟

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدائی برسوں میں ہی ”جیو اور جینے دو “ کی بات دفن کر کے لاٹھی پکڑ لی گئی تھی اور سب کو ہانکنا شروع کر دیا گیا تھا۔ اس ملک کو اپنا ”ملک“ سمجھ کر نہ پہلے چلایا گیا نہ اب چلایا جا رہا ہے۔ بلکہ ایک لیبارٹری بنا رکھا ہے۔ مصنوعی سیاست دان اور مصنوعی سیاسی جماعتیں لیبارٹری میں تیار کر کے کچھ عرصہ ان کو چلانے کے بعد بعد ازاں سب کو مختلف

Read more

پاکستان کی ضرورت۔ ایک قومی نظریہ

1945 میں جب دوسری جنگ عظیم بند ہوئی تب برلن چار حصوں میں جبکہ جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ سڑکیں، عمارتیں، بجلی، پانی، نکاس غرض ہر وہ سسٹم جس کا انسانی زندگی سے تعلق تھا وہ تباہ ہو چکا تھا۔ انسانی زندگی قابل رحم تھی۔ ہسپتالوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھی۔ اتحادیوں جہازوں نے جرمن کے شہروں پر آگ کے گولے بارش کے قطروں کی ماند پھینکے تھے۔

Read more

خالد حمید فاروقی کا ذکر خیر

28 جنوری 2017 کی ایک انتہائی سرد دن تھا اور صبح کے تقریباً چار بج رہے تھے جب ہم نے جرمنی سے بلجیم کے لئے سفر شروع کیا۔ ہماری منزل ”برسلز“ تھی۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بج رہے تھے جب ہم برسلز میں داخل ہوئے۔ برسلز یورپی یونین کا اور نیٹو کا ہیڈ کوارٹر ہے اور اس بارے بہت کچھ سن چکا تھا اور دیکھنے کی شدید خواہش تھی جو آج پوری ہو رہی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی بلند

Read more

سر گنگا رام، لالہ میلہ رام اور مشرق وسطیٰ کے مغل بادشاہ

کچھ ہفتہ پہلے کویت کے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری۔ اس خبر نے نہ چونکا دیا بلکہ کچھ سوچنے پر مجبور بھی کیا اور جس کے نتیجہ میں اس کالم کے لکھنے کی طرف رغبت ہوئی۔ خبر کے مطابق کویت نے دوبئی کے سب سے بلند و بالا ٹاور ”برج الخلیفہ“ جس کی بلندی اس وقت 828 میٹر ہے کے مقابلہ پر زیادہ بلند عمارت نما ٹاور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بلندی 1001 میٹر

Read more

” بہترین مخلوق“ کدھر ہے؟

آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہمارے سامنے ان تعلیمات کے بالکل برعکس معاملات زندگی موجود ہیں، جیسا کہ ہم نے دوران تعلیم پڑھا اور پڑھایا گیا تھا۔ ہم نے پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ”بہترین مخلوق“ کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا ہے۔ یہ ارشاد جھوٹ نہیں ہے۔ لیکن یہ بہترین مخلوق ہے کہاں؟ کون سے سیارے پر بستی ہے؟ اس کے بعد ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ اس انسانی جان

Read more

مفت آٹا اور کافر مینار

سال رواں 2023 سیاسی، معاشی، سماجی اور عدالتی بحران کے حوالے سے تاریخ پاکستان میں ایک بدترین سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اسی سال پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی بھی منائی گئی لیکن اس کی خوشی عدلیہ پارلیمنٹ کے درمیان جاری گھمسان کی جنگ کی نذر ہو گئی۔ کسی بھی ملک کی سپریم کورٹ سب سے بڑی ملکی عدالت اور پارلیمنٹ سب سے بڑا جمہوری ادارہ ہوتا ہے اور ملک کا مستقبل انہی دو سے وابستہ ہوتا ہے۔ لیکن سال رواں میں ہمارے ہاں اب تک جو کچھ ہوا ہے اس کے باعث یہ ماننا چنداں مشکل نہیں رہا کہ ایک طرف عدل نہیں رہا تو دوسری طرف جمہوریت بالکل ہی نہیں رہی۔ دونوں فریقین ماضی کے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ معتبر ترین اداروں کی اس قسم کی ذلت اور رسوائی کسی بھی گئے گزرے ملک میں نہ دیکھی گئی نہ سنی گئی۔ ابھی کچھ پتہ نہیں کہ آگے مزید کیا ہونے جا رہا ہے؟

Read more

جرمنی میں ”Skilledلیبر امیگریشن قانون“ کی منظوری

جرمنی جیسے بڑی معاشی و اقتصادی طاقت کو کئی سال سے ہنرمند افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔ جرمنی نے 2015 اور پھر 2022 میں لاکھوں مہاجرین کو جرمنی میں آباد کیا، تاہم ابھی تک ہنر مند اور لیبر افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں ایک وجہ جرمنی کے اندر نوجوانوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد ہے۔ گزشتہ سال کی دفتر شماریات کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی کل

Read more

پاکستانی آئین سے کھلواڑ اور ترامیم کی ہوشربا داستان

کسی بھی ملک کا آئین ایک ایسی دستاویز ہوتی ہیں جس میں ریاست کو چلانے کے طریق کار وضع کیے ہوتے ہیں۔ یہی پہلی اینٹ ہوتی ہے جس پر ریاست کی پوری عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی تیاری اور منظوری حقیقت میں کسی بھی ریاست کے مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ اسی آئین کے مطابق ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور مساوی حقوق کا تعین ہوتا

Read more

انسانوں اور زبانوں کی جرمنی کی طرف ہجرت

سال رواں میں ناچیز کو جرمنی پہنچے ہوئے دس سال ہو رہے ہیں۔ اس دوران ہونے والے مشاہدات کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس میں جرمن کی زبان سر فہرست رہی۔ اس کی اہمیت اور ضرورت دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جرمنی میں جانا ایک نئی دنیا میں جانے کے مترادف ہے۔ اگر آپ نے انگریزی میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے تو جرمنی میں پہنچ

Read more

کھلے تضاد اور امتیازات سے بھرا معاشرہ

عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایک انسان کی زندگی کے رہن سہن میں توازن نہ ہو اور اسی طرح کسی ریاست کی پالیسیوں میں ”مساوات اور عدل“ نہ ہو تو دونوں جگہوں پر تباہی و بربادی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ مشرق و مغرب کے معاشرے کے اندر کے فرق کی یہ جان کاری جرمنی پہنچ کر ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں دوران قیام تعلیم اداروں اور درسی کتب سے وہ سبق نہیں ملے تھے جو جرمنی

Read more

کپتان کی گرفتاری کیوں ممکن نہ ہو سکی؟

زمان پارک لاہور کافی دنوں تک میدان جنگ بنا رہا۔ وہاں ہونے والے واقعات نیوز چینلز کی لائیو نشریات سے دنیا بھر میں دیکھے اور سنے گئے۔ یہ سب کچھ اپنی نوعیت کا انوکھا اور عجیب و غریب واقعہ تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کی گرفتاری کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر جنگی طرز کی تیاری کی گئی اور گرفتاری پھر بھی نہ ہو سکی۔ یہاں تک کہ رینجرز بھی بلائی گئی لیکن نتیجہ خاطر خواہ نہ نکلا۔

Read more

توشہ خانہ، علماء کا فتویٰ اور اخلاقی انحطاط

اخلاقی انحطاط کی ایک سونامی ہے جس نے دہائیوں سے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے پھر جس کا داؤ لگتا ہے وہ حسب توفیق کچھ نہ کچھ سمیٹ لیتا ہے۔ دیدہ دلیری کی انتہا ہے کہ کوئی ندامت بھی نہیں ہوتی۔ نواب مصطفی خان شیفتہ کی ایک مکمل غزل کے ایک مصرعے کو اتنی پذیرائی ملی کہ اب بطور محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہم طالب شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے

Read more

پاکستان اور بھارت کے جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات کا جائزہ

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی سطح پر سفارت کاری کے محاذ پر کامیابی اندرونی سیاسی استحکام اور معاشی طاقت سے مشروط ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے 2021 میں جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات کی 70 سالہ تقریبات منائی تھیں۔ اس عرصہ میں اگر دونوں ممالک کی سفارت کاری پر نگاہ ڈالیں تو سر جھک جاتا ہے جرمنی دنیا میں پاکستان کا چوتھا اور یورپی یونین میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نیز یہ

Read more

ترک وطن: مجبوری یا ضرورت؟

بے سکونی ایسی کیسی خوفناک کیفیت کا نام ہے جو انفرادی اور اجتماعی طور پر انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ اس کی زد میں فرد واحد ہو یا معاشرہ، دونوں ہی اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ اگر امن اور شانتی ہو تو پھر ہر قسم کے طوفانوں کا سامنا کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر بے سکونی کی تیز ہوائیں چل رہی ہوں تو پھر چھوٹا ہو یا بڑا، محفوظ پناہ کی تلاش میں گھر سے راہ فرار

Read more

ہم وطنوں کا ملکی سالمیت سے کھلواڑ

ویسے حد ہی ہو گئی ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی اور پہلے سے بڑھ کر دلخراش واقعہ منظر عام پر آتا ہے۔ کبھی ایک صوبہ میں اور کبھی دوسرے صوبہ میں، گویا ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ 75 سال ہو گئے ہیں آزادی حاصل کیے لیکن لگتا ہے کہ ہم نے سب کچھ ”کھوہ“ میں پھینک دیا ہے۔ اب تو یقین ہونے لگا ہے کہ پاکستان صرف ”طاقتوروں“ کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ غریب،

Read more

آزادی کی توہین

1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا تھا اور آج 2022 کا دور ہے 75 سال بیت گئے۔ اس عرصہ میں پاکستان نے کیا کھویا، کیا پایا، سب تاریخ میں محفوظ ہے۔ سب سے بڑا المیہ سانحہ مشرقی پاکستان تھا، جسے یاد رکھنے کی بجائے انتہائی بے دردی سے بھلا دیا گیا، جس کا نتیجہ موجودہ حالات کی شکل میں سب کے سامنے ہیں۔ ماضی و حال میں اب تک پاکستان کو بس ”کڑے امتحانات سے دوچار اور نازک ادوار“

Read more

” نیٹو“ کی عالمی سیاست

اس وقت پوری دنیا دو واضح گروپوں میں تقسیم نظر آتی ہے، ان میں ایک مغربی ممالک پر مشتمل ’نیٹو ”بلاک ہے۔ اس بلاک کی عالمی برتری کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اس میں معاشی اور جمہوری طور پر تگڑے امیر ترین ممالک کینیڈا، امریکہ، جاپان، اٹلی، فرانس، برطانیہ وغیرہ اور یورپین یونین شامل ہے۔ دنیا پر مل جل کر حکمرانی کرنے اور اپنی من مانی کرنے کے منصوبے پر اس بلاک کو بہت کامیابی ملی ہے، اگر کہیں

Read more

کیا سزا واقعی یاسین ملک کو ہوئی ہے؟

کشمیر کی آزادی کے زبردست حامی، مقبوضہ کشمیر کے معروف سیاستدان اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ 56 یاسین ملک کو بھارتی عدالت نے مختلف کیسوں میں 2 بار عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ انہیں یہ سزائیں ”یو اے پی اے“ اور انڈین پینل کوڈ کی دفعات 120 B، 124 A کے تحت سنائی گئیں۔ ان پر لگائے جانے والے الزامات میں دہشت گردی کے لئے چندہ جمع کرنا، کشمیر میں بھارت مخالف

Read more

اور اب پشاور میں مدفون احمدی کی ہڈیوں کی توہین

لاہور کے ایک انگریزی ہفت روزہ جریدے کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں ایک احمدی کی قبر کو کھود کر اس کی پہلے بے حرمتی کی گئی اور بعد ازاں مرحوم کی باقیات (اعضا) کو باہر پھینک دیا گیا۔ یہ انسانیت سوز واقعہ انیس، بیس مئی کی درمیانی رات کو جو پشاور کے علاقہ ”سنگوا چینی پایاں“ میں رونما ہوا۔ خبر کے مطابق 1995 میں وفات پانے والے احمدی نوجوان اشفاق احمد کی قبر کو نامعلوم افراد نے کھودا اور

Read more

نوجوت سنگھ سدھو اور عمران خان: دونوں پہ کیا بیتی؟

مارچ 2022 کے مہینہ میں پاک و ہند کے اندر سیاسی طور بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پاکستان اور بھارت کی دو بڑی شخصیات ان تبدیلیوں کا شکار ہوئیں۔ دونوں پر آج کل جو بیت رہی ہے وہ سب اخبارات کی زینت بن رہا ہے۔ پہلے مارچ کے مہینہ میں نوجوت سنگھ سدھو نے غیر متوقع طور پر انتخابات میں شکست کھائی جبکہ وہ اس انتخابات میں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لئے ایک مضبوط امیدوار تصور کیے جا

Read more

کیا عمران خان کو واقعی جانا ہی تھا؟

10 اپریل 2022 کا دن نہ صرف ملکی سیاسی، جمہوری تاریخ بلکہ خود تحریک انصاف کی 24 سالہ سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ آزادی کے 75 ویں سال میں تاریخ میں پہلی بار عمران خان نے بطور وزیر اعظم عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت سے بے دخل ہونے والے ”پہلے وزیر اعظم“ کا اعزاز اپنے نام کیا اور یہ اعزاز صرف کپتان ہی لے سکتا تھا۔ عمران خان کی بطور وزیر اعظم حکمرانی کی

Read more

پاکستان کے قیام کے 75 سال بعد ، ”روشن مستقبل“ کی نوید؟

سال رواں 2022 میں پاکستان کے قیام کو 75 سال پورے ہو رہے ہیں اور ایک صدی کے پورے ہونے سے محض پچیس سال کی دوری پر ہیں۔ کسی بھی ریاست کے لئے 75 سال کا عرصہ ایک طویل مدت ہوتی ہے جس میں وہ پھل پھول کر مکمل استحکام پا کر دنیا میں باعزت طریقے سے رہنا سہنا سیکھ جاتی ہے۔ دیگر ممالک کی متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے کم و بیش پاکستان کے ساتھ آزادی حاصل

Read more

پروفیسر ڈاکٹر اجمل نیازی محبت کے داعی اور سفیر تھے

منور علی شاہد (جرمنی) اوئے منور یار، کتھے چلا گیا ایں، اداس کردتا اے (کدھر چلا گیا ہے،  اداس کر دیا ہے)۔ یہ وہ جملہ ہے جو اجمل نیازی دیارے غیر سے میری ٹیلی فون کال پر مجھے کہا کرتے تھے اور پھر ڈھیروں دعائیں دیا کرتے تھے۔ بیرون ملک سے محض چند بار ہی ان سے بات ہو سکی لیکن جملہ یہی ان کے منہ سے نکلتا تھا۔ ان سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن انہوں نے

Read more

ریپ اور جنسی زیادتیوں کے معاملات میں یہ ”تعصب“ کیسا اور کیوں؟

منور علی شاہد (جرمنی) پاکستان کے وزیر اعظم ایک امریکی صحافی کو سیاسی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں ریپ کے واقعات کو خواتین کے لباس سے جوڑتے ہوئے متنازعہ بات کہہ کر ایک بار پھر تنقید اور تعریف کی زد میں ہیں۔ تعریف تو لازمی بات ہے وہی کر رہے ہوں گے جو عقل کی بجائے جذبات اور اندھی عقیدت میں سوچتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ جبکہ تنقید کرنے والے پی ایم کے بیان کو زمینی اور معاشرتی حقائق اور سچ کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی ایک بار وہ اسی قسم کا بیان دے کر متنازعہ شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کسی نے ایک کمنٹ میں خوب کہا ہے

Read more

یورپی پارلیمنٹ کا اظہار ناراضی، ہم پر کوئی اثر ہو گا؟

گزشتہ دنوں یورپین یونین پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے اور پاکستان سے اپنے دیرینہ مطالبات کو نہ صرف دھرایا ہے بلکہ واضح طور پاکستان کی جی ایس پی پلس کی حیثیت پر نظرثانی کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ اس قرارداد کے مندرجات میں توہین مذہب سے متعلق قوانین کے غلط استعمال کو متعدد مثالوں اور اسباب و وجوہات کے ساتھ کھل کر بیان کیا گیا ہے، اور حکومت پاکستان سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرارداد کے مطابق توہین مذہب کا قانون ذاتی جھگڑے نبٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔

پارلیمنٹ کی قرارداد کے متن کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ کے لئے بھی لائحہ عمل اور ہدایات درج ہیں جن کو پارلیمنٹ کے سامنے لانے کا کہا گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے اندرونی حالات ایسی صورتحال کی نشاندہی کر رہے تھے اور یورپین پارلیمان کی طرف سے بالآخر اس قدر شدید نوعیت کا ردعمل سامنے آ ہی گیا ہے، قراردار کی دوسری اہم بات ووٹنگ ہے جس سے پارلیمان کے موڈ اور ممبران کی شدید ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے۔

Read more

بھارت میں قہر کی گھڑی میں انسانی ہمدردی اور اخوت کا جنم

جنوبی ایشیا کے اندر بھارت میں کورونا کے قہر نے قیامت خیز اور ہولناک مناظر نے ہر انسان کو رنجیدہ اور غم زدہ کر رکھا ہے، موذی کورونا جیتے جاگتے انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح نگل رہا ہے۔ سڑکوں پر بھاگتی ہوئی ٹریفک میں ایمبولنسوں کے علاوہ گاڑیوں، گدھا گاڑیوں اور یہاں تک کہ موٹر سائیکلوں پر کورونا کے دم توڑتے مریضوں کو لایا جا رہا ہے، لواحقین کی آہ و بکا اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں کی جان لیوا آوازوں نے خوف کی فضاء کو مزید سوگوار اور ہولناک بنا دیا ہے۔

Read more

جناب آئی اے رحمان، آپ کو آخر جانا ہی تھا

آئی اے رحمان کو بھی ایک دن جانا ہی تھا اور وہ چلے گئے، ہر دل عزیز شخصیت کے انتقال کے صدمہ سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے، یہ نظام قدرت ہے، اس کے آگے کسی کا زور نہیں۔ جلد یا بدیر، ہر ایک کو اس صدمہ سے گزرنا ہی پڑتا تھا، سبھی کو یہ صدمہ سہنا ہی تھا لیکن رحمان صاحب کے صدمہ نے ہر ایک کو نڈھال کر دیا ہے کیونکہ آپ نے جس معاشرے میں انسانی حقوق

Read more

81 سالہ عبدالشکور بھائی جیل میں

س وقت سوشل میڈیا پر ایک پیٹیشن کو بہت پذیرائی مل رہی ہے جس میں وزیراعظم پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 81 سالہ احمدی پاکستانی کتب فروش کو دہشت گردی کی عدالت سے دی جانے والی آٹھ سالہ قید کی سزا پر فی الفور نظر ثانی کرائیں اور ان کو رہا کیا جائے ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ ربوہ میں اپنی جماعت کی شائع کردہ کتب صرف احمدیوں ہی کو فروخت کرتے تھے۔

Read more