گزشتہ دنوں یورپین یونین پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے اور پاکستان سے اپنے دیرینہ مطالبات کو نہ صرف دھرایا ہے بلکہ واضح طور پاکستان کی جی ایس پی پلس کی حیثیت پر نظرثانی کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ اس قرارداد کے مندرجات میں توہین مذہب سے متعلق قوانین کے غلط استعمال کو متعدد مثالوں اور اسباب و وجوہات کے ساتھ کھل کر بیان کیا گیا ہے، اور حکومت پاکستان سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، قرارداد کے مطابق توہین مذہب کا قانون ذاتی جھگڑے نبٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔
پارلیمنٹ کی قرارداد کے متن کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ کے لئے بھی لائحہ عمل اور ہدایات درج ہیں جن کو پارلیمنٹ کے سامنے لانے کا کہا گیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے اندرونی حالات ایسی صورتحال کی نشاندہی کر رہے تھے اور یورپین پارلیمان کی طرف سے بالآخر اس قدر شدید نوعیت کا ردعمل سامنے آ ہی گیا ہے، قراردار کی دوسری اہم بات ووٹنگ ہے جس سے پارلیمان کے موڈ اور ممبران کی شدید ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے۔
Read more