بیساکھیوں کی سیاست
افسوس کی بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری یاداشت بھی بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ بہت پرانی تو نہیں ماضی قریب کی بات ہے پاکستان میں سیاسی کھیل میں ایک خاص ادارے کو شامل کیا گیا، پھر وقت کے ساتھ ساتھ اقتدار میں آنے اور اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بھجوانے کے لیے اس ادارے سے تعاون حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ چلو بات مختصر کرتے ہیں کون تھے وہ لوگ جنہوں نے قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو غدار قرار دے کر الیکشن میں ناکام کروایا۔
اس وقت ہی سمجھ آنا شروع ہو گئی تھی کہ پاکستان ابھی آزاد نہیں ہوا اور جاگیر دار سیاسی نظام کی آڑ میں غریب پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ سیاسی رہنما اقتدار میں آنے کے لیے عوام کو کبھی روٹی کپڑا مکان کا لالچ دیتے رہے تو کبھی کسی اور نعرہ کے ساتھ عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی گئی اور ہم جو آج بھی قوم نہیں ہجوم ہیں سیاستدان کے ہاتھوں اپنے جذبات کا تماشا بنواتے رہے۔ آج وہی پرانے چہرے نئے نعروں کے ساتھ سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اب سیاسی نظام اس حد تک کرپٹ ہو چکا ہے کہ 90 فیصد سیاستدان چہروں سے نقاب اترنے کے خوف سے کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔
جب فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا یہ عوام تماشائی بنے رہے۔ ایک آمر نے عوام کے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی چڑھا دیا، عوام خاموش رہے۔ پھر بار بار منتخب حکومتوں کو کان سے پکڑ کے اقتدار کے ایوانوں سے باہر کر دیا گیا، یہ خاموش رہے۔ مشرف دور کی بات کر لیتے ہیں آج جو تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے، وہی حال مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہوا تھا۔ روز یہی چہرے نواز شریف کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں شامل ہونے کا اعلان کرتے تھے۔
تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے والد میاں اظہر چیئرمین تھے، اس وقت یہی جو آج عمران خان کو چھوڑ رہے ہیں وہ مسلم لیگ (ق) کا حصہ تھے۔ مجھے یاد ہے آصف زرداری کا قومی اسمبلی میں خطاب کہ جس طرف دیکھتا ہوں، ہمارے ہی لوگ نظر آتے ہیں۔ عمران خان جس نے ایک طویل کوشش کے بعد اپنی جماعت کو عوام میں مقبول کیا۔ وہ بھی وہی غلطی کر گیا کہ اقتدار کی لالچ میں ان لوگوں کا سہارا لیا جو جب چاہتے ہیں سیاستدانوں کو کان سے پکڑ کے اپنی مرضی سے حرکات و سکنات کراتے ہیں۔
عمران خان کی جماعت میں جب لوگوں کو شمولیت ہو رہی تھی تب ہی باشعور طبقہ مایوس ہو چکا تھا کہ انجام کیا ہونے والا ہے۔ یہ کھیل وہی پرانے ہیں بس انداز بدل گیا ہے۔ ہاں البتہ ایک دکھ ہے عمران خان نے ایک نسل تباہ کر دی ہے۔ سیاسی ورکرز کو سیاسی تربیت کے بجائے گالم گلوچ اور عدم برداشت کی تربیت دی۔ چور چور کا نعرہ لگا کر انقلاب کی بات کرنے والے عمران خان نے خود اپنی ٹوکری میں وہی لوگ شامل کر رکھے تھے تو ماضی میں ان ہی کے ساتھ تھے جن کے خلاف عمران خان چور چور کے نعرہ لگاتے تھے۔
انجام سے بے خبر اقتدار کی لالچ اور سیاسی تربیت کی کمی نے عمران خان کو تنہا کر دیا۔ اب بھی موقع ہے۔ قوم انقلاب کی بات کرتی ہے تو انقلاب کے لیے وہ قیادت تلاش کرے جو جمہوری انداز، سیاسی برداشت اور تحمل اور برد باری سے معاملات کو سمجھے۔ کسی کے سہارے پر چل کرنے آنے اور جانے والوں کا انجام سیاسی موت اور سیاسی قبرستان ہی ہوتے ہیں۔


