بائیو ڈائیورسٹی یا حیاتیاتی تنوع
سائنسی اصطلاح میں حیاتیاتی تنوع یا بائیو ڈائیورسٹی کرہ ارض پر پائے جانے والی مختلف و انواع قسم کی حیات کا نام ہے۔ جن میں جینیاتی مادے، چرند و پرند، شجر اور انسان کے رہن سہن کا نظام جو کہ حیاتی نظام سے منسلک ہیں کا نام بایؤ ڈائیورسٹی ہے۔ بائیو ڈائیورسٹی کا کرہ ارض پہ سب سے بڑا اثر اس کے ماحولیاتی نظام کی وجہ سے قدرتی ذخائر پر پڑتا ہے جو ایک ضابطہ توازن کے تحت یہاں موجود رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے زمینی ردو بدل، خالص پانی و پانی کی صفائی، کیڑوں مکوڑوں کا کرہ عرض میں توازن اور دوسری حیات کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ نہ صرف حیات کی مدد کرتا ہے بلکہ نسل انسانی بقا کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ جانوروں کی مختلف اقسام، درخت و پودے اور وہ جاندار جنہیں صرف خورد بین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے صحت مندانہ ماحول کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہ خوراک و ہوا کا ذریعہ بھی مہیا کرنے کا کام کرتے ہیں۔
بائیو ڈائیورسٹی کے علم سے انسان اسے اپنے استعمال و کارآمد بنانے کے نہ صرف نئے راستے تلاش کرتا ہے بلکہ اس سے ادویات و خوراک کی نئی اقسام اور ان کی بہتری کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔ بائیو ڈائیورسٹی انسان کے لئے دو طرح سے اہم ہے۔ ایک تو اس سے انسان کی بنیادی ضروریات زندگی حاصل ہوتی ہیں مثلاً خوراک، ایندھن، میڈیسن اور پناہ گاہیں۔ اور دوسری اہم وجہ اس سے پودوں و پھولوں کی پالی نیشن، بیجوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، زراعت میں زیر استعمال کیڑوں مکوڑوں کا توازن برقرار ہونا، آب و ہوا کا کنٹرول، گندے پانی کی صفائی کا قدرتی نظام، غذائیت کا سائیکل اس کے علاوہ کئی اور ان گنت فائدے ہیں۔
اس میں ہمارا ماحولیاتی نظام اور دوسری حیات کے ساتھ تعلق اور ایک دوسرے کی بھلائی وغیرہ بھی اسی میں شامل ہیں۔ اسی ماحولیاتی نظام میں انسان ایسے فیصلے صادر کرتا ہے جو اس کائنات میں بسنے والی تمام حیات کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں۔ گزشتہ صدی سے انسان کرہ ارض پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے اور سائنسی میدان میں سرگرم ہے جس سے ماحولیاتی تبدیلیاں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ ان میں سر فہرست ماحولیاتی توازن کا بگڑنا اور بعض حیات کا ختم ہونا اور نا پید ہو جانا ہے۔
گو گہ زمین ہمیشہ سے تبدیلی و تغیر سے دوچار رہی لیکن اب کی تبدیلیوں کی رفتار کچھ زیادہ ہی تیز ہے۔ جس کا سیدھا اثر اس کی حیات و ماحول پر پڑ رہا ہے۔ انسانی آبادی کے بڑھنے اور قدرتی وسائل کے اضافی انسانی استعمال سے ان کی شدید کمی واقع ہو رہی ہے۔ جس کے تدارک کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے ہر سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ فرد معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور فرد سے ہی ملت بنتی ہے لہذا ہم سب کو اپنے اپنے طور ماحول کو بہتر بنانے، ذرائع کے بے دریغ استعمال سے گریز اور ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر ہم نے اس بات کو ذہن نشین کر لیا کہ اس کرہ ارض کی ڈائیورسٹی کو تباہ ہونے سے ہم نے بچانا ہے تو یہ کامیابی حاصل کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ اس کے بعد اس پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ کسی مثبت تبدیلی کے لئے شعور اجاگر کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس پر عمل کرنا۔
اس مثبت ماحولیاتی تبدیلی کے لئے مقامی کمیونٹی اور گورنمنٹ کی سطح پر کام شروع ہو چکا ہے۔ جن میں جنگلی حیات کی حفاظت، گلیشئر کے پگھلنے کی روک تھام اور اس پر نظر رکھنا، جہاں حیات کو خطرات لاحق ہوں تو ان کے لئے حفاظتی اقدام کرنا اس کے علاوہ دوسری حیات میں توازن قائم کرنے پر عمل درآمد کرنا، مقامی، ریجنل و ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی پالیسیاں اختیار کر نا جن سی مثبت ماحولیاتی تبدیلیاں متوقع ہوں۔
بحیثیت انسان اور کرہ ارض کے باسی ہونے کے ناتے ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ اس سے ماحولیاتی تبدیلی میں ہمارا حصہ بھی ہو۔ ہم اپنے ذرائع آمدورفت کو کاروں، بسوں کے بجائے سائیکل کے استعمال کی طرف آئیں۔ جن کے کام کرنے کے مراکز نزدیک ہوں وہ پیدل چلنے کو فوقیت دیں اس سے ان کی ایکسرسائز بھی ہوگی اور ویسے بھی یہ صحت کے لئے مفید ہے۔ اس سے ماحول میں آلودگی کم ہوتی چلی جائے گی۔ مغربی دنیا میں دفاتر میں کام کرنے والوں کو سائیکل کے استعمال کی طرف راغب کرنے کے لئے بغیر سود کے قرضے دیے جا رہے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے سائیکل لین کا متعارف کرانا اور اس پر عمل درآمد کے لئے قانون سازی جیسے اقدام ہو رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت اشرف المخلوقات اس کرہ ارض کی حفاظت کریں اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک عمدہ و اعلی جگہ چھوڑ کر جائیں۔


