نیلم احمد بشیر بطور مصنفہ

کچھ دن قبل کی بات ہے جب نیلم احمد بشیر صاحبہ سے ان کے درویش کدے پہ ملاقات ہوئی۔ اتنے عشروں کی ملاقاتوں کا حاصل سلمی اعوان کے جملے پہ ہوا کہ ”اس کی ذات کے ساتھ ایک طلسم بندھا ہوا تھا۔ اس نے اسے دو جملوں سے اڑا دیا۔“
حسن اتفاق کہئے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع بھی مل گیا اور کہاوت کہ انسان کا علم سفر اور کھانے کی میز پہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں مرحلے طے ہوئے تو زندگی نے وہ نیلم احمد بشیر یاد کروا دیں جن سے ملاقات آمنہ مفتی کے ساتھ پہلی بار ہوئی تھی۔
نیلم احمد بشیر کی زندگی کا سفر ایسے چلا ہے اس نے انہیں بے حد درویش، بے نیاز، عاجزی پسند، حقیقت من و عن قبول کرنے والا ایک سچا اور کھرا انسان بنا دیا ہے۔ کچھ سچائی وراثت میں ابا سے ملی تھی کچھ انہوں نے حالات سے سیکھی ہے۔ وہ جو محسوس کرتی ہیں اسے دل میں نہیں رکھیں، لکھ اور کہہ دیتی ہیں۔
وہ جہاں جاتی ہیں اپنے حصے کا کام کر کے آ جاتی ہیں۔ نیکی کر کے دریا میں ڈال دیتی ہیں اور بھول بھی جاتی ہیں۔ دنیا داری سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں ہے، نہ ہی مادی اشیا سے رغبت ہے۔ وہ حساس ہیں، بہت گہری شخصیت کی مالک ہیں لیکن وہ اپنی گہرائی کو اپنے قلم تک محدود رکھتی ہیں۔ احباب سے میل ملاقات میں وہ بے حد سادہ طبیعت ہیں۔ سادہ مزاج ہیں۔ یہی مزاج ان کی تحریروں میں آیا ہے۔ کہانی میں، جملے میں، الفاظ کے چناؤ میں سادگی ان کے مزاج سے آئی ہے ورنہ جیسے انہوں نے ایم ایس سی نفسیات پڑھا تھا، دنیا پھر کی سیاحت کی تھی۔ وہ کہانیوں میں نفسیات کے موٹے فلسفوں کو موٹے موٹے لفظوں میں بیان کرتیں۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہانی پن کے ساتھ اپنی علمیت کا تجربہ نہیں کیا البتہ علمیت کو کردار کے سانچے میں ڈھال کر پیش کر دیا ہے۔
رہین سہن میں بھی سادگی ہے، صفائی ستھرائی ہے۔ وقار ہے۔ خودداری ہے، جو ہے اس پہ شاکر ہیں، جو ہو گیا اس کے بارے میں ان کا خیال ہے، یہ ہونا ہی تھا گویا فطرت پہ بہت دلیری سے یقین کرتی ہیں۔
سخت ترین بات تو آسان لفظوں میں کہنے کی ہمت و جرات رکھتی ہیں۔ لمحوں کو جی لینے کا ہنر سیکھ چکی ہیں اور لمحہ موجود کو زندگی سمجھتی ہیں اس کی قدر کرتیں ہیں۔ وقت نے ان کے اندر کے درویش کو باہر لا کھڑا کیا ہے۔ وقت نے ان کے اندر کے درد و تنہائی کو کہانیوں اور ناولوں میں پرو کر اسے جفت کر دیا ہے۔
نیلم احمد بشیر کی تحریروں میں سب سے اہم ان کا اسلوب ہے۔ ناول ہو یا افسانہ، خاکے ہوں یا رپوتاژ، سفر نامے، وہ سادہ اسلوب نگار ہیں۔ وہ لغت کے موٹے موٹے الفاظ اکٹھے کر کے نہ تو کہانی کی وسعت کو متاثر کرتی ہیں۔ نہ ہی قاری پہ بوجھ بنتی ہیں، نہ ہی اپنی علمیت کی دھاک بٹھانا ان کا مقصد ہے۔
انہوں نے کہانی اور موضوع پہ توجہ دی ہے۔ معاشرے اور اس کی نفسیات کی عکاسی کی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کو بدلنے کی خواہش کا اظہار کرداروں کے ذریعے کیا ہے۔ نہ وعظ کیا ہے نہ فلسفے بگھارے ہیں۔ اپنے درد کو لفظوں میں ڈھالا ہے صرف کسی کو اس کا نہ نظر آنے والا چہرہ دکھایا ہے۔ معاشرے کی دکھتی نبض پہ ہاتھ رکھا ہے۔ زندگی کو ورق در ورق بنا ہے۔ اس کی تہہ در تہہ پرتوں کو کھولا ہے۔ اس کے اندر کی باسی مہک کو تازہ ہوا دینے کی خواہش ہے جس کی معاشرے کو بے حد ضرورت ہے ورنہ یہ معاشرہ اپنا وقار اور اقدار بھی کھو دے گا۔
معاشرہ روایت سے نہیں چل سکتا اسے ہر نئی ایجاد کے ساتھ جدت کی ضرورت ہوتی ہے اس طرف توجہ دلائی ہے۔
انہوں نے بچوں کے مسائل پہ تواتر سے لکھا ہے۔ ان کے اندر کی ممتا نے ان سے ہر دور اور ہر عمر کے بچوں کے کردار لکھوائے ہیں چاہے وہ اے پی ایس کا واقعہ ہو، یا گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی کہانی ہو، یا پھر مدرسے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بن والے بچے ہوں، بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی، ذہنی اور سماجی زیادتی پہ ان کے بہت سے افسانے ہیں کہ ان کی ایک الگ کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔
کسی ماں کا بچہ، محافظ، سولہ دسمبر، زرقم، ہیست نیست، شمیم اور نسیم، ناقابل معافی، آندھی، شجر سایہ دار، فن کی خدمت، بس کا پیالہ، گلابوں والی گلی، گھر کی بات اور بہت سے افسانے ہیں جن میں انہوں نے معاشرے کی عکاسی تو کی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ معاشرے کی توجہ بھی مرکوز کروائی ہے کہ ابھی وقت ہے ہم ان رویوں کو بدل سکتے ہیں۔
عورت اللہ کی تہ در تہ تخلیق ہے جیسے مرد جنت سے ابھی تک سمجھنے کی ہی کوشش کر رہا ہے۔ عورت کو سمجھتے سمجھتے بے چارہ جنت سے نکل آیا مگر اسے زمین پہ بھی نہ سمجھ سکا۔ انہوں نے عورت کے کرداروں کی پرت پرت پہ افسانہ لکھا ہے۔ اس کی سات آسمانوں سی وسعت کو سمجھانے کی، بتانے کی کوشش کی ہے۔ ہر در وا کیا ہے۔ بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی، ادھیڑ عمر، بڑھاپا عورت کی زندگی کے ہر دور کی بدلتی نفسیات اس کی تجربہ کار زندگی کے حقائق سب بیان کیے ہیں۔
وہ جو کہا جاتا ہے کہ عورت نے مرد پہ نہیں لکھا ایسا نہیں ہے۔ عورت نے مرد کا سماجی کردار لکھا ہے جو اسے برداشت نہیں ہوتا۔ جس دن مرد میں سلجھاؤ آ گیا، عورت بھی اس کے حسن و ادا کے گیت گنگنائے گی۔ ہر عورت کی طرح نیلم احمد بشیر نے بھی مردانہ کرداروں پہ لکھا ہے۔ مگر کیا کیجئے مرد کا کردار اور حسن اتنا معدوم ہے کہ اس پہ لکھا نایاب ہی دکھائی نہیں دیتا۔ عورت مرد کے جملوں سے نہیں، عورت کی تحریر سے ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
عورت کے حوالے سے لکھتے ہوئے ان کا طرز تحریر بولڈ ہے لیکن وہ بولڈ اور ولگر کی لکیر کو بہت خوبی سے سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کئی تہذیبوں کا سفر کیا ہے اس لئے سماج کے اعتبار سے عورت کا بدلتا ہوا کرار اس کے افسانوں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ دنیا بھر کی نفسیاتی و تہذیبی کرداروں کو انہوں نے اپنے افسانوں میں موتیوں کی طرح پرویا ہے۔ میڈرڈ کی ماریہ، کولمبس کا سفینہ، لالی کی بیٹی ایسی صرف چند مثالیں ہیں۔
ایشین سماج ہو یا امریکن، سپین کے گلی کوچے ہوں یا یورپ کی آرٹ بھری زندگی، انہوں نے عورت کی نفسیات کی دریافت بہت فطرت پہ کی ہے۔ بہت باریک بینی سے کہانی کی بنت کرتی ہیں کہ پہلے بیان شدہ واقعے اضافی نہیں لگتے بلکہ وہ جواز بن جاتے ہیں۔
دیہات کے موضوع پہ انہوں نے کم لکھا ہے لیکن جب لکھا ہے ڈوب کے لکھا ہے کہ قاری ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ ان کے شہری افسانے سے اگر ان دیہاتی افسانوں کا تقابل کرنا پڑ جائے تو دیہات کی زمین سے مٹی کی خوشبو بہت دور تک جاتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک مصنف کے تخلیقی لمحے کی پرواز ہوتی ہے جہاں کہانی خود اس پہ اترتی ہے اور وہ ایک محرک بن کر رہ جاتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی چھت، مردوں والا کام، لے سانس بھی آہستہ بہت متاثر کن افسانے ہیں۔
ان کے بہت سے افسانوں اور ناول میں سفر نامے میں بھی بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں لکھتے وقت آمد کا گمان ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ نے ایک مصنف کو کس توجہ سے پڑھا ہے۔
نیویارک ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا اور اہم حصہ ہے اس لئے نیویارک اور اس کے گرد و نواح کے مسائل، وہاں کی تہذیب اوورسیز کے مصائب اور ان کی بدلتی زندگی پہ انہوں نے بہت لکھا ہے بلکہ یہ سب خود ان کے جغرافیہ کی وجہ سے ان کی کہانی میں اتر آیا ہے یہی وہ مقام ہے جس سے ان کی کہانی عالمی کہانی کے قریب جاتی ہے اور تہذیبوں کے تقابل سے اردو قاری کو ایک فکشن نگار کے طور پہ اس تہذیب کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے جس وہ بول بچن اور میڈیا کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ فکشن نگار کا انہیں واقعات و مشترکہ تہذیب کو دیکھنے کا الگ ڈھنگ ہوتا ہے۔
نائین الیون سے پہلے کا نیویارک اور اس کے بعد کا نیویارک ان کے افسانوں، ناول رپوتاژ میں جزو لازم کی طرح موجود ہے۔ رپوتاژ ’ستم گر ستمبر‘ اور ناول ’طاؤس فقط رنگ‘ دونوں اسی واقعہ اور اس کے اثرات پہ مبنی ہیں۔ پہلا ناول ’طاؤس فقط رنگ‘ نیویارک اور نائین الیون، امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی رواں زندگیوں کے اثرات پہ مبنی ہے۔ کیا کچھ ہوا، کیسے کیسے سہنا پڑا، اس سب پہ مبنی ہے اور اردو ادب میں اس موضوع پہ تاحال شاید یہ اکلوتا ناول ہے۔ ”ستم گر ستمبر“ شاعرانہ ستمبر نہیں ہے بلکہ یہ نائین الیون کی روداد ہے اگر یہ روداد نہ لکھی جاتی تو ممکن ہے اس کے بوجھ سے ایک مصنفہ اتنا نڈھال ہو جاتی کہ طاؤس فقط رنگ جیسا بڑا ناول بھی تحریر نہ ہوتا۔
ان کے ناول ہوں یا افسانے ہندو میتھالوجی، یونانی میتھ، یورپی تہذیب، افریقن کلچر، سپینش روایات کے بہت سے رنگ ملتے ہیں۔ وہ دنیا بھر کی سیاست پہ بھی بات کرتی ہیں۔ عام اور خواص کا تقابل جغرافیہ کی وجہ سے بدلتی سوچ و فکر پہ بھی بات کرتی ہیں۔ اپنا نکتہ نظر کہیں بیان کر دیتی ہیں کہیں قاری پہ چھوڑ دیتی ہیں۔
دنیا بھر میں خاندانی نظام کے الگ الگ دائرے ہیں۔ انہوں نے صرف ان دائروں کو کہانیوں میں پینٹ کیا ہے۔ اچھا، برا نہیں بتایا، فطرت کی طرح، انہوں نے ایک حسین سی دنیا بسا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد یہ قاری پہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی مشکلات تلاش لے یا حسن دیکھ لے۔ زندگی غم و خوشی کا مرکب ہے اس کو انہوں نے یونہی پیش کیا ہے۔
خاکہ نگار کے طور پہ ان کو دیکھا جائے تو وہی بات سمجھ آتی ہے احمد بشیر کی بے باک اور دلیر بیٹی۔ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔ اب دنیا جو مرضی کہتی رہے۔ ان کو سچ بولتے اور لکھتے ہوئے ڈر نہیں لگتا۔ وہ لکھتی ہیں تو سچ لکھ دیتی ہیں ورنہ نہیں لکھیں۔
اردو اور پنجابی، انہوں نے دونوں زبانوں میں لکھا ہے اور دونوں زبان میں ان کا اسلوب سادہ ہے حالانکہ سادہ اسلوب لکھنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا۔ جو کتاب ایمازون پہ BLUE SKIES OF HOME AND BEYONDموجود ہے۔ مجاہد حسین نے اس کتاب کا ترجمہ کیا۔ جس میں چودہ افسانے شامل ہیں۔ ان کا پنجابی ناول ”مور بلیندا“ تقیسم ہند کے حوالے سے ہے۔ جس میں وہ تین نسلوں کی کہانی لے کر چلیں ہیں۔
جنگ عظیم دوم سے لے کر اب تک کا شاید ہی کوئی موضوع ہو جس پہ انہوں نے نہ لکھا ہو۔ ہر چھوٹا بڑا موضوع ان کے افسانے کا موضوع بنا ہے۔ ان کے چھ افسانوی مجموعوں میں ایک تاریخ رقم ہے اگر ان کو موضوعاتی اعتبار سے ترتیب دیا جائے تو جنگ عظیم دوم سے لے کر اب مصنوعی ذہانت کے دور تک کے تمام ادوار مکمل کرتی کتھا بن جاتی ہے۔
نیلم احمد بشیر نے نثری شاعری بھی کی، مزاحیہ موضوع بھی شاعری اور افسانے میں آئے۔ اب وہ اپنی شاعری کی کتاب بھی ترتیب دے رہی ہیں۔
مجموعی طور پہ ایک جملے میں بات مکمل کی جائے تو نیلم احمد بشر کی تحریروں کی وسعت زیادہ ہے، کینوس بڑا ہے، جس کو سمجھنے کے لئے انسان کا اپنا کینوس بھی بڑا ہونا چاہیے۔



