طیب اردوان کی کامیابی کے راز


رجب طیب اردوان استنبول کے غریب خاندان میں پیدا ہوئے اور اسی شہر میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لیموں پانی بیچا اور محنت کرتے کرتے استنبول کے مئیر بن گئے۔ استنبول کی مئیر شپ حاصل کی تو یہ شہر کراچی کی طرح بے یار و مدد گار اور اہل اقتدار کی عدم توجہی کا شکار تھا، جا بجا کچرے کے ڈھیر، آتے جاتوں کو منہ لپیٹ کر چلنے پر مجبور کرتے۔ مشہور تھا کہ سفید قمیص پہن کر شہر میں اپنی ضمانت پر جاؤ۔ بیکریوں کے سامنے لوگوں کی قطاریں لگی رہتیں مگر وہ روٹی سے محروم رہتے اور بیمار دوا خانوں پر ہجوم کیے رکھتے مگر صحت ان کی قسمت میں کم ہی ہوتی۔ برس ہا برس سے استنبول کے ایسے ہی شب و روز تھے، شہر کے حکمراں بدلتے مگر شہر والوں کی قسمت نہ بدلتی۔

اردوان نے میئر بننے کے بعد سب سے پہلے روٹی کی قیمت کم کی۔ ان کا بیشتر وقت دفتر سے باہر گزرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گھر سے نکل کر کسی ایسی جگہ جا پہنچتے جو کسی کے سان گمان میں بھی نہ ہوتی۔ اسی معمول کے تحت ایک روز وہ ایوپ سلطان (وہ علاقہ جہاں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مزار ہے) کی طرف جا نکلے جس کے قریب ہی ایک مقام پر گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے رہتے تھے۔ میئر کو اس طرف جاتا دیکھ کر عملے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کسی نے کہا:

سر! اس طرف جانا مناسب نہیں
”اسی لیے تو میں وہاں جانا چاہتا ہوں“
میئر نے بلا تامل جواب دیا۔
”سر، گندگی اور بدبو کے سبب وہاں ذرا سی دیر رکنا بھی مشکل ہو گا ’اردوان نے کہا:
”لیکن ہزاروں لوگ وہاں رہتے ہیں“

مشورہ دینے والا لاجواب ہو گیا۔ اس روز شام سے پہلے پہلے یہ جگہ صاف ہو گئی اس کے بعد شہر کے اکثر علاقے بھی آئینے کی طرح چمکنے لگے۔ اب شہر والے جہاں بیٹھتے کہتے

”بو ہا ریکا“ یہ تو کمال ہو گیا۔ یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا تو دوسرے منصوبے کی طرف قدم بڑھا دیا۔

میونسپلٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا: ”لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں کہ شہر صاف ہو گیا مگر خرابی کی بڑی جڑ آلودگی تو اب بھی موجود ہے“ ۔ میں چاہتا ہوں، دنیا کے جدید شہروں کی طرح میرا شہر بھی پھول پودوں کی خوشبو سے مہکے ”۔ چنانچہ ایک جامع منصوبے کے تحت پرانے درختوں کو تحفظ اور نئے درخت لگائے گئے۔ چند ہی برسوں میں شہر کا حلیہ بدل گیا، فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں کو سایہ بھی میسر آ گیا اور آلودگی سے پاک ماحول بھی۔ اردوان نے ایک روز ائر پورٹ جاتے ہوئے ایک ایسے موڑ پر گاڑی رکوا دی جہاں سامنے سے ڈھلوان کی طرح اترتی ہوئی ایک پہاڑی پر گھاس پھوس اگا ہوا تھا۔ وہ کچھ دیر وہاں کھڑے ہو کر کچھ سوچتے رہے پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ مٹی اور پتھر کی اس دیو ہیکل چٹان پر مئیر کے حکم سے اس ترتیب سے پھول پودے لگائے گئے کہ لوگوں کو دور ہی سے یہ منظر اپنی جانب متوجہ کر لیتا۔

دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ثقافتی مظاہر کی نمائش کے لیے ہورڈنگ اور بل بورڈ لگائے جاتے ہیں مگر یہاں یہ کام پھول بوٹوں سے لیا گیا جس سے شہر والوں کی خوش ذوقی کا اظہار ہوا، ترک شناخت نمایاں ہوئی اور ماحول دوستی کا حق بھی ادا ہو گیا۔ چند برسوں میں یہ شہر جس میں کبھی خاک اڑا کرتی تھی، دل موہ لینے والے مناظر سے بھر گیا۔ یہ مراحل طے ہوئے تو ایک روز اردوان نے کہا:

”یہ جو شہر کی سڑکوں اور ان کے بیچ خالی قطعوں (Dividers) میں خاک اڑتی نظر آتی ہے، مجھے پسند نہیں“
”انھیں پھولوں سے بھر دیا جائے“ ۔
”سوال ہوا کس پھول سے؟“
تو اردوان نے کہا:
”تمھارا خیال لالے (lale یعنی ٹیولپ کے پھول) کی طرف کیوں نہیں جاتا؟“
”لالے؟“

یہ ہماری تہذیب کا نمائندہ، آباؤ اجداد کی نشانی اور مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافت کا سفیر ہے۔ اردوان کے فیصلوں میں تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شعور کی جھلکیاں ہمیشہ ایسے نظر آتیں جیسے انگشتری میں نگینہ۔ آج جب کوئی اجنبی استنبول میں داخل ہوتا ہے تو لالے یعنی ٹیولپ کے رنگا رنگ حسن میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ انہی دنوں کی بات ہے جب اردوان نے اپنی تقریر میں ایک نظم پڑھی جس میں انھوں نے مساجد کو چھاؤنی، گنبدوں کو خود (Helmet) اور میناروں کو اسلحہ قرار دیا تھا۔

اس نظم نے گویا بھس کو چنگاری دکھا دی اور ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کر کے عمر بھر کے لیے انھیں کسی سرکاری منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ اب بظاہر ان کے لیے کسی منصب کا حصول ناممکن تھا لیکن طیب اردوان نے ایک کامیاب سیاست دان اور ذہین نظریہ ساز بن کر نہ صرف اپنی جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا بلکہ عوامی حمایت کے بل بوتے پر ان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی دم توڑ گئیں۔ عوام نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر انھیں منتخب کیا۔

اردوان نے نظریاتی سیاست کو مذہب اور سیکولرزم کی بحث سے آگے بڑھا کر ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا اور اعتدال کی راہ اپنا کر عوام میں پذیرائی حاصل کی دوسرے اسلام پسندوں کی طرح مغرب کو مسائل کی جڑ قرار دے کر اس کے خلاف توپوں کے دہانے کھولنے کے بجائے انھوں نے فرد کے لیے عقیدے، عبادت اور رسم و رواج کی آزادی کے مغربی تصورات کی تحسین کی اور کہا کہ اپنی قومی ترقی کے لیے ہم بھی یہی حکمت عملی اختیار کریں گے۔

اسلام اور سیکولرزم کے حوالے سے ترکی کے مخصوص ماحول میں اس اعتدال کو بھرپور پذیرائی ملی۔ ماضی میں مغربی سیکولرزم کو مثالی قرار دینے کے باوجود فرد کی رائے اور خواہش کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا لیکن اردوان نے اسی مغربی تصور کو کامیابی کے ساتھ عام آدمی کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا دیا۔ مقبولیت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، طیب اردوان نے یہ مشکل کام بھی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طیب اردوان نے نہایت منظم طریقے سے کام کا آغاز کیا۔ اپنی پرانی عادت کے مطابق وہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں نکل جاتے اور عوام کے مسائل سے آگہی حاصل کرتے۔ ایک روز وہ دفتر جانے کی بجائے شہر کے مضافات میں جا نکلے اور ایک نشیبی علاقے کی پسماندہ بستی میں پہنچ کر لوگوں سے پوچھا:

”بو یور دستنی اولان؟ ’کیا یہی تمھاری قسمت ہے؟

پھر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غریب آبادیوں کے حالات بدلیں اور ایسے علاقوں کے لوگ بھی پر آسائش زندگی بسر کریں۔ اردوان نے رہائشی منصوبوں کا اعلان کیا۔ تیسری دنیا کے ممالک میں قبضہ مافیا اسی طرح غریب آبادیوں پر قبضہ کر کے انھیں بے دخل کرتا ہے، اس منصوبے پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا گیا لیکن اردوان کی ساکھ یہاں بھی کام آئی۔ پہلے ایک رہائشی منصوبہ پروان چڑھا پھر دوسرا، اس کے بعد ایسے کامیاب منصوبوں کی قطار لگ گئی، غریب ترکوں کو اعلیٰ معیار کی رہائش کے ساتھ ان علاقوں کے باسیوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آ گئے۔

اسی طرح ایک جامع حکمت عملی کے تحت اردوان نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور روز گار کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔ قومی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ اس سے قبل قومی وسائل سے بڑے بڑے شہر اور ان کا مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوا کرتا تھا۔ اردوان کی پالیسی نے قومی سیاست کا رخ ہی بدل دیا، یوں ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ طیب اردوان اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے لیکن یہ حقیقت نہیں۔ جدید ترکی میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ عوام، حکومت اور فوج کے مفادات میں یکسانیت پیدا ہوئی جس کے سبب فوج نے بھی باغیوں کو مسترد کیا اور عوام نے بھی۔ اس کارنامے کا کریڈٹ بھی اردوان کو جاتا ہے جنہوں نے ترکی کی معیشت اور عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ اردوان کے اقتدار کی طوالت کا راز یہی ہے کہ انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم اور آخری سیڑھی پر نظر رکھی اور حصول منزل کے لیے ایک پل کو بھی ضائع نہیں کیا۔

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے
آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو​
پہلی سیڑھی پر قدم رکھ، آخری سیڑھی پر آنکھ​
منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو​

Facebook Comments HS