آزاد کشمیر کی نئی حکومت: دلچسپ سیاسی صورتحال


آزاد کشمیر میں نئی حکومت قائم تو ہو گئی تاہم کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی اس حکومت کی تشکیل کے مراحل زیر کار ہیں۔ آزاد کشمیر میں ’پی ٹی آئی‘ کی سابق حکومت کے خاتمے کے بعد ایک دلچسپ صورتحال سامنے آئی۔ نئے وزیر اعظم کے طور پر مختلف ارکان اسمبلی کے نام سامنے آتے رہے لیکن کئی دنوں کی تاخیر کے بعد، رات کے وقت غیر متوقع طور پر سپیکر اسمبلی چودھری انوار الحق نئے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے اور اسمبلی میں ریکارڈ تعداد میں 48 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہو گئے۔ ’پی ٹی آئی‘ آزاد کشمیر، جو 32۔ 33 ارکان اسمبلی پہ مشتمل تھی، سکڑتے سکڑتے چھ سات تک رہ گئی۔ دلچسپ بات یہ کہ باقی ارکان نے عمران خان اور پی ٹی آئی سے دوری تو اختیار کر لی لیکن ان کی طرف سے اب تک پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا گیا جس میں وزیراعظم چودھری انوار الحق بھی شامل ہیں۔

سابق حکومت میں قائم متحدہ اپوزیشن میں شامل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ انہیں ’پی ڈی ایم‘ کا نام دیا جائے بلکہ وہ آزاد کشمیر میں اتحادی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے اتحاد نے پی ٹی آئی کے باغی ارکان کے ساتھ مل کر حکومت کی تبدیلی میں، نئی حکومت کی تشکیل میں اپنے اپنے طے شدہ حصے کے معاہدے کے تحت اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ چودھری انوار الحق کے وزیر اعظم بنتے ہی اسی دن مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی وقار احمد نور کو سینیئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فیصل ممتاز راٹھور کو بغیر محکمے تفویض کیے وزیر بنا دیا گیا۔ تاہم کابینہ کے باقی ارکان کا تقرر کئی دن تعطل کا شکار رہا کہ وزرائی، مشیران اور معاون خصوصی کی تعداد پہ آئینی قدغن کی صورتحال میں اگر کابینہ کے دیگر ارکان کا تقرر کیا جاتا تو بڑی تعداد میں باقی اراکان اسمبلی ناراض ہو سکتے تھے۔

چار پانچ دن قبل وزیر اعظم چودھری انوار الحق کی ایک تصویر اور خبر جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے 19 ارکان اسمبلی ان کے ساتھ ہیں۔ دو تین دن قبل آزاد کشمیر اسمبلی میں 15 ویں ترمیم پیش اور منظور کی گئی جس کا مقصد وزراء وغیرہ کی تعداد پہ عائد آئینی پابندی کا خاتمہ تھا۔ یہ 15 ویں ترمیم 40 ووٹوں سے منظور ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ کہ اسی اجلاس میں سپیکر اسمبلی کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف چودھری لطیف اکبر 19 ووٹ لے کے نئے سپیکر اسمبلی منتخب ہو گئے۔ یعنی چودھری لطیف اکبر کو سپیکر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی نے ہی ووٹ دیے، جن کی مجموعی تعداد بھی 19 ہی بنتی ہے۔ یوں سپیکر کے انتخاب میں چودھری لطیف اکبر کو وزیر اعظم چودھری انوارالحق کی حمایت کرنے والے 19 ارکان اسمبلی میں سے کسی ایک رکن اسمبلی نے بھی ووٹ نہیں دیا۔

جیسا کہ پہلے بتایا کہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے عمران خان اور پی ٹی آئی سے دوری تو اختیار کی ہے لیکن وزیر اعظم چودھری انوارالحق سمیت کسی ایک رکن اسمبلی نے بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ کے رکن جاوید بٹ بھی شیخ رشید کی عمران خان کی حمایت کی پالیسی کے برعکس آزاد کشمیر میں وزیر اعظم چودھری انوار الحق کے ساتھ ہیں اور شنید ہے کہ انہیں وزیر بھی بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جاوید بٹ کو آزاد کشمیر اسمبلی میں شاردہ کوریڈور قائم کرنے کے مطالبے والی قرارداد پیش کر کے متفقہ طور پر منظور کرانے کے معاملے میں مشہوری ملی جس قرار داد کو چند روز کے بعد اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں متفقہ طور پر واپس لیتے ہوئے ایک نئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی نا اہلی کی وجہ سے ضلع باغ کی ان کی خالی نشست پہ ضمنی الیکشن میں مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے بھی عمران خان، پی ٹی آئی سے دوری اختیار کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے امیدوار مشتاق منہاس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اب 15 ویں ترمیم منظور ہونے کے بعد جلد ہی نامعلوم تعداد میں وزرا، مشیران اور معاون خصوصی کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔ اس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو ان سے کیے گئے سمجھوتے کے مطابق حصہ ملے گا اور باقی غالب اکثریت میں وہ وزیر وغیرہ بنیں گے جنہوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن وزیر یا وزیر کے برابر کی سرکاری مراعات کے حصول کے لئے وزیر اعظم چودھری انوار الحق کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یوں آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے باوجود ایک غیر یقینی کی سی صورتحال پائی جاتی ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت ہے کس کی؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون تو اس حکومت کے اتحادی ہیں لیکن حکومت کس کی ہے؟ یہ بات ابھی تک غیر واضح ہے۔

Facebook Comments HS