پناہ گزینوں کے بارے میں برطانوی رویے


موجودہ برطانوی حکومت میں کچھ لوگ غیر ملکی پناہ گزینوں کے حوالے سے خاصے شاکی نظر آتے ہیں اور انتہاء درجہ کی بیان بازی سے برطانوی طرز معاشرت اور طرز حکومت کے برعکس کوشاں ہیں کہ برطانیہ میں پناہ گزین کم از کم آئیں۔ جبکہ اگر ہم تاریخی تناظر میں دیکھیں تو برطانیہ ایک وسیع القلب معاشرہ ملتا ہے جہاں ہر کسی کو خوش آمدید کہا جاتا تھا اور قومی اور انفرادی ترقی کے یکساں مواقع دستیاب تھے۔ اب آسان ترین مثال رشی سونک اور وزیر داخلہ سویلی برمین کی ہے۔

وزیراعظم رشی سونک کے والدین بنیادی طور پہ ہندوستانی ہندو تھے اور ان کی بیگم صاحبہ بھی انڈین نیشنل ہیں اور وہ ترقی کے مدارج طے کرتے کرتے آج وزیراعظم برطانیہ کے عہدۂ جلیلہ پہ فائز ہیں۔ اسی طرح موجودہ وزیر داخلی امور سویلی برمین کے والدین ہندوستانی اور خاوند ایک یہودی خاندان سے ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حوالے سے انتہائی درشت لہجہ اپنائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں ٹوریوں کو بہت بہتر اور ہمدردانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ وہ تلخ کلامی کرتے ہیں اور اب کہہ رہے ہیں کہ ان کو رونڈا بھجوا دیں گے یا ان کو مختلف پرانے بحری جہازوں میں ٹھہرایا جائے گا۔ جو بے خانمہ لوگ پہلے ہی جنگ و قدرتی آفات کے ہاتھوں ستائے ہوئے بیمار و لاغر اور غربت کے ہاتھوں ستائے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ ان کو مزید الفت و شفقت کی ضرورت ہے۔

یہ روایتی برطانوی کلچر کے خلاف ہے برطانیہ کا شعبۂ تعلیم ہمیشہ سے بیرونی طالبعلموں کو خوش آمدید کہتا رہا ہے اور اصل کمائی کی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ حکومتی امداد تو جو ملتی ہے اس ان تعلیمی اداروں کو چلانے تقریباً ناممکن ہے لہذا وہ بیرونی طالبعلموں کی ہمیشہ سے دلجوئی کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ برطانوی ماحول میں رنگے جاتے ہیں جہاں انہیں ذاتی خوابیدہ خوابوں کی تعبیر بھی مل جاتی ہے اور برطانیہ کو پڑھے لکھے ہنرمند افرادی قوت بھی دستیاب ہوجاتی ہے۔

اوسطا برطانوی حکومت کو سالانہ لگ بھگ 42 ارب پونڈ کی آمدن ہوتی ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کمی بھی پوری ہوتی ہے کہ ایسی ملازمتیں جو خود پسند گورے کرنا نہیں چاہتے وہ غریب ممالک کے آئے ہوئے طلباء بخوشی کرتے ہیں جس سے وہ اپنی گزر بسر کرلیتے ہیں۔ دیگر جو ہنرمند افراد بھی بغیر کسی تردد کے انہیں مل جاتے ہیں اب آج کل کے حکمرانوں کی جانب سے مہاجرین و پناہ گزیں لوگوں بارے ایسی لغو و شرمناک گفتگو سن کر یقین تو نہیں آتا کہ ایسا تنگ نظر معاشرہ کیسے طے پا رہا ہے جہاں مہاجرین کو“ حملہ آور در انداز ”کہا جا رہا ہے۔

برطانوی حکومت کے تازہ ترین اطلاعات و معلومات کے مطابق پناہ گزیوں کی 2022 میں تعداد 606000 ہو گئی ہے جو 2021 میں 488000 تھی، اس سے کنزرویٹو پارٹی میں بھی ایک بھونچال آ گیا ہے۔ کیونکہ سارا قضیہ ان کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ پناہ گزیوں کے خلاف انہوں نے نفرت کا جو بھیج بویا ہے وہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پچھلے تیرہ برس سے وہ عنان حکومت سنبھالے ہوئے ہیں اور اس بات کے لئے کوشاں رہے ہیں کہ کسی طرح ان کی تعداد کو روک سکیں یا کم کرسکیں مگر اب تک کوئی سرا ہاتھ نہیں لگا۔

باہمی احترام اور برداشت والا برطانوی معاشرہ اب بدل رہا ہے۔ دراصل ڈیوڈ کیمرون نے 2010 ایک پالیسی میں دی تھی اور یہ عہد کیا تھا اب ہم پناہ گزینوں کی تعداد محض چند ہزار افراد تک ہی رکھیں گے۔ کنزرویٹو حکومت میں کئی ایک ہاتھ حکومت کی ڈوری آئی اور گئی اور جس طرح انہوں قومی صحت پالیسی کے ساتھ کیا اس سے بدتر رویہ مہاجرین بارے ہے اس تلخ نوائی کی ایک وجہ بریگزیٹ ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS