آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ہم


آرٹیفیشل انٹیلی جنس مطلب اصل کا کاپی ہو یا جو قدرتی نا ہو کسی انسان نے ہاتھ سے کسی چیز کی نقل تخلیق کی ہو پر مشتمل کسی بھی پروڈکٹ کو مکمل ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔ کبھی ہم سنتے تھے کہ ایک زمانہ آئے گا جب انسانوں کے تمام تر کام روبوٹس کیا کریں گے آج یہ سب حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ کر انسانی دماغ پر حیرت ہوتی ہے۔ اوپن اے آئی برسوں تک ایک غیر منافع بخش کمپنی کے طور پر کام کرتا رہا اور اپنی تحقیق کے دوران اس نے ٹرانسفارمرز کے مشین لرننگ ماڈل پر تحقیق کی، جس نے بالآخر چیٹ جی پی ٹی کی تخلیق میں مدد ملی۔

مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے نومبر کے اواخر میں چیٹ جی پی ٹی کے نام سے ایک چیٹ باٹ لانچ کیا گیا تھا جسے ایک ہفتے کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ صارفین نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔

میرے خیال میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت اتنا اہم موضوع بن چکا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں جی سیون سربراہی اجلاس، جہاں پہلے ہی بہت مصروف ایجنڈا چل رہا تھا، وہاں بھی اسے زیر بحث لایا گیا

امریکہ کو سب سے بڑا فائدہ سلیکون ویلی کا ہے۔ جو دنیا کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے۔ گوگل، ایپل اور انٹیل جیسے ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں نے یہاں سے ہی شروعات کی اور جدید زندگی کو تشکیل دینے میں مدد کی فی الحال امریکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دوڑ میں آگے ہے مگر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں خدشات امریکہ کی جانب سے اہم ٹیکنالوجی تک باقی دنیا کی رسائی کو محدود کرنے کی کوششوں کی ایک سازش بھی محسوس ہوتا ہے۔

خیر ہم پاکستانی بھی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس آج سے نہیں بلکہ چار سال پہلے سے ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی تھی لیکن ہمیں یا تو سیاست سے فرصت نہیں یا ہمارے موٹیوشنل سپیکرز اور مولویوں کے لیکچرز سے ہمارے حکمرانوں اور عوام کو سیاسی فسادات سے فرصت ملے تو ہم اپنا پیسہ اور وقت اس اس رخ موڑے۔ جو وقت کی ضرورت ہے۔ دوستوں ابھی بھی وقت ہے کسی ایک ڈیجیٹل سکل پر اپنا وقت خرچ کریں، یوٹیوبرز اور موٹیویشنل سپیکرز سے جان چھڑا کر، مذہب، فرقوں، سیاست اور معاشرت کے جھگڑوں سے نکل کر۔

کہتے ہیں کہ پرنٹنگ پریس کے خلاف ایک فتوے نے مسلمانوں کی نسلوں کو چار سو سال پیچھے پھینک دیا تھا۔ اب ہم اگلی نسل کو کیسے تیار کریں گے۔ یہ سارے بچے سب کچھ خود ہی سیکھ رہے ہیں۔ یہ سیلف لرننگ کتنی کار آمد ہے؟ کون ان کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود اس ٹیکنالوجی کے بارے میں کتنے آگاہ ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہمارے وقت کی سب سے زیادہ تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے اور اس میں ہماری دنیا کے بہت سے اہم چیلنجز کو حل کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس نظام کی مقبولیت آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر کام کرنے والوں کے لیے ایک بنیادی چیلنج بھی ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز وقت کے ساتھ ساتھ مزید سمارٹ ہوتے جائیں گے۔ ایسے میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کا متبادل ہو سکتی ہے یا ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں کے کسی بھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ماڈل اتنا ہی اچھا ہو گا جتنا کہ اس سے سیکھنے کے لیے دستیاب ڈیٹا میسر ہو گا۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے مشہور کمپنی چیٹ جی پی ٹی نے نیا موبائل ایپ متعارف کروا دیا ہے۔ جو کے مقبولیت میں انسٹا گرام اور ٹک ٹاک کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ یہ پیچیدہ موضوعات کو حل کرنے اور اس پر لمبے بحث و مباحثے کی بدولت ہر کسی کو حیران کر رہا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی بالآخر سوچ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو اور اپنے نظام تعلیم کو فوراً سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی طرف راغب کرنا پڑے گا۔

مصنوعی ذہانت کے بے حد مثبت افادیت سے انسان کی ترقی اور ارتقاء شعور میں تیزی آ جائے گی۔ مشکل ترین کام مختصر وقت میں مکمل اور معیاری انداز میں ہوں گے ۔ ہر شعبہ AI کے ذریعے ترقی کرے گا۔ غیر ترقی یافتہ ممالک اس کے ذریعے بہت جلد ترقی کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں۔ جس میں ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔

انسان مختلف ادوار اور انقلابات سے گزر کے پتھروں کے دور سے اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں شامل ہو چکا ہے لیکن اب اپنی اس ترقی سے خود خوف زدہ بھی ہے۔ سوچنا، سمجھنا، تجزیہ کرنا ہر ذی شعور کا حق ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایک طرف تو انقلاب ہے دوسری طرف سخت محنتی کاروباریوں کی ایک نسل میں مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ جدید دور میں جہاں بہت سی مشکلات آسان ہو گئی ہیں وہاں مقابلہ بھی سخت کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS