سو رہے خاک میں ہم شورش تعمیر لیے
میں چند دن پہلے سبزی منڈی فروٹ لینے کے لیے گیا۔ تو وہاں پر میرے سہولت کار نے مجھے بتایا کہ اس سال آم بہت مہنگا رہے گا۔ کیوں کہ ملتان میں آم پیدا کرنے والی زمینوں کا بڑا حصہ ہاؤسنگ سکیموں کی زد میں آ چکا ہے۔ گویا کہ جدید ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منفی اثرات اب غذائی اجناس پر ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ میرے شہر کے چاروں طرف تقریباً پندرہ کلومیٹر کے دائرے میں ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار ہے۔ یہ ساری زمینیں زرخیزی کے اعتبار سے وطن عزیز کی زرخیز ترین زمینیں ہیں۔ اور ان کا دس فیصد حصہ بھی آباد نہیں ہوا۔ لیکن یہ ساری کی ساری زمینیں اب غذائی اجناس کے پیداواری علاقے سے باہر ہو چکی ہیں۔
بغیر کسی منصوبہ بندی کے اندھا دھند بنائی جانے والی ان سکیموں کا ایک منفی پہلو تو یہ ہے کہ مستقبل میں گزرتے وقت کے ساتھ زیر کاشت زمینوں کا رقبہ کم ہوتا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ غذائی اجناس کی پیداوار میں کمی آتی جائے گی۔ اور جس نسبت سے ملکی آبادی میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
تو پھر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم اپنی غذائی اجناس کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس وقت بھوکے ننگے اور غربت کے مارے عوام الناس کا جو رد عمل سامنے آئے گا۔ وہ ریاست اور معاشرے کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اور اس پر قابو پانا اتنا آسان نہیں رہے گا۔ ان ہاؤسنگ سکیموں کی بہتات سے یہ بھی نہیں ہوا کہ پلاٹوں اور مکانوں کی قیمت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو۔ بلکہ ان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
اور یہ معاشرے کی اسی فیصد طبقے کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں۔ ان جدید سوسائٹیز کے رواج سے پہلے پلاٹ خرید نا اور مکان تعمیر کر لینا تقریباً ہر طبقہ کے دائرہ اختیار میں تھا۔ چند ہزار روپوں میں پلاٹ مل جایا کرتا تھا۔ اور غریب اور کم آمدنی والا طبقہ بھی کچھ تھوڑا بہت اپنا اور کچھ ادھار سدھار پکڑ پکڑا کر اسے خرید لیتا۔ پہلے مرحلے میں اس کی چاردیواری کی جاتی پھر ایک آدھ کمرہ اور غسل خانہ وغیرہ بنا کر وہاں پر پانی کے لیے نلکا لگوا لیا جاتا تھا۔
اور آہستہ آہستہ بتدریج حسب ضرورت اس کو مکان کی شکل میں تعمیر کر لیا جاتا۔ جب کہ آج کل کم سے کم تر معیار کی ہاؤسنگ سکیم میں بھی پلاٹ کی قیمت سن کر ہی اسی فیصد طبقہ کے تو ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اس سے پہلی حکومت نے تعمیرات کے شعبے کو اوپر اٹھانے کے لیے اسے سرکاری طور پر بہت سی مراعات دیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس شعبے میں بہت کام ہوا۔ معاشی گروتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ تعمیر سے متعلقہ ہر چیز اینٹ، سیمنٹ، سریا، لکڑی غرض یہ کہ ہمہ قسم کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سو فیصد سے لے کر دو سو فیصد تک کا اضافہ ہو گیا۔
اور رہی سہی کثر روپے کی گرتی ہوئی قدر نے پوری کر دی۔ گویا کہ ان تمام اقدامات نے ایک غریب کنبے سے گھر پیارا گھر کا سنہرا خواب بھی چھین لیا۔ اور اب شاید وہ اس کے متعلق سوچتے بھی نہیں ہیں۔ ان سوسائٹیز کا اس سے بھی بہت بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ وطن عزیز کا بیشتر سرمایہ ان سکیموں کی مٹی میں مل کر وطن عزیز کے لیے تو کم از کم مٹی ہی بن چکا ہے۔ اس کی وضاحت ایک چھوٹی سی مثال سے کروں گا۔ کہ پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے لاہور میں ایک بہترین سوسائٹی میں موجود اپنا پلاٹ تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے میں بیچا اور اس سارے سرمائے سے لاہور میں ہی ایک ایسی سوسائٹی میں دو پلاٹ خرید لیے جو ابھی تکمیل کے ابتدائی مراحل میں تھے۔
وہاں پر اس نے ایک پلاٹ کی قیمت سے دو پلاٹ حاصل کر لیے۔ اب یہ سارے کا سارا سرمایہ ایک فرد کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے فرد کے ہاتھوں میں منتقل ہوا۔ اگر اسی سرمائے کو کسی چھوٹی موٹی فیکٹری بنانے میں صرف کیا جاتا تو فیکٹری میں درجنوں لوگوں کا روز گار چلتا۔ اس کی پراڈکٹ کو بازار تک پہنچانے میں کئی لوگ منسلک ہوتے۔ اس کو پرچون میں بیچنے اور خریدنے کے عمل سے بھی درجنوں لوگوں کی حصول روز گار کی سر گرمیوں میں اضافہ ہو سکتا تھا۔
آپ اندازہ لگائیں کہ صرف ایک پلاٹ کی قیمت کے عوض نہ صرف درجنوں لوگوں کی معاشی سرگرمیوں اور حصول روز گار کی کوششوں میں سہولت کاری مہیا کی جا سکتی ہے۔ بلکہ سرمایہ کار بھی زیادہ بہتر طریقے سے اپنے سرمایہ میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔ اور خدمت خلق کے کام میں بھی اضافہ ڈال سکتا ہے۔ رہائشی پلاٹ حاصل کر کے اس پر اپنی رہائش کے لیے مکان تعمیر کر لینا تو سمجھ میں آتا ہے۔ بلکہ کرائے پر دینے کے لیے مکان تعمیر کرنا بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
لیکن وطن عزیز کا کھربوں کا سرمایہ صرف مٹی میں جھونک دینا اور مٹی کو بیچ کر مٹی ہی خریدتے چلے جانا ایک غیر صحت مند معاشی سرگرمی ہے۔ جس سے وطن عزیز کے پورے معاشرتی اور معاشی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ارباب اختیار اور مقتدر طبقوں کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں ایسے مناسب اقدامات کیے جائیں کہ معاشرے کو ان بے ہنگم طریقے سے بڑھتی ہوئی رہائشی سکیموں اور ان کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔ گو کہ فی الوقت یہ ایک بہت مشکل کام محسوس ہو رہا ہے۔ کیونکہ وطن عزیز کے سارے کے سارے طاقت ور حلقے اس کام سے منسلک ہیں۔ بہر حال اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ کہ کھمبیوں کی طرح اگتی ہوئی ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منفی اثرات سے وطن عزیز کو کس طرح بچایا جا سکے کا ۔
سو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لیے بن گیا قصر تو پہرے پہ بیٹھ گیا کوئی


