چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا

جون 1981 تک میجر صاحب اپنی رہائش بوریوالا میں منتقل کر چکے تھے اور سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے میں بھی اُن کے ساتھ وہیں پر ہی قیام پذیر تھا۔ ایک دن صبح ہی مجھے بلایا اور کہا کہ، گاڑی کا بندوبست کرو۔ ہم لوگ سی ایم ایچ ملتان جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے صبح سے ہی سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔ میجر صاحب بھی کیا درویش صفت انسان تھے۔ فوج میں سروس کے

Read more

کیا خوب دن تھے جوانی کے

1981 کے شروع میں ہی میجر صاحب صرف 36 سال کی عمر میں فوج کو خیر باد کہہ کر گھر آ گئے تھے۔ بوریوالا میں ہمارا ایک مکان موجود تھا جو کہ کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اس کو خالی کروا کر اس کی مرمت اور حسبِ ضرورت چھوٹی موٹی تبدیلیوں کا کام شروع کروا دیا گیا۔ اس دوران میجر صاحب اپنے اہل و عیال سمیت ہمارے ساتھ گاؤں میں ہی مقیم رہے۔ ایک ویک اینڈ پر جب میں گھر

Read more

جس کی لاٹھی اُس کی بھینس

چک بیدی میں میس کا نظام درست ہونے سے زندگی معمول پر آ گئی تھی۔ رہائش ہماری سکول کے سائنس روم میں تھی۔ سردیوں میں یہیں سو جاتے اور گرمیوں میں چارپائیاں سکول کی عمارت کے سامنے کھلی جگہ پر بچھا کر پیڈسٹل فین لگا لیا کرتے تھے اور رات آرام سے کٹ جاتی کیوں کہ اس وقت لوڈشیڈنگ کی علت موجود نہیں تھی۔ شام کو میں اور بودلہ سکول میں کھیلے جانے والے والی بال کے کھیل میں شرکت

Read more

جعلی ڈائریکٹر کی طرف سے جعلی تقرر نامہ

مئی 1979 کی کوئی تاریخ تھی کہ میں اپنا بیگ کندھے کے ساتھ لٹکائے ہوئے گورنمنٹ ہائی سکول چک بیدی میں جا حاضر ہوا جہاں گورنمنٹ ہائی سکول رجحان سے میرا تبادلہ ہوا تھا۔ اس تبادلے کے پیچھے میری طرف سے متعلقہ کلرک کو دیا گیا 200 روپے کا زر کثیر اور شیخ ایوب کی خصوصی کاوشیں شامل تھیں۔ کیوں کہ اُن دنوں وہ مستقل طور پر چوک شہباز ملتان میں قیام پذیر تھا اور ہر دوسرے چوتھے دن وہ

Read more

ٹرین کا ایک یادگار سفر

شام کا وقت تھا ہم ابھی والی بال کھیل کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایک شخص کو بیگ گلے میں لٹکائے ہوئے سکول میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ موصوف سلامت علی ہیں۔ سلامت علی میرا میٹرک سے لے کر بی ایس سی تک کا کلاس فیلو رہا تھا اور اس کی تعیناتی بھی میرے ساتھ ہی ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میر ہزار سے دس بارہ کلومیٹر آگے کسی پس ماندہ ترین

Read more

محکمہ تعلیم میں انٹری

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہائی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں ہر چہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

پچھلے دنوں بورے والا جم خانہ میں میری کتاب حیات ورق ورق کی تقریب رونمائی تھی۔ یہ کتاب میں نے اپنی اہلیہ کی شدید خواہش اور اس کے اصرار پر اس کی رحلت کے بعد لکھنا شروع کی اور اس پر مجھے تاحیات افسوس اور پچھتاوا رہے گا، کہ میں نے اس کی زندگی میں اس کی ایک معصوم سی خواہش کو پرکاہ برابر بھی اہمیت کیوں نہ دی۔ شاید ہمارے خالص مردانہ معاشرے میں یہ ایک عمومی رویہ ہے

Read more

کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں انہیں

19 دسمبر 1978 کی صبح میں نے روجھان جانے کے لیے رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ طبیعت میں موجود فطری لاپرواہی کے سبب کسی سے یہ پتہ کرنے کی زحمت ہی گورا نہ کی۔ کہ وہاں پہنچنا کس طرح ہے۔ ارشد کی زبانی یہ تو معلوم ہو چکا تھا۔ روجھان ڈیرہ غازی خان سے تقریباً آگے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اپنے طور پر سفر کا پروگرام فائنل کر لیا۔ کہ یہاں سے بس کے ذریعے ملتان وہاں

Read more

خطۂ لاہور سے رخصتی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور

Read more

نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی

ہمارے بی ایڈ کے سالانہ امتحانات ہو چکے تھے لیکن میرے پراجیکٹ کا کام ابھی باقی تھا۔ اس وقت امتحانات میں معروضی سوالات کی ابتدا ہو رہی تھی اور میں نے اسی سلسلے میں قواعد و ضوابط کے مطابق معروضی سوالات تیار کرنا تھے۔ اس لیے امتحانات کے بعد ہوسٹل کے اکثر و بیشتر مکین تو اپنے اپنے گھروں کو کوچ کر گئے لیکن مجھے اپنے پراجیکٹ کی تکمیل تک یہیں ٹھہرنا تھا۔ ابھی دو تین دن ہی گزرے تھے

Read more

گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور

  گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کا ماحول بڑا یبوست زدہ سا تھا۔ یاس نا اُمیدی، اکتاہٹ، مایوسی، حزن و ملال اور افسردگی اس کے درو دیوار سے ٹپک رہی تھی۔ یہاں کا ہر باسی زندگی سے مایوس اور اُکتایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ ماحول پیدا کرنے میں اس کالج کے اساتذہ کا بڑا کردار تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اساتذہ کرام ہمہ وقت اپنی امنگوں، آرزوؤں اور خواہشوں کے لاشے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ماتم کناں اور نوحہ

Read more

ملازمت کا آغاز

بی ایس سی کا امتحان دینے کے بعد میں گاؤں میں چلا آیا۔ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گاؤں میں گزارا۔ میں ذہنی طور پر گو مگو کی کیفیت میں تھا۔ کورس کی کتابیں پڑھنے کو دل نہ کرتا کیوں کہ میں تو امتحان دے چکا تھا لیکن فیل ہونے کا ڈر لگا رہتا۔ ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں اکتا کر دوبارہ بوریوالا چلا آیا۔ یہاں بازار میں مجھے بشیر شاہین مل گیا۔ پوچھنے لگا کہ آج کل کیا کر رہے ہو

Read more

تعلیمی قابلیت پر سیاہ داغ

زندگی گزارنے کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی اور کیرئیر پلاننگ کے متعلق میری سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایف ایس سی کرنے کے بعد مجھے یہ علم نہیں تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔ روایتی دیہاتیوں کی طرح بس اتنا ہی علم تھا کہ بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ظاہر ہے کہ اب تیرہویں میں ہی داخلہ لینا ہے۔ ویسے ہمارے گاؤں میں تو کچھ لوگوں کو اس سادہ سی بات کا

Read more

کالج میں داخلہ

دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اب کالج میں داخلے کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس عمر میں عموماً نوجوانوں کے بہت سے خواب ہوتے ہیں اور وہ ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے محنت، کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن میرا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ نہ تو میرے کوئی خواب ہی تھے اور نہ ہی میں کسی خاص پیشے کو اپنا کر اس سے نام یا

Read more

ہائی سکول میں داخلہ

چھٹی جماعت میں ایک تو انگریزی کا نیا مضمون شروع ہوا تھا اور دوسرا عربی، فارسی اور ڈرائنگ تینوں مضامین میں سے ایک رکھنا تھا۔ میں نے ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے عربی زبان سیکھنے کو باقی دونوں مضامین پر ترجیح دی۔ ہمارے کلاس انچارج خوشی محمد صاحب پریاں والے تھے۔ پریاں والا اُن کے گاؤں کا نام تھا۔ جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی اور اُردو کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی محنتی اور سنجیدہ

Read more

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

1960 سے 1974 تک میں حصول تعلیم کے سلسلہ میں بوریوالا مقیم رہا۔ پرائمری تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں کیسا طالب علم تھا۔ کیوں کہ حساب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ابا جی سے ٹھکائی ہو جایا کرتی تھی لیکن پانچویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد حصولِ وظیفہ کے لیے امتحان دینے والے طلبا میں میرا شمار ہوتا تھا۔ ہماری پانچویں کلاس کے ٹیچر بھا جی مختار تھے۔ بہت چاق و چوبند، خوش لباس، دبنگ

Read more

بورے والا میں قیام

میں 1960 میں تقریباً سات سال کی عمر میں بورے والا آ گیا تھا اور 1974 میں بی ایس سی کرنے تک یہیں قیام پذیر رہا۔ جس چوبارے میں ہم رہائش پذیر تھے وہ ایک تنگ و تاریک آسیب زدہ سی کوٹھڑی پر مشتمل تھا۔ جس کے سامنے چھ، سات فٹ چوڑی لکڑی کی بنی ہوئی ایک گیلری تھی جس کے دریچے سامنے بازار میں کھلتے تھے۔ ہماری اس گیلری کے بالکل سامنے مختار سوڈا واٹر کی دکان تھی۔ اس

Read more

بورے والا ٹیکسٹائل ملز

بورے والا ٹیکسٹائل ملز شہر کے ماتھے کا ایک خوبصورت جھومر تھا جس نے شہر کی خوبصورتی، افادیت اور اہمیت کو چار چاند لگا رکھے تھے۔ اس مل کو پچاس کی دہائی کے قریباً وسط میں پاکستان انڈسٹریل بورڈ نے بنا کر اسے چلانے کے لیے کراچی کے مشہور و معروف کاروباری میمن خاندان کے سربراہ سیٹھ داؤد کو بیچ دیا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت کیونکہ تقریباً ساری انڈسٹری ہی ہندوستان میں رہ گئی تھی۔ اس لیے حکومتی سطح

Read more

بورے والا کا نیم دیہاتی ماحول

اُن دنوں بورے والا ایک سمٹا سمٹایا چھوٹا سا شہر ہوا کرتا تھا۔ گول چوک سے لے کر عارف بازار پرانا ڈاک خانہ چوک پر ختم ہو جاتا تھا۔ اسی طرح وہاڑی بازار قصائیوں والے چوک پر اختتام پذیر ہوجاتا اور ریل بازار کپڑا مارکیٹ تک ہی محدود تھا۔ کپڑا مارکیٹ کی جگہ ایک کھلا گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ ہی ایک سرائے موجود تھی۔ دیہات سے زمین دار اور کسان اپنی فصل اپنی بیل گاڑی پر لاد

Read more

دھوتی سے جڑے مسائل

جب مجھے گاؤں سے لا کر بورے والا کے پرائمری سکول میں داخل کیا گیا تو مجھے ایسے لگا۔ جیسے کہ آزاد پنچھی کے پر کاٹ کر اُسے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ کہاں گاؤں کی صاف، معطر، پاکیزہ اور پر لطف فضائیں اور کہاں شہر کا گٹھن زدہ اور پر تعفن ماحول کہاں گاؤں میں ہر ایک سے واقفیت، انسیت، تعلق، واسطہ اور کہاں شہر کی اجنبیت اور بیگانگی، کہاں گاؤں میں ہر چہار اطراف تاحد نگاہ

Read more

حصولِ علم کا آغاز

ہمارے گاؤں میں قیامِ پاکستان سے پہلے ہی لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول موجود تھا۔ جہاں پر ہمارے گاؤں کے ساتھ ساتھ اردگرد کے دیہات کے بچے بھی حصولِ علم کے لیے آیا کرتے تھے۔ ابا جی قریبی شہر بورے والا کے ایک سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ مجھ سے بڑے میرے دو بھائی تھے اور اُن دونوں نے پرائمری تک ہمارے گاؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کی اور چھٹی جماعت میں ابا جی کے ساتھ آ کر

Read more

اعتماد کرنے کے مثبت اثرات

نومبر 2002 ء میں میں نے گورنمنٹ ہائی سکول 495 /EB میں بطور ہیڈماسٹر جائن کیا۔ جب میں سکول میں ٹیچر تھا تو ہر پاکستانی کی طرح میں اپنے ہیڈماسٹرز کے کاموں میں اکثر کیڑے نکالتا رہتا۔ مثلاً ہمارے سکول میں ایک اچھی ضخامت کی لائبریری تھی لیکن وہ لائبریری اور اس میں موجود کتابیں بچوں کی پہنچ سے باہر ہوا کرتی تھیں۔ حالاں کہ کتابیں بھی موجود تھیں ایک بڑا سا کمرہ بھی لائبریری کے طور پر استعمال میں

Read more

میجر صاحب

چیت کی آخری دن جا رہے تھے۔ بیساکھ کا مہینہ شروع ہوا ہی چاہتا تھا بیساکھ کی آمد کسانوں اور کاشت کاروں کے لیے ہمیشہ سے ہی خوشی اور مسرت کا سندیسہ لاتی رہی ہے کیوں کہ چڑھتے بیساکھ کے ساتھ ہی گندم کی کٹائی شروع ہو جایا کرتی ہے۔ اس طرح کسان کی پچھلے چھ ماہ کی محنت کا پکا ہوا پھل اس کی جھولی میں گرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ فضل الہٰی کے لیے تو یہ دوہری

Read more

لکسمبرگ سے واپسی

آج 23 نومبر تھا اور میری واپسی کی تاریخ تھی۔ تین چار دن پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا کہ میری واپسی کا ٹکٹ 22 نومبر کا ہے اور ہر ایک کو یہی بتاتا رہا بلکہ کراچی میں میں نے شاہد نعیم کو بھی یہی تاریخ بتائی جس نے مجھے وہاں پر ریسیو کرنا تھا۔ تین چار دن پہلے میں بلال کو واٹس ایپ کال کر رہا تھا کہ وہاں پر مجھے اپنی ٹکٹ دکھائی دیا۔ اُسے کھول کہ دیکھا

Read more

کھانے کے لیے جینے والے لوگ اور الٹی سفارشیں

گورنمنٹ ہائی سکول پاکپتن میں دسویں جماعت کے پریکٹیکل کا امتحان لے رہا تھا۔ میں ابھی ایک گروپ کا امتحان لے کر فارغ ہی ہوا تھا کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر الہ بخش طارق آ گئے۔ موصوف عمدہ ادبی ذوق کے مالک ہیں اور ایک کتاب کے لکھاری بھی ہیں۔ پوچھنے لگے کہ فارغ وقت میں یہاں کیا کرتے رہتے ہو۔ میرے پاس دفتر میں آ جایا کرو۔ گپ شپ لگ جایا کرے گی۔ اگلے دن میں نے ایسے ہی

Read more

کراچی سے بورے والا کا سفر

مسافروں کا ساز و سامان اٹیچی کیسوں اور بیگوں کی صورت میں کراچی ائرپورٹ کی عمارت میں بیلٹ کے اوپر آہستہ آہستہ متحرک تھا اور بیلٹ کے اردگرد کھڑے مسافر اپنے اپنے سامان کو پہچان کر اُٹھا رہے تھے۔ میں بھی اسی ہجوم میں شامل لکسمبرگ سے اپنے ساتھ آنے والے سامان کی تلاش میں تھا۔ جو ایک عدد چھوٹے اور ایک بڑے اٹیچی کیس پر مشتمل تھا۔ میں جو بیگ پاکستان سے ساتھ لے کر گیا تھا وہ منزل

Read more

لکسمبرگ میں آخری دن

صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے آمنہ نے آ کر جگایا کہ ابو اُٹھ کر تیار ہو جائیں ہم آج ناشتہ باہر کرنے جا رہے ہیں۔ آج لکسمبرگ میں آپ کا آخری دن ہے اس لیے عمیر نے بھی آج چھٹی کر لی ہے۔ آج کا دن ہم باہر گھوم پھر کر ہی گزاریں گے۔ ویسے بھی آپ کے لیے ایک سر پرائز ہے۔ میں آمنہ اور عمیر آدھ پون گھنٹے میں تیار ہو کر باہر نکلے تو باہر سفیدی ہی

Read more

خوشبوؤں، محبتوں اور روشنیوں کا شہر پیرس

عمیر، آمنہ اور ضوحا ابھی سو رہے تھے کہ میری آنکھ کُھل گئی۔ میں آج اس اولڈ ہاؤس میں موجود کسی شخص کا انٹر ویو کرنا چاہتا تھا۔ اس سے گزری ہوئی زندگی کے واقعات، احساسات اور تاثرات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ میں جلدی جلدی تیار ہو کر استقبالیہ کمرے میں چلا آیا۔ یہاں پر کامن روم میں تین چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور باقی ایک ایک کر کے آرہے تھے۔ کیوں کہ تقریباً گیارہ بجے یہ لوگ ناشتہ

Read more

ڈہڈا بھیڑا عشقے دا روگ

بہار کی آمد آمد تھی کلیاں چٹک رہی تھیں۔ غنچے کھل رہے تھے۔ درختوں پر نئے شگوفے نکلنا شروع ہو چکے تھے۔ پاکپتن شہر کی قربت میں واقع نور پور کی شامیں بہت حسین ہو چکی تھیں اور آج تو اس میں انوکھا نکھار تھا۔ نئے پھوٹتے ہوئے شگوفوں کی خوشبو سے لدی پھندی ٹھنڈی ہوائیں عجب سماں باندھ رہی تھیں۔ جب یہ ٹھنڈی خوشبو دار اور کسی بھی قسم کی آلودگی سے پاک اور صاف ہوا سانس کے ذریعے

Read more

پیرس کی سیر اور اولڈ ہاؤس میں قیام

پیرس کی خوبصورتی کے متعلق بہت سی افسانوی اور رومانوی داستانیں دنیائے عالم میں زبان زد عام ہیں۔ اس کی سڑکیں شیشے کی ہیں۔ یہ روشنیوں کا شہر ہے یہ دنیا کا پایہ تخت ہے اور بہت سے ایسے محاسن اس سے منسوب ہیں۔ یہ فرانس کا دارالحکومت ہے جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ بائیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جو فرانس کی کل آبادی کا 19 فیصد بنتا ہے۔ یہ ایک اہم ریلوے، ہائی وے اور ہوائی نقل

Read more

دریائے موزلے کے کنارے ریمیش کی سیاحت

دو تین دنوں سے ہم مسلسل ایک سروس سٹیشن پر گاڑی کی سروس کروانے کے لیے جا رہے تھے لیکن وہاں پر پہلے ہی کچھ رش اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ہمیں واپس آنا پڑتا کیوں کہ پہلے دن ہی ہم نے سروس چارجز کی ادائیگی کر کے ٹوکن خرید لیا تھا۔ اس لیے اب سروس یہیں سے کروانا لازمی تھا۔ ورنہ پندرہ یورو میں خریدا گیا ٹوکن ضائع ہو جاتا۔ ایک دن وہاں گئے تو تین چار گاڑیاں

Read more

کاش کہ آصف نے ہیلمٹ پہنا ہوتا

میری داڑھ میں شدید درد تھا درد سے جان نکلی جا رہی تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ حالاں کہ گھر کے قریب ہی ایک ڈینٹسٹ کی دکان موجود تھی لیکن وہاں کیوں کر جاتی جیب میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ شام کو گھر والا جو کچھ بھی کما کر لاتا اس سے دال روٹی چل جاتی۔ مہنگائی آسمانوں پر ہے اور کاروباری سرگرمیاں کہیں پاتال میں گم ہیں۔ پیسے آئیں تو کہاں سے آئیں۔

Read more

ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل نمائش اور برسلز میں ڈھابہ

ایک خاتون میرے قریب آئی اور بولی السلام علیکم! انکل کیا حال ہیں آپ کے۔ وعلیکم السلام الحمدللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ انکل میں سارا کی امی ہوں آپ کب آئے ہیں اور کب تک یہاں ہیں؟ میں نے اُسے بتایا کہ میں اگلے ہفتے واپس پاکستان جا رہا ہوں تو وہ بولی ٹھیک ہے ہم اس ویک اینڈ پر اکٹھے مل کر کھانا کھانے کا پروگرام بناتے ہیں۔ میں اس وقت ضوحا کو لینے کے لیے اس کے سکول

Read more

اوسلو میں فرگنر پارک کی سیر

آج میرا یہاں آخری دن تھا۔ کل میں لکسمبرگ واپس جا رہا تھا۔ آج ہم یہاں فرگنر پارک دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اوسلو کے جنوبی ضلع میں واقع اوسلو کا سب سے بڑا پارک ہے۔ جو 32 ہیکٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ سیاحوں کے لیے رات دن ہر وقت کھلا رہتا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے کوئی ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ اس پارک کی شہرت کی اصل وجہ اس میں موجود گسٹووائج لینڈ سکلپر پارک ہے۔ جہاں گسٹو

Read more

اوسلو میں مادھو لعل حُسین کا کلام

صبح دس بجے کے قریب میں اور ڈاکٹر ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے باہر گئے کیوں کہ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ اس لیے ہم نے چھتریاں بھی ساتھ لے لیں۔ بلکہ چھتریاں سر پہ تان لیں۔ آج ہم اوسلو کا وہ علاقہ دیکھنا چاہتے تھے۔ جسے سب سے پہلے آباد کیا گیا تھا۔ ہم کافی دیر پیدل چلتے رہے۔ ہم اسی ماحول میں ایسے ہی مزاج کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ٹاؤن ہال

Read more

ہولمن کولن پہاڑ پر قدیم ریستوران

شام کو جب ڈیرے سے اٹھے تو پروگرام بنا کہ گاڑی ڈیرے پر ہی کھڑی کرتے ہیں اور عمران ہمیں گھر ڈراپ کر دے گا تاکہ ہم صبح گیارہ بجے گاڑی کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی کوفت سے بچ سکیں اور کل گیارہ بارہ بجے تک عمران ہمیں گھر سے لے لے گا اور وہ ہمیں ہولمن کولن پہاڑ سکائی جمپنگ ہل  ایک بہت پرانا ریستوران اور دوسری قابلِ دید جگہیں گھمائے پھرائے گا۔ حسبِ وعدہ وہ ساڑھے گیارہ

Read more

حنیف فوت ہو گیا ہے

اس آرٹیکل کے عنوان سے یقیناً آپ اندازہ لگا رہے ہوں گے کہ حنیف نامی شخص کوئی بڑا آدمی ہو گا۔ جس کی وفات کو ایک معروف ویب سائٹ پر ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے۔ وہ یقیناً کوئی نہ کوئی وزیر مشیر ہو گا۔ ایم پی اے، ایم این اے ہو گا۔ کوئی بڑے قد کاٹھ کا سیاسی لیڈ ر ہو گا۔ اگر یہ سب نہیں تو پھر بیوروکریٹ ہو گا۔ کوئی دانش ور ہو گا، شاعر یا مصنف

Read more

ڈرامن میں سپائرل سرنگ اور جنگل میں منگل

صبح سو کر اٹھے تو ڈاکٹر ذرا جلدی میں تھا۔ اس نے بتایا کہ ہم نے گیارہ بجے سے پہلے نیچے جاکر اپنی گاڑی کو اس جگہ سے ہٹانا ہے ورنہ چالان ہو جائے گا۔ بہرحال گیارہ بجنے میں کافی وقت تھا۔ تسلی سے نہا دھو کر ناشتہ کر کے بازار میں آ گئے جہاں گاڑی کھڑی کی ہوئی تھی۔ آج ہمارا پروگرام یہاں سے پینتیس چالیس کلومیٹر دور ایک شہر ڈرامن (Drammen) جانے کا تھا۔ گاڑی میں سوار ہو

Read more

ناروے کے شہر اوسلو میں قیام

ناروے شمالی یورپ کا ایک ملک ہے جس کا مرکزی علاقہ جزیرہ نما اسکنڈے نیویا کے مغربی اور انتہائی شمالی حصے پر مشتمل ہے۔ دور دراز آرکٹک جزیرہ جان مین اور سوا ایارڈ کا جزیرہ نما بھی ناروے کا حصہ ہے۔ ناروے انٹارکٹیکا کے جزیروں پیڑا ول آئی لینڈ اور کوئین موڈ لینڈ پر بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ مشرق میں اس کی طویل سرحد سویڈن کے ساتھ ملتی ہے۔ اس کے شمال مشرق میں فن لینڈ اور روس

Read more

فرینکفرٹ اور ہائیڈل برگ کی سیر کا احوال

جرمنی اقوامِ متحدہ نیٹو اور جی ایٹ کا رُکن ہے۔ یہ یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا، سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت رکھنے والا ملک ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ قومی زبان جرمن ہے اور جرمن زبان میں جرمنی کا نام ڈوئچے لینڈ ہے۔ اس کے شمال میں بحر منجمد شمالی، ڈنمارک اور بحر بالٹک مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجیم اور نیدرلینڈ

Read more

داستان بابت سفر از لکسمبرگ تا اوسلو اور نیازی بس سروس

جب میں پاکستان سے لکسمبرگ پہنچا تو ناروے سے ڈاکٹر افضل سعید کا فون آیا کہ آپ ناروے میرے پاس کب آرہے ہیں۔ میں نے حسبِ عادت ہوں ہاں کر کے بات کو ٹالنے کی کوشش کی جب مجھے یہاں آئے ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا تو اس نے دوبارہ رابطہ کیا بلکہ مجھے لکسمبرگ سے ناروے کے لیے لکسمبرگ ائر لائن کا ٹکٹ بھجوا دیا تاکہ میرے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اب وہاں جانے

Read more

لکسمبرگ میں مروجہ اخلاقی اقدار

آج اتوار تھا سارا دن ہی گھر میں رہے شام کو اچانک ہی پروگرام بن گیا کہ ڈیری فارم سے ضوحا کے پینے کے لیے تازہ دودھ خرید کر لانا ہے۔ گھر سے باہر نکلے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ دھیمی سی رفتار کے ساتھ ہوا بھی چل رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود موسم میں خوشگواری اور خوبصورتی کا تاثر غالب تھا۔ میں نے گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر اپنے دائیں بائیں گردن گھما کر ماحول کا

Read more

ملکی حد بندیوں سے آزاد یورپی معاشرہ

تقریباً چھ بجے شام لکسمبرگ سٹی ائر پورٹ سے باہر نکلا تو باہر عمیر، آمنہ اور ضوحا انتظار کر رہے تھے۔ سامان وغیرہ گاڑی میں رکھ کر گھر کی طرف چلے راستے میں عمیر بتا رہا تھا کہ پہلے ہم لکسمبرگ سٹی کے قریب ہی ایک شہر Pentage میں رہائش پذیر تھے۔ یہاں پر مکانات بہت مہنگے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ہی لکسمبرگ نہ صرف یورپ کے امیر ترین شہروں میں شامل ہے بلکہ مہنگا ترین ملک بھی ہے۔

Read more

سوئٹزر لینڈ، خوابوں کی سر زمین

صبح سویرے ہی آنکھ کھل گئی کمرے سے باہر نکلا تو یوں محسوس ہوا کہ کسی اور ہی دنیا میں موجود ہوں۔ رات دیر سے پہنچے تھے چاروں طرف اندھیرا تھا اور تھکے ہوئے بھی بہت تھے اس لیے گرد و پیش سے بے خبر فوراً ہی نیند کی گہری وادیوں میں اُتر گئے۔ اب جو چاروں طرف کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہم ایک جنت نظیر وادی میں موجود ہیں جس کے چاروں طرف فلک بوس

Read more

سوئٹزرلینڈ میں پہلا دن

ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے قریب کولمار سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں عمیر کے ایک دوست کا فون آ گیا جو پچھلے ہفتے سوئٹرزلینڈ سے ہو کر گیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں اپنی معلومات شیئر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب آپ سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوں تو بارڈر سے 45 یورو میں ونگٹ ضرور خرید لیں۔ یہ دراصل ٹول ٹیکس کی ادائیگی کی رسید ہے جو ایک سال کے لیے جاری کی جاتی ہے

Read more

سوئٹزر لینڈ کا تعارفی خاکہ

سوئٹزر لینڈ مغربی، وسطی اور جنوبی یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک لینڈ لاک ملک ہے یعنی اس کی کوئی بھی سرحد سمندر سے نہیں ملتی۔ اس کے جنوب میں اٹلی، مغرب میں فرانس، شمال میں جرمنی اور مشرق میں آسٹریا واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ ایک طرف کوہ الپس کی خوبصورت وادیوں اور دوسری طرف ایورہ کی اُونچی نیچی پہاڑیوں میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 21265 مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً 90 لاکھ نفوس

Read more

لکسمبرگ سے سوئٹزرلینڈ براستہ کولمار

لکسمبرگ پہنچ کر ایک دن قیام کیا اگلے دن سوئٹرزلینڈ کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔ سوئٹرزلینڈ یہاں سے پانچ گھنٹے کا سفر ہے۔ حالاں کہ ایک دن میں اتنا لمبا سفر کرنا میرے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی عمیر نے درمیان میں فرانس کے ایک شہر کولمار میں رات قیام کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا اور وہاں پر ایک ہوٹل میں کمرہ بھی بک کروایا ہوا تھا۔ ناشتہ کرنے اور تیار ہوتے ہوئے بارہ

Read more

لکسمبرگ کے ارتقاء کی تاریخ

لکسمبرگ مغربی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ جس کی کل آبادی 653102 نفوس پر مشتمل ہے اور رقبہ 2526 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کے مشرق میں جرمنی جنوب میں فرانس اور مغرب اور شمال دونوں اطراف سے بلجیم نے گھیرا ہوا ہے۔ اس کے دارالحکومت کا نام بھی لکسمبرگ سٹی ہے۔ جو یورپی یونین کے چار دارالحکومتوں میں سے ایک ہے۔ لکسمبرگی یہاں کی سرکاری زبان ہے اس کے علاوہ فرانسیسی اور جرمن بھی سرکاری زبانیں ہی تصور

Read more

کراچی سے لکسمبرگ براستہ استنبول روانگی

موبائل کی گھنٹی بجی فون اٹھایا تو بدر بول رہا تھا ابو دو بج رہے ہیں ائر پورٹ جانے کی تیاری کریں۔ اچھا یار چلے جاتے ہیں صبح 6 بجے فلائٹ ہے 2 بجے جا کر وہاں کیا کروں گا۔ انٹرنیشنل فلائٹ پر جانے کے لیے چار گھنٹے پہلے جانا ہوتا ہے۔ اس لیے اب مزید دیر نہ کریں اور فوراً ائر پورٹ پہنچیں۔ ہم ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ شاہد بھی میرے کمرے میں پہنچ گیا اور

Read more

یورپ کی سیر کا پہلا پڑاؤ

جب اگست کا مہینہ شروع ہوا تو میں نے لکسمبرگ جانے کا پروگرام فائنل کر نا شروع کر دیا اور بلال کو بتا دیا کہ 15 اگست کے بعد کا ٹکٹ خرید لو۔ پہلے 28 اگست کی ٹکٹ خریدی گئی لیکن ترکش ائر لائن کی اس فلائٹ میں استنبول میں بیس گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا جس کی وجہ سے یہ پروگرام کینسل کر کے دوبارہ 8 ستمبر کی ٹکٹ خریدی گئی جس میں استنبول میں صرف چار گھنٹے کا ٹرانزٹ

Read more

یورپ بھی ذرا جھانک آؤں

لکسمبرگ سے بہار کے موسم اور مارچ کے مہینے میں ایک خط موصول ہوا کھول کر دیکھا تو خط انگلش زبان میں لکھا ہوا تھا۔ گو کہ ایک کھرے اور روایت پسند دیہاتی ہونے کے ناتے انگریزی زبان سے ہماری شروع سے ہی لاگ ڈاٹ رہی ہے۔ لیکن چار جماعتیں پڑھ جانے کی وجہ سے ہمیں یہ بھی زعم ہے کہ ہم انگریزی پڑھ بھی سکتے ہیں اور سمجھ بھی سکتے ہیں۔ اسی اعتماد کے سبب ہم نے اس فرنگی

Read more

ریفریشر کورس: تمت بالخیر

15، 16 مئی آج کورس کا آخری سے پہلا دن تھا صبح اسمبلی کے بعد حاضری لگائی گئی۔ آج طریقِ کار کافی سخت تھا۔ پراکسی لگوانے کا کوئی چانس نہ تھا۔ ہماری پورے مہینے کے دوران دو غیر حاضریاں لگی ہوئی تھیں۔ جس کا ہمیں قطعاً افسوس نہ تھا۔ کیوں کہ دو دو غیر حاضریاں بہت ہی باقاعدگی سے کورس اٹینڈ کرنے والوں کی بھی لگی ہوئی تھیں۔ لوگوں نے شکور صاحب کی منت سماجت کر غیر حاضریوں کو حاضریوں

Read more

ریفریشر کورس: تفریحی اور معلوماتی دورہ

بورے و الا سے بھاگم بھاگ ٹھیک ساڑھے نو بجے کالج پہنچا۔ کیوں کہ یہ ریفریشر کورس کا آخری ہفتہ تھا۔ اس لیے باقی ماندہ دنوں کو باقاعدگی سے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں گزارنے کا ارادہ تھا۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے مبارک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جنہوں نے یہ خبر سنائی کہ بس تیار کھڑی ہے اور سب لوگ ایک دن کی آؤٹنگ کے لئے باہر جا رہے ہیں۔ ہمیں دیکھتے ہی یار لوگوں نے نعرے لگانے شروع کر

Read more

ریفریشر کورس: دہ جماعت پاس ڈائریکٹ حوالدار

آج ساڑھے نو بجے گہوارہ علم پہنچے۔ تقریباً آٹھ دن کے بعد دوبارہ یہاں آمد ہوئی تھی۔ اندیشہ ہائے دور دراز سے بھرے ذہن کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوئے۔ وہاں اٹھارہ بیس کے قریب ٹیچرز براجمان تھے۔ اور گپ شپ لگ رہی تھی۔ شکور صاحب بھی بے بس، خاموش اور الگ تھلگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آج منشا صاحب موجود نہ تھے تو کسی سے بھی اتنا نہ ہوسکا کہ تلاوت کلام پاک سے دن کا آغاز کرسکے۔ ہمیں

Read more

ریفریشر کورس :دینی تعلیم دینے کے عوض معاوضہ حرام شد

صبح اٹھے تو طبیعت ہشاش بشاش تھی۔ نہا دھو کر, ناشتہ کر کے اسمبلی کے لیے سائنس روم جا بیٹھے۔ منشا صاحب نے قرآن پاک کی ایک سورۃ کی تلاوت کی اور اس کے بعد ایک حدیث پڑھی کہ جو آدمی علم رکھے اور دوسروں تک اس علم کو نہ پہنچائے وہ گنہگار ہے۔ ہم اس حدیث کو سن کر خوش ہوئے کہ ہمارا تو کام ہی یہی ہے کہ اپنے علم کو متواتر اور مسلسل دوسروں تک پہنچاتے رہیں۔

Read more

ریفریشر کورس 28 اپریل انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں طعام

علی الصبح اٹھے سو کر نہیں بلکہ چارپائی سے کیوں کہ ساری رات سرے سے ہی نیند نہیں آئی تھی۔ اور مچھروں سے لڑتے بھڑتے رات گزری تھی۔ طبیعت بہت بوجھل تھی۔ سردرد اور ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ گرم پانی سے نہایا جائے۔ تلاش حمام میں آدھ گھنٹہ صرف کیا۔ لیکن ناکام رہے ناچار واپس آ کر منہ ہاتھ دھویا ناشتہ کر کے دوبارہ لیٹ گئے اور فوراً ہی آنکھ لگ

Read more

خاک و خون سے بھرپور داستان ہجرت

آنکھوں میں ان دیکھی موت کا خوف، چہروں پر غیر یقینی کیفیت کے آثار، دماغ میں اندیشوں اور وسوسوں کے رینگتے ہوئے سنپولیے، دلوں میں زندگی کی امنگ، اپنوں سے بے پایاں محبت اور دشمنوں سے نفرت اور انتقام کی آرزو لیے کپکپاتے ہونٹوں اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ پچاس افراد کا یہ گروہ جونہی بیلے کے جنگلات میں تھوڑی ہی دور اندر تک گیا تھا کہ سامنے سے سکھوں اور اکالیوں کا لاٹھیوں، کلہاڑیوں، برچھیوں اور کرپانوں سے

Read more

ریفریشر کورس: چار دنوں کے بعد واپسی

صبح ساڑھے نو بجے شیخ ایوب نے کالج کے سامنے ڈراپ کیا۔ کالج ٹائم آٹھ بجے تھا۔ بھاگم بھاگ پیریڈ میں پہنچے تو نذیر صاحب لیکچر دینے میں مصروف تھے ہم حسب عادت بغیر کاپی پنسل کے بیٹھے سر ہلا رہے تھے۔ پانچ سات منٹ کے بعد جب ہم نے اپنی توجہ مبذول کی تو معلوم ہوا کہ موصوف کچھ گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ وہ تفاعل کے متعلق بتاتے ہوئے ڈومین سیٹ اور رینج سیٹ کی تعریفیں لکھوا رہے

Read more

ریفریشر کورس: کورس کا پہلا دن

خلاف معمول علی الصبح آنکھ کھل گئی۔ ساری رات مچھروں کے گیت سننا پڑے۔ ہم نے ساری رات مچھروں سے جنگ کرنے میں صرف کر دی۔ صبح نہا دھو کر اور ناشتہ کر کے وقت سے پہلے تیار ہو گئے۔ پہلا پیریڈ ساڑھے آٹھ بجے تھا۔ ہم کچھ پہلے ہی کلاس روم میں جا بیٹھے اور متعلقہ سر کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک خوبرو سے صاحب پتلون اور بوشرٹ میں ملبوس کمرے میں داخل ہوئے

Read more

گہوارہ تعلیم و تربیت میں حاضری

22 اپریل 1984 ء صبح سویرے سو کر اٹھے تو بیگ خریدنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ بازار جاکر مختلف دکانوں پر موجود بیگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک بیگ پسند کیا گیا۔ اور اس کے بعد دکان دار سے قیمت دریافت کی۔ اس نے اسی روپے طلب کیے۔ ہم نے سابقہ تجربے کی بنیاد پر بڑے اعتماد سے چالیس روپے کہہ دیے۔ دکاندار حیرت سے دیدے پھاڑے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہم نے کوئی آن ہونی بات کہہ

Read more

دوسروں کا ناپسندیدہ ہمارا پسندیدہ ترین ٹھہرا

گورنمنٹ ہائی سکول روجھان میں پانچ ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد میرا ٹرانسفر گورنمنٹ ہائی سکول چک بیدی ضلع ساہیوال میں ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا۔ گویا کہ میں اپنے گھر میں ہی واپس آ گیا ہوں۔ حالانکہ یہ سکول بدنام زمانہ سکول تھا اور لوگوں کا سزا کے طور پر یہاں تبادلہ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں پہنچنے کے لیے مجھے پہلے اپنے گاؤں سے حاجی شیر آنا پڑتا۔ وہاں سے بس میں بیٹھ کر

Read more

ایک دن کا مجسٹریٹ

نوے کی دہائی کا زمانہ تھا وطنِ عزیز کی دو مشہور و معروف سیاسی پارٹیاں میوزیکل چیئر کی دلچسپ اور منعفت بخش گیم سے خوب لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ قانون سازی کے علاوہ ہمارے محترم پارلیمنٹیرینز کو دنیا جہان کے کام تھے کیوں کہ ترقیاتی فنڈز بھی انہی کے ذریعے خرچ ہوتے تھے اس لیے لوکل کونسلیں انہیں وارا نہیں کھاتی تھیں۔ لیکن پھر بھی دنیا دکھاوے کے لیے کبھی کبھار مقامی یونین کونسلوں کے انتخابات بھی کرا دیے

Read more

ریفریشر کورس: الٹی ہو گئیں سب تدبیریں

میں اپنی پرانی یادداشتیں دیکھ رہا تھا کہ 1985 میں ٹریننگ کالج ملتان میں کیے گئے ایک ریفریشر کورس کی تاریخ وار لکھی ہوئی ڈائری مل گئی میں نے پچھلے دنوں 2004 میں کیے گئے ایک ریفریشر کورس کی داستان تین چار کالموں کی شکل میں ہم سب پر شیئر کی تھی میں نے سوچا کہ اس سے انیس سال پہلے کیے گئے ایک دوسرے ریفریشر کورس کی داستان بھی انہی الفاظ میں شیئر کرتا چلوں جن الفاظ میں یہ

Read more

دیہی زندگی میں سرکار کی ناقص منصوبہ بندی

روٹی کے بعد زندگی کی دوسری بڑی ضرورت کپڑا تھی۔ کپڑے کے معاملے میں دیہاتی عموماً بے نیازی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ انہیں بخوبی علم تھا کے کپڑے کی عدم دستیابی کی صورت میں بھی زندگی کا پہیہ رواں دواں ہی رہتا ہے۔ عوام الناس کے پاس صرف ایک دو جوڑے صاف ستھرے کپڑوں کے ہوا کرتے۔ جنہیں وہ گاؤں میں باہر جاتے وقت بڑے اہتمام سے پہن لیا کرتے۔ کام کاج کے دوران وہ پیوند لگے

Read more

دیہی طرزِ زندگی

والدین چار بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل ہمارا گھرانا گاؤں میں آباد تھا۔ گاؤں سے ملحق تھوڑی سی ملکیتی زمین تھی۔ والد صاحب گاؤں سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر میں ایک سکول میں ٹیچر تھے۔ وہ روزانہ سائیکل پر شہر جاتے۔ وہاں پر سکول میں بچوں کو پڑھاتے اور چھٹی کے وقت گھر واپس آ کر کاشت کاری اور ڈھور ڈنگروں سے وابستہ معاملات نمٹا لیا کرتے۔ اُن دنوں گاؤں میں جن کاشت کار گھرانوں

Read more

دستاویزات کی تصدیق کا مشکل عمل۔۔۔ وگرنہ گویم مشکل

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بوریوالا کے ایک نواحی گاؤں کے ہائی سکول میں بطورِ ہیڈماسٹر تعینات تھا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے وہاڑی میں ماہانہ میٹنگ بلوائی ہوئی تھی اور مجھے بھی اس میں شرکت کرنا تھی۔ میں اس خیال سے ایم سی ہائی سکول بورے والا میں پہنچ گیا کہ یہاں سے بھی ہیڈ ماسٹر نے میٹنگ میں جانا ہے اکٹھے مل کر جائیں گے لیکن یہاں کے ہیڈماسٹر وقت کے کچھ زیادہ ہی پابند تھے

Read more

درویش صفت استاد

بچوں کو صبح سویرے جگایا جاتا۔ صبح کی نماز کے بعد وہ سپارہ پڑھنے کے لیے باجیوں کے پاس چلے جاتے۔ تین بیٹیوں اور ایک والدہ پر مشتمل یہ گھرانا سارے محلے میں باجیوں کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سارے محلے کے بچے صبح شام باقاعدگی کے ساتھ باجیوں کے پاس سپارہ پڑھنے کے لیے جایا کرتے۔ واپس آتے تو وقت کی کمی کے باعث تم جلدی جلدی انہیں نہلا دھلا کر تیار کرتیں۔ یونیفارم پہناتے وقت کسی کی

Read more

ایک پراعتماد خاتون کی حوصلہ افزائی کے مثبت اثرات

میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ سامنے ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی کار آ کر رکی اس میں ایک خاتون اور ایک تین چار سال کا بچہ باہر نکلے۔ خاتون نے بچے کو انگلی پکڑائی اور سکول میں بنے ہوئے مڈل کے امتحانی سنٹر میں چلی گئی۔ یہ آج سے بیس سال پہلے کی بات ہے اور اس زمانے میں ہمارے شہر میں بھی خال خال ہی خواتین ڈرائیونگ کرتی ہوئی نظر آیا کرتی تھیں۔ جب کہ

Read more

شاہ صاحب کی کرامات

  روجھان میں میرا قیام پانچ ماہ تک رہا۔ مرغوں کی لڑائیاں کروانا لوگوں کا مرغوب مشغلہ تھا۔ جس جگہ مرغے لڑ رہے ہوتے وہاں تماشبینوں کی کافی تعداد اپنے اپنے مرغوں کو بغل میں دبائے موجود نظر آتی۔ آپ یہ بات سن کر حیران ہوں گے کہ وہ لوگ اپنے اپنے مرغوں کو اس لڑائی میں استعمال کیے جانے والے داؤ پیچ سے واقفیت حاصل کروانے کے لیے یہاں لایا کرتے تھے۔ شوٹنگ والی بال بھی یہاں کا مقبول

Read more

ملازمت کا یوم اول

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہوئی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں پرچہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو کو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

اے حسن ڈھونڈ کر تجھے لائیں کہاں سے ہم

19 دسمبر 1978ء کی صبح میں نے روجھان جانے کے لیے رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ طبیعت میں موجود فطری لاپرواہی کے سبب کسی سے یہ پتہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ وہاں پہنچنا کس طرح ہے۔ ارشد کی زبانی یہ تو معلوم ہو چکا تھا۔ روجھان ڈیرہ غازی خان سے تقریباً آگے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اپنے طور پر سفر کا پروگرام فائنل کر لیا کہ یہاں سے بس کے ذریعے ملتان وہاں

Read more

آدم خور قبائلیوں کے علاقہ غیر میں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور

Read more

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

غالباً 2012 ؁ء کے اوائل کی بات ہے میں اُن دنوں گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 171 /EB ضلع وہاڑی میں بطور ہیڈ ماسٹر کا کام کر رہا تھا کہ ملتان بورڈ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر جرمانے کی رقم متعلقہ بورڈ کو جمع نہ کروانے کی صورت میں جماعت نہم اور دہم کے طلباء کو رول نمبر سلپس ایشو نہیں کی جائیں گی۔ جرمانہ شدہ رقم کا درست عدد تو اس

Read more

ایک ہی نقطے نے محرم سے مجرم کر دیا

نوے کی دہائی کے وسط میں ہم ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے والدین بن چکے تھے۔ زندگی بڑے سکون سے گز ر رہی تھی۔ سارا دن مصروفیت میں گزر جاتا۔ صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد سکول چلا جاتا۔ سکول میں سار وقت بچوں کو پڑھانے میں گزرتا۔ واپسی پر کھانا کھانے کے بعد گھر کے نزدیک بنی ہوئی اکیڈمی میں چلا جاتا مغرب تک وہاں مصروف رہتا۔ مغرب سے بعد از عشاء تک کا وقت اپنے بچوں کے

Read more

بیٹے کی پیدائش سے بے خبر باپ

ہمارے پدرانہ نظام کے معاشرے میں آج بھی بیٹی کی پیدائش کو بہت بڑا بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ والدین کے لیے ان کی محبت اور جذباتی لگاؤ بیٹوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوتا ہے۔ بیٹے کی خوش خبری نے تمہارے مرجھائے ہوئے چہرے کو بھی خوب تازگی بخش دی۔ اس وقت ہمارے گھر میں صرف ہمارا خاندان ہی رہائش پذیر تھا۔ ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین اپنا ذاتی کلینک شروع کر چکے تھے۔ اور کلینک کے اوپر

Read more

عینک کے استعمال میں تساہل

میں دسویں جماعت میں تھا جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ میری ایک آنکھ کی نظر اس قدر کمزور ہے کہ عینک بھی اس میں بہتری لانے سے قاصر ہے۔ ڈاکٹر نے مجھے بڑا کہا کہ تم عینک لگوا لو ورنہ دوسری آنکھ کی نظر بھی کمزور ہو جائے گی لیکن میرا ذاتی خیال تھا کہ عینک میری شخصیت کی ہیروانہ مقناطیسیت کو کم کر دے گی۔ کیونکہ اُن وقتوں کے فلمی ہیروز میں عینکیں لگانے کا رواج

Read more

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

غیر حاضر دماغی، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری میری شخصیت کے بنیادی عناصر ہیں۔ دکاندار سے سامان خرید کر ادائیگی کرنا اور سامان دکان میں چھوڑ دیتا۔ ایک دکان سے سامان خرید کر دوسری دکان میں جاکر سامان خریدنا اور پہلی دکان کا خریدا ہوا سامان دوسری دکان میں بھول جانا۔ بل کی ادائیگی کرتے وقت دکاندار سے بقایا پیسے لینے یاد نہ رکھنا روز مرہ کا معمول تھا۔ بلکہ اب تو اس میں مزید برکت پڑ گئی ہے۔ ان

Read more

جھونپڑے میں مکین ملکہ

بچوں کو صبح سویرے جگانا، نہلانا، سکول کے لیے تیار کرنا، ان کی پسند کا ناشتہ تیار کرنا، ان کے ٹفن تیا ر کرنا سکول بھیجنا، ان کے اتارے ہوئے کپڑوں کو سمیٹنا، دھونا، استری کرنا، دوپہر کا کھانا تیار کرنا۔ گھر کی صفائی کرنا غرض کہ اس قسم کے بیسیوں کاموں میں تمام دن خوشی خوشی مصروف رہتیں۔ ایک دو بار میں نے کوشش کی کہ ان کاموں میں تمہاری مدد کے لیے ایک آدھ جزوقتی ملازمہ رکھ دوں

Read more

تونگری بہ دل است نہ بہ مال

دسمبر 1952 ء کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا۔ سردی اپنے پورے جو بن پر تھی۔ فضل الہٰی صبح سویرے اذان کے وقت نیند سے بیدار ہوئے۔ یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچ گئے۔ اُن دنوں عام لوگوں کو گھڑیوں اور الارم کی سہولیات کہاں میسر تھیں۔ مساجد میں بھی عصرِ حاضر کی طرح لاؤڈ سپیکروں کا رواج نہیں تھا اور اذان کی آواز بمشکل ہی مسجد کے باہر تک سنائی

Read more

اپنی مدد آپ کے تحت طلبا کی مدد کی کوششیں

میں باہر گراؤنڈ میں کلاس لیے بیٹھا تھا۔ دسویں کلاس تھی تعداد تقریباً سو کے لگ بھگ ہو گی۔ دس دس طلباء گروپوں میں بیٹھے ہوئے داخلہ فارم پر کر رہے تھے اور میں ان کے مد گار کی حیثیت سے وہاں موجود تھا اور ان کو اجتماعی طور پر ہدایات جاری کی جا رہی تھیں۔ داخلہ فارم کو پر کرتے وقت ہمیں بہت محتاط رہنا پڑتا تھا۔ کیوں کہ ملتان بورڈ نے وطن عزیز میں رائج دیگر قوانین کی

Read more

پیر خانے کی حاضری اور تعویذ کی تاثیر

ایک نو چندی جمعرات کو صبح سویرے نماز کے بعد ہم پیر محمد علی شاہ سے تعویذ لینے کے لیے بھائی پھیرو روانہ ہو گئے۔ بس میں بیٹھا ہوا میں متضاد کیفیات کا شکار تھا۔ ایک طرف تو میں اپنی حماقت، جہالت اور بیوقوفی پر کڑھ رہا تھا۔ کہ جس وقت تمہیں شد ید احتیاط اور آرام دہ طرز زندگی کی ضرورت ہے بس کے تکلیف دہ اور غیر محتاط سفر کا خطرہ مول لے کر میں نے انتہائی غیر

Read more

دس روپے میں تعویذ

بلال کی عمر دو سال کی تھی جب قدرت نے اصفیٰ کی شکل میں اپنی رحمت سے نواز دیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی لیکن ماں جی نے کسی قسم کے تاثرات کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ہم ٹھہرے دیہاتی لوگ جہاں بیٹیوں کو بہت بڑا بوجھ سمجھا جاتا اور اکثر اوقات ایسے مواقع پر باقاعدہ رنج، پریشانی اور نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاتا۔ بلکہ بعض بوڑھی عورتیں تو موقع ملتے ہی ان ننھی جانوں کی واپسی کے لیے

Read more

شاہ صاحب کا بیوپار اور سورۃ بقرہ والی گائے

میرے بھائیو! اس بیل کو غور سے دیکھ لو پوری تسلی کر لو۔ میری کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ میرے نزدیک تو یہ اندھا بھی ہے گو نگا بھی بہرہ بھی لنگڑا بھی لونڈا اور کان کٹا بھی غرض کہ ہر عیب اس میں موجود ہے اور تم نے ان سب عیبوں سمیت اسے خریدنا ہے۔ کل میں تمہاری طرف سے کوئی اعتراض نہیں سنوں گا۔ محمود الحسن شاہ کی حویلی میں دیوان صاحب سے آئے ہوئے تین بیوپاریوں اور شاہ

Read more

انسانوں کے رزق کی تقسیم

ماں جی کہا کرتی تھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام انسانوں کا رزق اپنی مٹھی میں بھر کر زمین پر پھینک دیا ہے۔ جس جس کے حصے کا دانا جس جگہ پر جا کے گرا ہے اس نے وہیں جا کر چگنا ہے۔ عجیب سی بات لگتی ہے لیکن اتنی چھوٹی عمر میں بلال کے کیوبا جانے سے اس بات کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ کیونکہ اتنی کچی عمر میں اسے سات سمندر پار غیر ممالک میں

Read more

سرکاری محکمہ جات کا طرز عمل

زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ بلال ایف ایس سی کر چکا تھا۔ اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ جو میری بہت بڑی خواہش تھی۔ اب وہ دوبارہ ایڈیشنل میتھ کا پرچہ دینے کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ہی دوبارہ انٹری ٹیسٹ کے لیے بھی متعلقہ سلیبس وغیرہ دیکھ رہا تھا۔ ایف ایس سی کے امتحان شروع ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہمیں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ایڈمیشن بورڈ کی طرف سے ایک

Read more

الف لیلوی ماحول اور استقبالی دستہ

حسبِ معمول صبح سویرے اٹھنے کے بعد فجر کی نماز ادا کی جو گنگ کٹ پہنی اور واک کی غرض سے ہاسٹل سے نکل پڑے۔ جونہی ہوسٹل کے بیرونی دروازے پر پہنچا اور باہر کے ماحول پر نظر پڑی تو بری طرح ٹھٹھک کر رہ گیا ہوسٹل کا بیرونی علاقہ ہمہ وقت گرد و غبار سے اٹا رہتا۔ خداوندان یونیورسٹی کو کبھی بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس علاقے کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی باقاعدہ نظام ترتیب دیتے۔

Read more

جاسوس کی نشان دہی

قدرت نے ہمیں اوپر تلے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کی نعمت سے سر فراز کیا۔ بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں تمہاری دلچسپی غیر معمولی تھی۔ اپنے تمام تر لاپرواہیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اس معاملے میں میں بھی خاصا محتاط تھا۔ سارا دن سکول میں مصروف رہتا۔ یہاں پر کچھ ڈیوٹیاں تو میری محکمے نے لگائی ہوئی تھیں اور کچھ میں نے از خود بھی لگائی تھیں۔ پیریڈ پڑھانے کے بعد جو خالی پیریڈ ہوتے۔ وہ گیٹ پر

Read more

یونیورسٹی کا باوا آدم ہی نرالا تھا

ہم پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے کھڑے سوچ رہے تھے کہ جس زمانے میں اس حسینہ سے ہماری کچھ رسم و راہ تھی۔ وہ اس کے شباب کا زمانہ تھا۔ اپنے حُسن کے جلوؤں اور شباب کی رنگینیوں سے زمانے بھر کی نگاہوں کو خیرہ کرنے کی غرض سے چادر اور چار دیواری کی اوٹ میں چھپنا اُسے قطعاً گوارا نہیں تھا۔ مجھے دیکھو اور میرے حسن و شباب کی تعریف کرو کی خواہش لیے یہ لاہور

Read more

منسٹر لاج کے مکین

بیگ گلے میں لٹکائے ہوئے نوید صاحب سے گپ شپ کرتے بڑی ذہنی آسودگی اور اس اعتماد کے ساتھ ہوسٹل پہنچے کہ یہاں ہماری رہائش کاشیان ِ ِشان بندوبست کیا ہوا ہو گا۔ آخر کار ایک بڑے گزٹیڈ افسر نے صوبائی دارالحکومت کو اپنی تشریف آوری سے نوازا ہے کوئی مذاق تھوڑی ہے ہوسٹل سپریٹنڈنٹ سے ملے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا کہ رہائش کے لیے جگہ ندارد کیوں کہ ہم ایک دن کی تاخیر سے یہاں پہنچے

Read more

تذکرہ بابت محکمہ جاتی ریفریشر کورس

مورخہ 4 ستمبر 2002 کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کے ساتھ ہونے والی ماہانہ میٹنگ میں موجود تھے اور ضلعی افسر تقریباً سوا سو ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹرسز کو اپنی اور حکام بالا کی طرف سے وصول کر دہ احکامات بڑے زور و شور کے ساتھ سنا رہے تھے اور حاضرین میں سے اکثریت ہماری طرح بڑی بے زاری کے ساتھ ہر مہینے تواتر سے دہرائی گئی اس تقریر سے بے نیاز جمائیاں

Read more

دودھ دینے والا جولاہا اور جھانویں کا عشق مجازی

آج کل جس طرح لوگوں کے قد کاٹھ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح فصلوں کی جسامت میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ہماری جوانی کے دور میں مختلف فصلوں کی قدو قامت دور حاضر کی فصلوں کے دوگنا سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ ایک بار ہم نے باجرے کی فصل کاشت کی۔ جب یہ فصل پک کر تیار ہو گئی تو اس کا قد اتنا بڑا تھا اتنا بڑا تھا کہ لگتا تھا کہ آسمان

Read more

اس کی سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

یار لوگوں کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ خوشیا کی طرز حجامت نے گاؤں کے مردوں کی اکثریت کی شکل و شباہت اور اعمال و افعال کو عین اسلامی طرز میں ڈھالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ لوگوں کی بہت بڑی اکثریت نے صرف حجامت کروانے کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے شیو کروانا اور سر کے بال منڈوانا ترک کر دیے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ان کے چہروں پر اسلامی طرز کی

Read more

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

یار لوگوں کا خیال ہے کہ اس بات کا پتہ چلانے کے لیے کہ خوشیا گھر پر موجود ہے یا نہیں۔ اس کے گھر کسی کو بھیجنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ آپ گاؤں میں جس جگہ موجود ہیں ادھر ہی صرف آسمان پہ نگاہ بلند کریں۔ اگر وہاں نچلی فضا میں زمین کی طرف مائل بہ پرواز چیلیں اڑتی ہوئی دکھائی دے جائیں تو سمجھ لیں کہ خوشیا نہ صرف اپنے گھر پر موجود ہے بلکہ اس کے مضبوط کھردرے

Read more

ڈاکٹر وادھو کی شوگر کا علاج کیوں نہ ہو سکا؟

ڈاکٹر وادھو کو جب اپنے علم و حکمت کی دھاک بٹھانا ہوتی تو پھر وہ مریض کو ٹونٹیاں لگا کر چیک کرتا۔ یہ بلڈ پریشر معلوم کرنے کا آلہ تھا جو عرصہ دراز سے ڈاکٹر کا ساتھی تھا۔ ویسے تو ان کا تجربہ ہی اس قدر تھا کہ وہ مریض کی نبض سے ہی اس کی بیماری کی درست تشخیص کر لیتے۔ لیکن پھر بھی وہ کبھی کبھار بلڈ پریشر معلوم کرنے کا آلہ اور تھرمامیٹر کا بھی استعمال کر

Read more

گاؤں میں مردے زندہ کرنے والا ایک ڈاکٹر

جونہی جنازہ میرے پاس سے گزرا میں ٹھٹھک گیا۔ میں نے کفن میں ملبوس میت پر نگاہ ڈالی اور جنازہ اٹھانے والے لوگوں کو جنازہ نیچے رکھنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے تذبذب کی حالت میں جنازے کو نیچے اتار کر زمین پر رکھا۔ تو میں نے ان سے درخواست کی کہ میں مردے کا منہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک بزرگ نے کفن کھول کر مجھے میت کا چہرہ دکھایا۔ میں تو چہرہ دیکھتے ہی بھانپ گیا تھا کہ یہ

Read more

میرے گاؤں میں طریقۂ علاج

آپ کا اصلی نام سید احمد حسن شاہ تھا۔ لیکن آرڈر شاہ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ساڑھے پانچ فٹ قد، سر پر چھوٹے چھوٹے سفید بال، بڑی بڑی سرخی مائل آنکھوں کے اوپر گھنی، سفید اور درمیان سے آپس میں ملی ہوئی بھنویں، کھلتی ہوئی گندمی رنگت، کتابی چہرہ، بڑی بڑی اور گھنی مونچھوں اور خشخشی سی سفید داڑھی کے درمیان گم ہوتا ہوا چھوٹا سا دہن دبلے پتلے جسم پر اکثر سبز رنگ کا لمبا سا چغہ

Read more

بولے نائی کی کیمیاگری اور حکمت کی کہانی

بولا نائی گاؤں کی مشہور و معروف شخصیت تھی۔ درمیانہ قد، گہرا گندمی رنگ، موٹی موٹی بولتی ہوئی آنکھیں، تہہ بند کرتہ زیب تن کیے اور سر پر ڈھیلی سی پگڑی باندھے ہوئے گاؤں کی گلیوں میں گھومتا ہوا اکثر دکھائی دیتا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے تو اس کا کام اپنے سیپی داروں کی حجامت بنانا اور شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کے لیے کھانے کی دیگیں تیار کرنا تھا۔ لیکن سوائے اس کام کے وہ دنیا جہان

Read more

شادی کے بعد خوب روپ آیا

یہ ان دنوں کی بات ہے میری پوسٹنگ بورے والا میں تھی۔ جبکہ رہائش بورے والا سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں میں تھی۔ اور میں ہر جمعرات کو اپنے عجوبہ روزگار موٹر سائیکل پر شہر سے گاؤں اور پھر ہفتے کر واپس گاؤں سے شہر آیا کرتا تھا۔ اس موٹر سائیکل کی اپنی ایک تاریخی حیثیت تھی۔ غالباً سوزوکی موٹر سائیکل بنانے والوں کی ابتدائی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی۔ ماڈل وغیرہ کا اس

Read more

مداری، سانپوں کا بادشاہ اور سیاست دان

یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے کہ میں گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول بوریوالہ میں زیر تعلیم تھا ہمارے سکول کے مین گیٹ کے بالکل سامنے ایک سپیرا مجمع لگایا کرتا تھا۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر ایک پٹاری کھولتا جس میں ایک بڑی جسامت کا سانپ متحرک ہوتا تھا۔ وہ اس سانپ کو آدھا پٹاری کے اندر رہنے دیتا اور آدھا فٹ پاتھ پر چھوڑ دیتا۔ اتنے بڑے سانپ کو دیکھ کر آس پاس سے گزرنے والے

Read more

شر سے بھی خیر کے پہلو نکلتے ہیں

شادی کے وقت ڈاکٹر نورین گنگا رام ہسپتال لاہور اور ڈاکٹر ارشد ٹی ایچ کیو ہسپتال بورے والا میں ملازمت کر رہا تھا۔ شادی کے موقعے پر دونوں نے ایک ایک ماہ کی چھٹی لی ہوئی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ چھٹی ختم ہونے میں ابھی ہفتہ دس دن باقی ہی تھے میں نے دیکھا کہ ابا جی اور ڈاکٹر نورین کے والد چوہدری عبدالغفور اس مسئلے پر غور و خوض کر رہے ہیں کہ ان کے بچے

Read more