منی پور میں بدامنی اور حکومتی بد عملی

منی پور بھارت کی ایک مشرقی ریاست ہے جس کے مشرق میں برما کی سرحد ملتی ہے، مغرب میں آسام، شمال میں ناگالینڈ، جنوب میں میزورام ریاست واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت امپھال ہے۔ منی پور کا رقبہ 22327 مربع کلومیٹر ہے۔ ریاست کی سرکاری زبان میٹیی ہے اس کے علاوہ کئی ایک دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں،
تاریخی طور پر یہ وسط ایشیائی ریاستوں اور مشرق بعید کے درمیان تجارت کی راہداری کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد اس کو یونین ٹیرٹی کا رتبہ ملا مگر عوامی آزادی و خودمختاری کا نتیجہ تھا کہ 1972 میں اسے ایک ریاست کا درجہ دیا گیا۔ اس کی ایک صوبائی اسمبلی تشکیل دی گئی جس کے کل ممبران 60 ہوتے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ لوک سبھا میں اس کی دو نشستیں ہوتی ہیں۔ اس میں کل آبادی تیس لاکھ کے قریب ہے جس میں اکثریت میٹیی قبائل ہیں جو بنیادی طور پہ ہندو ہیں۔
ان کی زیادہ تر آبادی وادیوں میں ہے جبکہ دیگر بڑی آبادی عیسائیوں کی ہے وہ پہاڑی علاقوں میں قیام پذیر ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے ہندو جنہیں میٹیی کہا جاتا ہے اکثریت میں ہیں جبکہ 41 ٪ عیسائی اور تقریبا 8.2 فیصد مسلمان ہیں۔ یہاں کی تاریخ باہمی خلفشار سے رچی بسی ہوئی ہے۔ 1994 میں فسادات کی زد میں مسلمان آبادی تھی جس میں قریباً 400 بے گناہ افراد اس کا شکار بنے۔ موجودہ صورت حال ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا ہے کہ انتہائی خراب ہو چکی ہے۔
اس اس مرتبہ بڑا شکار عیسائی آبادی ہے۔ شدت پسند جتھے سرعام بندوقیں لہراتے ہوئے آتے ہیں اور جس کو چاہیں تہہ تیغ کرتے ہیں، سرکاری و نجی املاک کو نظر آتش کرتے ہیں اور سرکاری اسلحہ خانوں کو لوٹ کر نعرہ زن ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی عملداری یکساں مفقود پائی جا رہی ہے اور عوامی بے چینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ موذی حکومت کے خلاف نفرت کی ایک لہر رواں ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پہلا ردعمل تب ہوا جب وہاں صورتحال بگڑے 27 دن گزر چکے تھے اور پھر وزیرداخلہ امیت شوہ آئے مگر وہ عوامی جذبات جانے بغیر ایک سرکاری اجلاس منعقد کر کے واپس دہلی روانہ ہو گئے۔
اب تک کی آمدہ اطلاعات کے مطابق 75 افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں بے شمار لاشیں بغیر شناخت کے اسپتالوں میں پڑی ہیں، ان کو سنبھال کر رکھنے کی بھی ان میں سکت نہیں ہے، یہ لاشیں گل سڑ رہی ہیں، ان کی آخری رسومات ادا کرنے والا بھی کوئی تیار نہیں ہو رہا، لگ بھگ 40000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ بھارتی حکومت کا کشمیر میں انٹرنیٹ بند کرنے کا تجربہ بڑا سودمند ثابت ہوا اور اب منی پور میں بھی انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے جس سے درست اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
خبر وہی عام ہوتی ہے جس قدر حکومت وقت اس کی اجازت دیتی ہے۔ ویسے تو موذی کو ہر موقع بے موقع ٹویٹ کرنے اور اپنے نمبر بنوانے کا ازحد شوق ہے مگر اس صورتحال میں اب تک وہ ایک لفظ بھی نہیں بول پائے۔ شاید منی پور کی کم آبادی اس کی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ اڑیسہ میں ہوئے ایک بدترین ریلوے حادثے کے فوراً بعد انہوں نے ایک ٹویٹ کی۔ لوک سبھا میں اڑیسہ کی 21 نشستیں ہیں جبکہ منی پور کی محض دو، شاید یہی بنیادی فرق ہے۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ آخر وہ خونی شام کو آخر کیوں آئی جب 3 مئی کو یہ بدامنی شروع ہوئی اور ایک ریاست کے باشندے آپس میں دست و گریباں کیوں کر دکھائی دیے۔ دراصل اس کی بھی طویل داستان ہے جب سے آزادی ملی یہاں کے قبائل ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے باہم سر پھٹول میں مشغول رہے ہیں اور الگ الگ پہچان اور شناخت کے لئے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ پہلا بڑا نشانہ تو مسلمان بنے جس کا تذکرہ پہلے ہم کر چکے ہیں اب عیسائیوں کی باری ہے۔
اصل میں یہ جنگ ان کمزور اور بے آسرا لوگوں اور طاقتوروں کے بیچ میں طاقت کے حصول کی جنگ ہے۔ یہاں ایسے لوگ کم کم ہی پائے جاتے ہیں جو باہمی برداشت کی ترویج کریں۔ کم حیثیت والے طبقاتی جنگ میں آگ لگانے والے اکثریت والے میٹیی ہیں۔ جو باہمی رواداری اور برداشت کے بجائے نفرتوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس ریاست میں کبھی کوئی ایک کلچر پنپ ہی نہیں سکا، قبائلی علاقوں کی نمائندگی انتہائی کم تھی صوبائی اسمبلی میں کل ساٹھ سیٹیں ہیں جن میں سے صرف انیس نشستیں قبائل کے لئے وقف ہیں۔
امپھال میں جن قبائلیوں کے گھر تھے ان کی پہلے سے نشاندہی کی گئی اور میٹیی ہندوؤں کی الگ نشاندہی کی گئی اور اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں انہیں جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ اس شدت و نفرت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا کہ لوگوں کو گھروں سے اور گاڑیوں سے گھسیٹ گھسیٹ کر نکالا گیا اور آگ لگا کر جلا کر جشن منایا گیا کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ 250 چرچ جلا کر راکھ کر دیے گئے اور پھر ردعمل میں مندروں کو بھی نظر آتش کیا گیا۔ جس طریقے سے اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لگتا ہے کہ اب پہاڑی قبائلیوں کو اپنی آزادی کا حصول لازم ہو چکا ہے۔
اس خون آشام ماحول میں امن و شانتی کی بات کرنے والا بھی کوئی نہیں جو ایسا سوچے بھی تو اسے غدار بنا دیا جاتا ہے۔ ببلو لیٹونوبام کی مثال سامنے ہے جسے زیر حراست رکھا ہوا ہے اس دور میں وہ امن کا داعی تھا اور شانتی کا پرچم اٹھائے ہوئے تھا۔ اس بدامنی کا بدترین شکار خواتین بنی ہیں اور اب جو ایک وفاقی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اس میں کوئی ایک خاتون بھی شامل نہیں ہے۔
اس وقت قومی سطح پہ ان کی خبر گیری کرنے اور دلجوئی کرنے والا کوئی نہیں مشرقی اور جنوبی ریاستیں عموما خوشحال اور آسودہ تصور کی جاتی ہیں جن کی پارلیمان میں بھی بڑی توانا آواز ہوتی ہے مگر منی پور سے اس قدر غفلت کی وجہ بظاہر کوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے منفی اثرات یقینا ”ہمسایہ ریاستوں پر بھی ہوسکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ امپھال کی اس لگی آگ سے موذی حکومت کا راج سنگھاسن بھی راکھ ہو جائے پھر اس کی عوامی مقبولیت دھڑام سے ایسے گرے گی کہ نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ آخر سدا بادشاہی رب کی ہے۔

