بیانیے کا تنقیدی تجزیہ


وہ موضوع جو ’تحقیقی مقالے‘ کا بنتا ہے، میں اس پر کالم کیوں لکھ رہی ہوں؟ یہ سوال میرا خود سے تھا ؛ اندر سے ہی جواب آیا ’گفتگو پر مجھے عوام سے ہے‘ ۔ کالم نے مقالے کی کتنی کلفتوں سے بچا لیا یعنی کون سا اخبار اور کیوں؟ کن تاریخوں کا اخبار اور کیسے؟ وغیرہ۔

نظریہ نہ ایک دن میں بنتا ہے اور نہ ایک شخص کے ہاتھوں ؛ اگر ترکی الاصل ’قورمہ‘ پکانے کی ترکیب پر بھی کوئی تاریخی تحقیق ہو تو پھر پتا پڑے گا کہ قورمہ موجودہ خوش رنگی و خوش ذائقے تک کن کن ملکوں اور مراحل سے گزر کر پہنچا۔ پھر شاید ہم ان باورچیوں کے نام بھی جان سکیں یا نہ جان سکیں۔

میری پکار کسی نظریے کی چوٹی پر پہنچ کر نہیں ہے ؛میں تو خود حالت سفر میں ہوں اور ”ہم سب“ کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں۔

اس سفر کا پہلا پڑاؤ ”Critical Discourse Anaysis (CDA)“ کا مقام تھا۔ یہ کسی بیانیے کو سمجھنے کی لسانی تکنیک ہے۔ میں نے اپنے طور پر اس کا اردو زبان میں ترجمہ ’بیانیے کا تنقیدی تجزیہ‘ کیا ہے۔ تحریر میں آگے سی ڈی اے لکھنے میں سہولت رہے گی ؛معذرت کہ مجھ سے اردو کا کوئی مخفف نہیں بن سکا۔ سی ڈی اے ایک اپنی ہی دنیا ہے۔ یہ کسی بھی بیانیے کے پوسٹ مارٹم کے لیے اپنے لسانی آلات فراہم کرتا ہے۔

دنیا بھر کے اخبارات میں میں صفحہ اول کی خبریں سیاسی ہوتی ہیں ؛یہ ابلاغیات کے کسی ملکی ایجنڈے سے بڑھ کر عالمی ایجنڈا معلوم ہوتا ہے۔ زیادہ تر اردو اخبارات کی صفحہ اول کی سیاسی خبروں کی سرخیوں کی زبان معروضی نہیں ہوتی۔ بعض سرخیوں میں تو الفاظ چیخ کر غیر معروضی اور بعض میں گلا پھاڑ کر اپنے جارحانہ ہونے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں نے جس موقع پر جو بیان دیا ہوتا ہے اور اگر وہ کوئی عوامی جلسہ ہوتو کیا ہی بات ہے ؛ اس میں جو سب سے چٹ پٹی بات ہوتی ہے وہ اگلے دن کے صبح شائع ہونے والے اردو اخباروں کی سرخی ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک تلاش بن گئی تھی کہ اخبار کی اپنے الفاظ پر مبنی سرخی ملے نا کہ سیاست دان کے بیان پر مبنی۔ سرخیوں میں چٹ پٹی، عامیانہ اور جارحانہ زبان تو اتنی ہے کہ کالم چنوں کی چاٹ، گول گپوں اور دہی بڑوں کا مزا دے جائے ؛ اس مزے کے لیے کئی صفحات اور روشنائی پہلے ہی خرچ ہو چکی ہے ؛ زیاں کا حساب کرنے بیٹھو تو دفتر بن جائے۔

سی ڈی اے تکنیک میں جو لسانی آلات تحریر کا پوسٹ مارٹم کرنے کے استعمال ہوتے ہیں اس میں ایک آلہ ’ابہام‘ ہے ؛ جسے انگریزی زبان میں ’ایم بی گیوٹی‘ کہتے ہیں۔ خبروں کی سرخیوں میں ابہام کا پایا جانا کہ ایک اوسط ذہن کا قاری یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتا کہ وہ اس کو ’ابہام‘ کا نام بھی دے سکے۔ مثال کے لیے یہ خبریں ملاحظہ کریں :

1۔ ’پاکستان کی مشکلات کا سبب کچھ ترقی یافتہ ملکوں کی معاشی پالیسیاں ہیں‘ ایک مخصوص ملک کی بنیاد پرست پالیسیاں ترقی پذیر ملکوں کی مالی پریشانی کا باعث ہے، ترجمان چینی وزارت خارجہ

اس سرخی میں الفاظ ’کچھ‘ اور ’مخصوص‘ سے کیا مراد ہے؟ ’بنیاد پرست پالیسیاں‘ سے مراد بنیاد پرست ملک ہیں یا بنیاد پرست کہلائے جانے والے ممالک سے متعلق ان ملکوں کی پالیسیاں جنہیں مخصوص ملک لکھا گیا ہے ۔

2۔ ’آئی ایم ایف سے چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا، سب کو حصہ ڈالنا ہو گا‘ ۔
’چند دنوں‘ کا کیا مطلب ہے؟ ’سب‘ سے کیا مراد ہے؟

3۔ ’گمراہ کن تصور کو لالچ اور دباؤ سے مسلط کیا جاتا ہے، مل کو خوشحال مستقبل کے لیے اس خطرے پر غالب آئیں گے‘ ۔

’گمراہ کن تصور، کون سا تصور؟‘ خوش حال مستقبل ’؟ عوام کو لوریاں سنا رہے ہیں۔
4۔ ’عوام کی امنگوں کے مطابق دہشتگردی کی لعنت ختم کی جائے گی۔‘
’امنگیں‘ ؟ ہائے! کتنا رومانوی لفظ ہے۔ ماننا پڑے گا استاد۔
5۔ ’اوپن مارکیٹ میں ڈالر آزاد‘ ۔
ڈالر قید کب تھا؟
6۔ ’ساری سیاسی کمائی ملک و ریاست پر قربان کردوں گا، وزیر اعظم‘ ۔

صدقے جاواں۔ ویسے ’سیاسی کمائی‘ سے کیا مراد ہے؟ مطلب جو بہ حیثیت وزیر اعظم تنخواہ وصول کی، وہ تو بہ طور سرکاری ملازم کے تھی۔ بس کوئی اتنا سمجھا دے کہ ’سیاسی کمائی‘ کسے فرما رہے ہیں؟ اب قربان کر ہی رہے ہیں تو یہ ہماری ذرا سی کنفیوژن دور کرنے میں کیا جاتا ہے ۔ باقی ملک، ریاست اور حکومت کا فرق ہم لغت میں دیکھ لیں گے۔

7۔ ’کانفرنس پاکستان کے لیے بڑی کامیابی، توقعات سے زیادہ وعدے کیے گئے‘ ۔

اس سرخی میں ’پاکستان‘ سے کیا مراد ہے؟ حکومت یا عوام؟ کامیابی کس کو قرار دے رہے ہیں ’وعدوں‘ کو ؟ وہ کامیابی اور بڑی کامیابی اس لیے کہ وہ وعدے توقعات سے بڑھ کر تھے۔

حیراں ہوں کہ روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
8۔ ’ڈالر بے لگام‘ ۔

اس سے قبل سرخی لگائی کہ ڈالر آزاد، اس سرخی کے مطابق یہ آزادی بے لگامی کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ کاش کہ اخبار کی اس سرخی پر کوئی منچلا صحافی مولانا فضل الرحمن کے ایمان تازہ کو ریفریش کرنے کے لیے للکارتا اور جواب میں مولوی صاحب ڈکار مارنے کے بعد فرماتے کہ ڈالر امریکی کرنسی ہے اسے تو بے لگام ہونا ہی تھا، فحش کہیں کی ؛ اگلے دن ایک چٹخارے دار بیان اخبار کی زینت بنتا۔

9۔ ’صدر کا اعلان، آئینی بحران‘ ۔
یہ سرخی کہانی شیر آیا شیر آیا کی یاد دلاتی ہے۔

10۔ ’سپریم کورٹ فیصلہ، نئی بحث؛آرڈر مبہم، چار تین سے آیا، حکومت‘

یہ دسویں اور اس کالم کی آخری سرخی اس حوالے سے خوب ہے کہ اس سرخی میں لفظ ’مبہم‘ آیا ہے جو ہمارا موضوع ہے۔ حکومتی اراکین عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو مبہم قرار دے رہے ہیں ؛کیوں کہ وہ واضح سوچنے اور کہنے کے عادی ہیں، قانونی موشگافیاں ابہام پیدا کر رہی ہیں تو تھوڑے کنفیوزڈ ہو گئے۔

خبریں بس یہیں تک ؛ایک وضاحت جو بہت ضروری ہے۔ میں کسی سرخی کے الفاظ اگر الگ سے اٹھا بھی رہی ہوں تو اس کو سیاق و سباق سے جدا کر کے کوئی ابہام کی نئی دنیا نہیں بنا رہی۔ اخبار اسٹیک ہولڈر ہی؛حکومتی فریق۔ سیاق و سباق سے الگ کر کے بیان کو سمجھنا یا سمجھانا انتہائی ’گمراہ کن‘ ہے کیوں کہ یہی منطق اسلام کو سمجھنے کے لیے ہمارے مذہبی پیر استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس موقع پر استاد محترم ارسطو کو بھی دوچار سنانے سے نہیں چوکتے تھے کہ وہی اس منطق کا موجد ہے جو استخراجی منطق کہلاتی ہے۔

علم ِ نفسیات کا ’علم اور عمل میں عدم مطابقت‘ کا نظریہ بڑا دل چسپ نظریہ ہے بشرطیکہ اس کو دوسروں پر لاگو کیا جائے اور ایک بدصورت آئینہ ثابت ہوتا ہے اگر اس میں اپنا عکس نظر آئے۔ یہ دنیا ہی نہیں اپنا آپ بھی سمجھ سے بالا ہے اگر نظریاتی تناظر نہ ہو۔ جہاں سے ایک نظریے کی کارفرمائی ختم ہو جائے وہاں سے دوسرے نظریے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ میری سمجھ میں تب آیا جب میں نے علم اور عمل میں عدم مطابقت کے نظریے کو سیاست دانوں کے بیانات پر لاگو کیا۔ اس نظریے کا تو دم پھولنے لگا اس سے پہلے کے جان نکلتی میں نے فٹ سے دوسرے نظریے پر چھلانگ لگائی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں اس نظریے کی معصومیت ظاہر ہوئی۔

علم اور عمل میں عدم مطابقت کا یہ پیارا اور نیک نظریہ کیا ہے؟ (اسے پیارا اور نیک کہنے کی توجیہہ آگے آئے گی) ۔ اس نظریے کے مطابق اگر انسان کا عمل اس کے علم کے مطابق نہ ہوتو وہ ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ اب معصوم اور بھولا انسان اس ذہنی انتشار سے نکلنا چاہتا ہے ؛ تو وہ کیا کرتا ہے؟ وہ اپنے عمل کی وجوہات تراشتا ہے، اس لیے یہ کرنا پڑا یا اُس لیے یہ ضروری تھا وغیرہ۔ تھوڑا فہم رکھنے والا انسان ہوتا ہے تو وہ علم میں تبدیلی کی جانب اپنی بساط کے مطابق قدم بڑھاتا ہے۔

یہ ہر دو کوشش اس ذہنی خلفشار سے آزادی حاصل کرنے کی سعی ہوتی ہے جو یہ معصوم لوگ کرتے ہیں۔ نظریہ ساز لیون فیسٹنگر اور اس کے ساتھی بھی شریف النفس تھے کہ ان کی تجرباتی تحقیقات کا دائرہ عام لوگ تھے اور یہ نظریہ وجود میں آ گیا۔ کہیں وہ اپنے نظریات کا دائرہ عامیوں سے بڑھا کر سیاسیوں تک لے جاتے تو لیون فیسٹنگر بھی ہانپنے لگتا؛ پھر اس کے ساتھی اسے سمجھاتے کہ بھائی آپ دوسرے نظریے کے حدود میں دخل در معقولات کا شکار ہو رہے ہیں ؛ اپنے دائرے میں واپس آئیے یہ نظریہ کامیاب ہے ؛ اور اس میں کوئی شک نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ علم اور عمل میں دوئی کے نتیجے میں پریشان ایک عام آدمی ہوتا ہے لہٰذا یہ عام آدمی کا مسئلہ اور نظریہ ہے۔ اس نظریے کا جو دم پھولا وہ میری غلطی تھی کہ عامیوں پر لاگو ہونے والے نظریے کو میں نے سیاسیوں پر لاگو کیا۔ یہ دوئی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

”علم اور عمل میں عدم مطابقت“ اور ”قول و فعل میں تضاد“ کیا یہ دو مختلف تصوّرات ہیں؟ یا ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں؟ جب انتشار کی جگہ ہٹ دھرمی لے لے۔ جب خلفشار پر ضد غالب آ جائے۔ جب انا اُصول پر حاوی ہو۔ جب امارت اخلاقیات کو مات دے دے۔ جب عہدہ دار فرض کو بالائے طاق رکھ دے۔ ایسے آدمیوں میں کوئی دوئی جنم لیتی ہے؟

ہمیں یہ نظریہ علمِ ابلاغیات میں پڑھایا گیا۔ ابلاغ ِ عامہ میں اس نظریے کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ جواب ہے کہ: ”وہ پیغام جو پیغام وصول کرنے والے کے علم اور عمل میں دوری کو کم کرتا ہے وہ موثر ہوتا ہے۔“ اس کی ایک مثال اسلامی بینک کاری ہے ؛ دوئی خلاص۔

نظریات کا سفر جاری ہے۔ سیاسیوں کے بیانیوں پر کون سے نظریے کا اطلاق ہوتا ہے؟ اس کا جواب اگلی تحریر میں۔ گر قبول اُفتد

 

Facebook Comments HS