سیاسی رہنماؤں کا خفیہ مرض


سیاست ایک خاص میدان ہے جہاں سیاسی رہنما کے لئے طاقت، اختیارات اور ذمہ داریاں ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ وہی عوامی اور ریاستی منظرنامہ بدلنے والے رہنماؤں کا رویہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان رہنماؤں میں سے کچھ لوگ ایک مرض کا شکار ہوتے ہیں؟ یہ مرض جسے ”مورل سپیریئر سنڈروم“ کہا جاتا ہے، سیاسی رہنماؤں کے طور پر کام کرنے والے افراد کو متاثر کرتا ہے اور ان کے رویے پر منفی اثر انداز ہوتا ہے۔

مورل سپیریئر سنڈروم ایک عجیب و غریب طبعی مرض ہے جو سیاسی رہنماؤں کو متاثر کرتا ہے۔ اس مرض کے متاثرین کو اصطلاحی طور پر ”مورل سپیریئر“ کہا جاتا ہے۔ یہ مرض عموماً سیاسی جماعت کے سرکردہ لیڈرز میں دیکھا جاتا ہے۔ مورل سپیریئر سنڈروم کے متاثرہ افراد میں کئی اعراض پائے جاتے ہیں جنہیں پہچاننا ضروری ہے۔

خودپسندی اور غرور، متاثرہ افراد معمولاً خودپسندی اور غرور کے اظہار میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنی خود ستائشی پر زور دیتے ہیں اور خود کو انتہائی خاص معلوم کرتے ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ دوسروں کی رائے پر احترام کرنا اور ان کو سننا کتنا اہم ہے۔ وہ عموماً اپنے آپ کو ہر مسئلے کا جاننے والا خود بین سمجھتے ہیں۔ متاثرہ افراد اختلافات برداشت نہیں کرتے اور عموماً مخالفت کرنے والوں کو نافرمانی کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔

خودم ختاری کو عدم پسند کرنا، وہ دوسروں کو اپنی طرح کام کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور خودمختاری منظور نہیں کرتے ہیں۔ مورل سپیریئر سنڈروم کے متاثرین اکثر اپنے حقوق کو سب سے اہم سمجھتے ہیں اور عموماً سمجھتے ہیں کہ انہیں عام انسان کی طرح نا ڈیل کیا جائے۔

مورل سپیریئر سنڈروم کی وجہ سے سیاسی رہنماؤں کے اقدار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ مرض ایک انتخابی رہنما کے صلاحیتوں، اخلاقی اصولوں اور عملی کارکردگی پر بھی برا اثر ڈال سکتا ہے۔ متاثرہ رہنما اکثر اپنے مفاد کے لئے اقدامات اٹھاتے ہیں اور عوام کے مفاد کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ منفی رویہ سیاسی نظام کو کمزور کر سکتا ہے

مورل سپیریئر سنڈروم کا علاج ممکن ہے، لیکن یہ ایک مشکل مرض ہے جس کی اصلاح کے لئے قوت و مرضی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہم اصولوں پر اخلاقی تربیت، سماجی تعلقات اور ہمدردی کے تجربات افراد کو اس مرض سے بچا سکتے ہیں۔ سیاسی تنظیموں کو بھی انتخابات کے لئے ان رہنماؤں کے الیکشن لڑنے پر عمومی توجہ اور اصول تعین کرنے چاہیے۔

مورل سپیریئر سنڈروم ایک خطرناک مرض ہے جو سیاسی رہنماؤں کو متاثر کرتا ہے۔ اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان اصولوں پر عمل کریں جو ہماری سیاسی نظام کو قوی اور مستحکم بنا سکتے ہیں اور ایسے رہنماؤں کو انتخاب کریں جو ملک کی ترقی اور عوام کے مفاد کے لئے کام کریں۔

Facebook Comments HS