بلوچستان، باپ اور ”ساڈا حق ایتھے رکھ“


بلوچستان کی موجودہ اسمبلی میں جن اراکین کے طاقت کے مراکز کہلانے والے حلقوں کے ساتھ مثالی برادرانہ تعلقات ہیں ان میں ایک نور محمد دمڑ بھی ہیں۔ نور محمد دمڑ زمانہ طالبعلمی میں قوم پرست سیاست سے منسلک رہے لیکن عملی سیاست میں آتے آتے وہ قوم پرست فکر سے تائب ہوچکے تھے۔ پرویز مشرف دور میں مسلم لیگ ( ق) میں رہے اس کے بعد جے یو آئی (نظریاتی) میں رہے پی ٹی آئی کی ہوا چلی تو پی ٹی آئی میں آ گئے۔ اس دوران متعدد بار انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیابی کا ہما ان کے سر پر نہیں بیٹھا لیکن ہر بار ان کی پوزیشن جیتتے جیتے ہار گئے والی رہی۔ پی ٹی آئی میں یہ ٹکٹ کی یقین دہانی لے کر شامل ہوئے تھے تاہم 2018ء۔کے عام انتخابات سے قبل ان کی پی ٹی آئی لیڈرشپ کے ساتھ بھی چپقلش پیدا ہوئی۔ بنی گالہ میں کارکنوں کے ہمراہ دھرنا دے کر بھی بیٹھے۔ بعد میں اس وقت کے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے تو پی ٹی آئی چھوڑ کر نئی بننے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں آ گئے۔

2018 ءکے انتخابات میں زیارت، سنجاوی اور ہرنائی پر مشتمل حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ جام کمال خان کی کابینہ میں وزیر واسا و پی ایچ ای رہے اور جب ”ہوائیں“ جام کمال کے خلاف ہوئیں تو یہ قدوس بزنجو کے کیمپ میں آ گئے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات بنے لیکن گزشتہ دنوں ان سے اچانک وزارت کا قلمدان واپس لے لیا گیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے اعلان کے برعکس قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی جبکہ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت کے سرد مہری پر مبنی رویے کے پیش نظر بلوچستان قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اتنا سخت اعلان اگر ایک سال قبل آیا ہوتا تو شاید بہت ہلچل مچ جاتی مگر اب ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ صاحب نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبے کے شریک نہ ہونے کا اعلان کیا اور جا کر سو گئے صبح پتہ چلا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسلام آباد میں ہیں اور اجلاس میں شریک ہیں سو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ان سے قلمدان واپس لے لیا۔ یہ فیصلہ غیر معمولی تھا اور بہت ”سخت“ بھی لیکن وزیراعلیٰ نے حکمت کے ساتھ فیصلہ اس لئے کیا کہ ایک تو صوبائی بجٹ میں پچھلے سال کی طرح نور محمد دمڑ اپنے حلقے میں اربوں روپے کی سکیمات نہ لے کر جائیں اور دوسرا یہ کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچستان ( درحقیقت بلوچستان نہیں بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی ) وفاقی حکومت سے کس حد تک شاکی اور خائف ہے۔ اگلے روز وفاقی بجٹ پیش ہونا تھا اور بی اے پی کے سربراہ کی حیثیت سے عبدالقدوس بزنجو نے اعلان کیا کہ بی اے پی بلوچستان کو نظر انداز کرنے کے رویے کے خلاف بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کرے گی۔

ہر چند کہ اب اس لمحے پر مسلم لیگ (ن) کے لئے بی اے پی کی حمایت یا مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن چونکہ بی اے پی کی پشت پر جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کھڑی ہے اس لئے وزیراعظم کو وقت نکال کربی اے پی وفد سے ملنا پڑا۔ بی اے پی کے وفد کی قیادت چیئر مین سینٹ کر رہے تھے اس ملاقات کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان واپس لے لیا۔

وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو بیٹھ کر بلوچستان حکومت کے مطالبات اور اراکین اسمبلی کی تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے گی ان سفارشات کو بجٹ سیشن کے دوران ایوان میں لا کر بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا گویا باپ کا ”ساڈا حق ایتھے رکھ“ والا معاملہ کسی حد تک کامیاب ہو چکا ہے لیکن ا س کا فائدہ بلوچستان کو کم اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی کو زیادہ ہو گا۔

سفارشات مرتب کرنے کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، احسن اقبال، مصدق ملک اور اعظم نذیر تارڑ کے علاوہ بلوچستان سے پانچ اراکین شامل ہیں ان اراکین میں چار بلوچ (صادق سنجرانی، نوابزادہ خالد مگسی، مولانا عبدالغفور حیدری، آغا حسن بلوچ) اور ایک پشتون رکن (سینیٹر منظور کاکڑ) شامل ہیں۔ میں آنکھیں بند کر کے بتا سکتا ہوں کہ کمیٹی کس نوع کی سفارشات مرتب کرے گی ان کی سفارشات اپنے اپنے حلقوں میں جاری آن گوئنگ سکیمات کے لئے مزید فنڈز رکھنے کے ارد گرد گھومیں گی برسبیل تذکرہ این ایف سی کے نئے فارمولے کی تشکیل، محاصل میں اضافے اور پی پی ایل بقایاجات و گیس رائلٹی کے واجبات کی ادائیگی کے نکات شامل ہوں گے لیکن اصل زور پی ایس ڈی پی پر ہو گا اور بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ صوبے کی پسماندگی و درماندگی میں پی ایس ڈی پی سب سے بڑا محرک ہے۔

یہ لوگ ایک سکیم چند ملین کی ڈال دیتے ہیں اور پھر وہ چند ملین کی سکیم شیطان کی آنت بن کر سالہا سال چلتی ہے جو بھی حکومت ان سکیمات پر سوال اٹھاتی ہے یہ جماعتیں ”بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے“ کا بیانیہ آگے بڑھا کر اتحادیوں کو رام کرنے لگتی ہیں بلوچستان کے ساتھ زیادتی یہ نہیں کہ آن گوئنگ میں کم رقم رکھی زیادتی یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آن گوئنگ ہیں ہی کیوں؟ یہ منصوبے مکمل کیوں نہیں ہوتے؟

زیادتی یہ نہیں کہ آپ نے وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر کس قدر عمل کیا زیادتی یہ ہے کہ جو بھرتیاں ہوئیں وہ کس طریقے سے ہوئیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کے تقریباً ً نصف پر محیط ہے اور ملک کے اس نصف فیصد علاقے میں ایک بھی دو رویہ سڑک نہیں، ایک بھی موٹروے نہیں، اٹھارہویں ترمیم کا کریڈٹ لینے والی قوم پرست جماعتوں نے اس ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو ملنے والے بہت سے شعبوں کے بہت سے امور پر آج بارہ سال کے بعد بھی قانون سازی نہیں کی؟

جام کمال کے پیش کردہ 80 ارب روپے کے خسارے کے حامل بجٹ پر جمعیت، بی این پی اور پشتونخوا میپ نے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی تھیں لیکن امسال جب 2023۔ 24 کا بجٹ پیش ہو گا اور اس میں ایک سے ڈیڑھ ارب روپے کا خسارہ ہو گا تو یہ جماعتیں اس کو بلوچستان دوست بجٹ قرار دیں گی۔ کیوں؟ کیونکہ بی اے پی اگر وفاق سے ”ساڈا حق ایتھے رکھ“ کے فارمولے پر بات کرتی ہے تو وہی فارمولہ صوبے میں دیگر جماعتوں کے اراکین اسمبلی کے لئے اپلائی بھی کرتی ہے۔ سو اللہ اللہ خیر صلا۔

Facebook Comments HS