پرستان یوکرائن کے حالات
کبھی یوکرائن کا ذکر چڑھ جائے تو ایک طلسماتی دنیا کا منظر زیر نظر آ جاتا، حسین و جمیل وادیاں و کوہسار اور دلکش خوشحال اور توانا، پڑھے لکھے باشعور لوگ، حسین و جمیل متناسب جسم اور تمام رعنائیوں سے بھرپور ایک مضبوط ملک، عالمی سیاحوں کی پسندیدہ منزل۔ عسکری قوت بھی خوب تھی یوکرائن ٹینک سپلائی کیا کرتا اور لوگ قطار اندر قطار اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بھی نہ اکتاتے۔ مگر پھر اس پرستان کو گویا نظر لگ گئی۔
نوجوان طلباء و طالبات کو اس چیز کا ادراک ہی نہ ہوتا کہ کوئی حملہ آور کیسے کمزور ہدف پہ قابو پا لیتا تھا اور شہروں پہ قبضہ کر لیتا تھا۔ اب روسی یلغار نے ان کے سامنے واضح مثال قائم کردی ہے۔ 2014 میں پہلا نشانہ کریمیا بنا، پھر ڈانٹاسک کے علاقوں پہ بوڑھے ریچھ کی نظر پڑھ گئی اور ان کی محبت میں یوکرائن پہ دھاڑنے لگا کہ ڈانٹاسک کا علاقہ تو اس کا ایک بچھڑا ہوا اپنا دیس ہے جب دھونس و دھاندلی سے کام نہ چلا تو پورے ملک پہ چڑھائی کردی۔
اب ایک برس اور تین ماہ سے اس کو مکمل فتح کرنے کے ہزار جتن کر رہا ہے مگر حتمی کامیابی کا حصول کوسوں دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اس جنگی کیفیت کا اگر ہم بغور جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اس میں خالصتاً جنگی حکمت عملی کے تحت نہ صرف جنگجو کارروائیوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے بلکہ دہشت گردی کے مختلف النوع کارروائیوں میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تازہ کھککووا ڈیم کی تباہی ہے روس اس سے پہلے دو اور ڈیم اسی طریقہ سے تباہ کرچکا ہے۔
چند دن پہلے اس ڈیم میں پانی بھرا گیا اور اس کے کناروں تک پانی بھرا گیا اور پھر اس کے ٹوٹنے سے بہت سی بستیاں زیرآب آ گئی ہیں۔ ہزارہا افراد اس کا شکار بن چکے ہیں۔ البتہ اس کی تباہی کی ذمہ داری کسی فریق نے قبول نہیں کی۔ اس سے پہلے روس کو زیر آب انٹرنیٹ مہیا کرنے والے سسٹم کو بھی کاٹ کر تباہ کر دیا گیا تھا اور روس نے اس کا الزام امریکیوں کے سر باندھا تھا۔ جبکہ امریکی خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ سب کیا دھرا روسیوں کا ہے اور اس حقیقت سے جلد ہی پردہ ہٹ جائے گا۔
اس ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ سے روسی افواج کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور یوکرائن کو اپنی افواج کو تازہ دم کرنے کا اپنے دفاع کو بہتر کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ادھر روسی افواج میں چونکہ زیادہ تر فوجی جبری بھرتی کیے جاتے ہیں تو ان میں لڑنے مرنے کا وہ جذبہ مفقود ہوتا ہے جس وجہ سے ایک ویگنائر گروپ جو رضاکاروں پہ مشتمل ایک پرائیویٹ جتھہ ہے جس نے باخموت پہ قبضہ کر کے علاقے کی باگ ڈور چیچن جنگجوؤں کے حوالے کردی۔ یوکرائن کے مستقبل کا فیصلہ قرائن سے تو لگتا ہے کہ میدان عمل میں نہیں بلکہ اس کے خیر خواہوں کی مرتبہ پالیسیوں سے یورپی اور امریکی پارلیمان میں ہو گا۔ اس کی کتنی اور کیسے امداد کرنا ہے وہ امریکی کانگریس کی منشا و مرضی سے ہی ہو گا۔
اس جنگ میں انتہائی مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا جانا ہے۔ امریکیوں نے یوکرائنی افواج کو منظم کرنے کا ایک مربوط منصوبہ بنایا ہوا ہے اور اسے لیپرڈ ٹینک دیے ہیں، آرٹلری کی خوفناک ہمارس گنیں دی ہیں اور ایف۔ 16 جنگی طیارے بھی ملنے کے جلد امکانات ہیں۔ توقع ہے روسی ان سب سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ پہلے یوکرائنی جنگی مشینری کو مکمل مفلوج کر دیا جائے یا اس پہ قبضہ حاصل کر کے غلبہ پایا جائے پھر آگے بڑھا جائے۔
بڑی جنگوں کے نقصانات بھی بڑے ہوتے ہیں اس طرح اپنے ہمسایوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ کافی عرصے سے رکا ہوا تھا اور اب روسی بوڑھا ریچھ آن ٹپکا ہے۔ حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ دنیا میں امن کی پھر ایک بھرپور کوششیں کی جائے۔ وہ صرف سیاسی لیڈرشپ ہی مذاکرات کی میز پہ ہی کر سکتی ہے۔ جنگ میں بیگناہوں کے خون تو زیاں ہو ہی رہا ہے۔


