بجٹ 2023: اسلام کا نظام کفالت اور پاکستانی مسلمان
بجٹ 2023 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کی اعلان کیا گیا جو کہ مہنگائی کے حساب سے خوش آئند ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین کے معاشی حقوق کا تحفظ تو سلامی ریاست کر رہی ہے مگر بقیہ آبادی کے معاشی حقوق ریاستی ذمہ داری نہیں؟
اسلامی ریاست میں ’کفالت وسیع المفہوم اصطلاح ہے، اسلامی ریاست چونکہ فلاحی ریاست ہوتی ہے اس لیے اسلامی ریاست میں کفالت کا مفہوم یہ ہے کہ بلا امتیاز تمام شہریوں کی کفالت کی ذمہ داری ریاست پر ہے، ہر فرد کو روزگار کمانے کے قابل بنانا اور روزگار کے ذرائع مہیا کرنا ریاست کا بنیادی فریضہ ہے۔ معاشرے کے ان معذور طبقات کی کفالت کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے جنہوں نے ریاست کو کبھی کچھ کما کر نہیں دیا جیسے نابینا پیدا ہونے والا فرد ایک اعتبار سے پہلے دن سے ریاست پر بوجھ ہوتا ہے مگر ریاست اسے بوجھ نہیں اپنی ذمہ داری گردانتی ہے، یتیموں، بیواؤں، محتاجوں، ضعیفوں، بے روزگاروں کی معاشی سرپرستی کر کے ریاست معذوروں کو محتاجی سے بچاتی ہے، جن افراد کا کاروبار تباہ ہوجاتا ہے اسلامی ریاست نئے سرے سے باروزگار بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ممالک نے اسلامی ریاست کے ’کفالہ‘ ماڈل کو اپنا کر لوگوں کو با وسائل، خوشحال اور پرامن زندگی مہیا کی ہے مگر پاکستان میں کفالت کا ایسا کوئی نظام موجود نہیں، تعلیم مکمل طور پر مفت نہیں ہے، یتیموں، بیواؤں اور معذوروں کی کفالت کا کوئی نظام موجود نہیں، ریاست تمام افراد کو نوکری دینے یا کاروباری مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں سرکاری نوکری کرنے والوں کی تعداد چند لاکھ ہے، یعنی یہ تعداد کروڑوں میں بھی نہیں پہنچتی جبکہ پاکستان کی کل آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے۔
بقیہ آبادی کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر پاکستان میں حکومتیں ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو پاتیں، نجی اداروں میں ملازمتیں تو ہیں مگر وہ ضرورت سے کم ہیں، معاشی عدم استحکام کی وجہ سے صنعتیں بند ہوجاتی ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں، 2022۔ 23 میں ڈالر کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کی وجہ سے کئی صنعتی یونٹ بند ہوئے، ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ علاوہ ازیں نجی شعبوں میں ملازمین کا استحصال ہوتا ہے، کم معاوضوں پر زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، میڈیکل انشورنس، بچوں کے لیے تعلیمی سہولتوں، ریٹائرمنٹ اور پنشن کا فقدان ہے، نوکری کے حوالہ سے کوئی تحفظ موجود نہیں، کسی بھی وقت کسی ملازم کو نکالا جا سکتا ہے۔ کاروباری صورتحال دیکھیں تو بھی دگر گوں ہے، اول تو لوگوں کے پاس کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ نہیں اگر سرمایہ دستیاب ہو بھی تو معاشی و سیاسی تحفظ نہیں، پھر معاشی پالیسیز ناقص ہیں جن کی وجہ سے معاشی سرگرمی میں اضافہ کی بجائے کمی آتی ہے۔
نجی ملازمین و مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 32000 مقرر کی گئی ہے ہر سال کم ازکم حد مقرر ہوتی ہے مگر اس پر عمل درآمد کا کوئی نظام نہیں ہے، مزدوریاں انتہائی کم دی جاتی ہیں، کام زیادہ لیا جاتا ہے، جاب سیکورٹی تو ہے ہی نہیں ہر جگہ سرمایہ دار مضبوط ہے جو استحصال کرتا ہے، حق کی آواز اٹھاتے کی پاداش میں ملازمین کو کھڑے پیر کام سے نکال دیتا ہے، اس پر مستزاد روزگار کے تحفظ کے لیے ریاست کی طرف سے کوئی موثر پلیٹ فارم بھی نہیں ہے جہاں دادرسی کی جائے۔
اینٹوں کے بھٹوں کے ملازمین اور مزارعین کا استحصال اپنی جگہ، مالکان ملازمین اور مزارعین کو قرض دیتے ہیں، روزانہ کی مزدوری سے 20 فیصد قرض کی مد میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ جب تک پہلا قرض اترتا ہے نئی ضروریات کی وجہ سے اور قرض چڑھ چکا ہوتا ہے، نتیجتاً ان ملازمین کا قرض نہ اترتا ہے اور نہ ان کی جان کی خلاصی ہوتی ہے، وہ مجبوراً مزدوری کے نام پر غلامی کر رہے ہوتے ہیں، بھٹوں اور زمینوں پر مرد و عورت کے ساتھ ان کے کم عمر بچے بھی کام کرتے ہیں جن سے کام کروانا اسلامی قانون، انسانی حقوق و آئین پاکستان کے مطابق جرم ہے۔
ایسے پاکستان میں عوام کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے جہاں سرکاری نوکریوں کا فقدان ہو، جہاں نجی شعبہ معاشی روزگار مہیا نہ کرسکے، جہاں معاشی سرگرمی پیدا کرنے کے لیے معاشی پالیسیز کا فقدان ہو، جہاں نوکری و مزدوری کے نام پر انسانیت کا استحصال ہو، جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو، جہاں انسانیت کی تذلیل ہو۔ اس کے برعکس اس ملک میں سرمایہ کاروں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کی صنعتیں پھل پھول رہی ہیں، سرکاری ملازمین کو مراعات سے نوازا جاتا ہے۔ جو جتنا بڑا افسر اس کے لیے اتنی ہی مراعات۔ سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملتی ہے مگر مزدور کے بڑھاپے کا ریاست کیا سامان کر رہی ہے کہ وہ محتاجی سے بچ سکے؟


