عمران خان کی سیاست بند گلی میں
کچھ عرصہ قبل فیصل واوڈا کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ تحریک انصاف بند گلی کی جانب گامزن ہے، جو انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ فیصل واڈا کی بات سنی ان سنی ہوئی۔ وقت بدلہ، حالات بدلے اور تحریک انصاف ’تبدیلی‘ کی زد میں آ گئی۔
حکومت جانے کے بعد اپنی مقبولیت کیش کروانے واسطے عمران نے پنجاب۔ کے پی اسمبلیاں تڑوا کر نوے دن میں الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ قبل از وقت عام انتخابات کے لئے قومی اسمبلی سے بھی استعفے دے ڈالے۔
لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما کے الیکشنز تو نہ ہوئے الٹا اتحادی حکومت نے مختلف مقدمات بنا کر تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جیلیں بھر دی۔
جذباتی عوام کا غصہ اُس وقت عروج پر پہنچا جب خان صاحب بھی گرفتار کر لیے گئے۔
کارکنان سڑکوں پر نکلے، توڑ پھوڑ کی، جلاؤ گھیراؤ کیا، زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگے، فوجی تنصیبات جلائی گئیں۔ شہیدوں کے یادگار مجسمے توڑے گئے نتیجتاً عمران کو تو ضمانت مل گئی لیکن پارٹی واقعی بند گلی میں داخل ہو گئی۔
وفاق میں استعفے دے کر، اپنی صوبائی حکومتیں توڑ کر، کارکنان اور اداروں کو آمنے سامنے کر کے، درجنوں کارکنان کو مروا کر، اسٹبلشمنٹ سے تعلقات بگاڑ کر تحریک انصاف واقعی بند گلی میں داخل ہو گئی۔ ستم ظریفی یہ کے دوسری جانب سے اس کا ردعمل بھی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی رہنما ٹی وی پر آ کر نو مئی کی مذمت کے ساتھ خان کو الوداع کہہ دیتا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ میں خان کے لئے جہاز بھر کے لانے والے جہانگیر ترین بھی لمبی خاموشی توڑ کر میدان میں آ گئے۔ تحریک انصاف چھوڑ جانے والوں کو نئی پارٹی کے ساتھ ویلکم کر کے اپنا تباہ شدہ سیاسی کیریئر دوبارہ بحال کرنے میں لگ گئے، اس سارے عمل میں اسٹیبلشمنٹ کا اشر باد بھی حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ دوسری طرف آرمی چیف نے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کر کے بظاہر نو مئی کے ماسٹر مائنڈ لیکن پس پردہ خان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا اشارہ بھی دے دیا۔ رلتی بھٹکتی تحریک انصاف کو انصاف ملنا تو دور انسانی حقوق کی تنظیموں سے گِلہ بھی کرنے کی اجازت نہیں، فوج کے سخت رویے اور بے بس عدلیہ نے خان کے حوصلے پست کرنے میں اپنا کردار ادا بھی کر لیا۔ رہی سہی کسر میڈیا پر خان کا نام تک نہ لینے کی پابندی کی پوری کر دی۔ اس بند گلی میں تحریک انصاف انتہائی بے بس ہو چُکی۔ خان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جو سلوک ہوا اُس کے بعد یہ کہنا بھی جائز ہے کہ
بڑے بے آبرو ہو کے تیرے کوچے سے ہم نکلے،
ان مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے خان اور مہنگائی میں پستی عوام کی پریشانیوں کا حل صرف الیکشن ہونے پر ہی ممکن نظر آتا ہے۔ کیوں کہ عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت ہی مشکل فیصلے کر کے ان سیاسی اور معاشی بدحالی سے عوام کو نکال سکتی ہے۔

