اسٹیبلشمنٹ اور گاڑی کا مسئلہ


چند سال پہلے جب گاڑی خریدی تو ٹائر بھی نئے تھے اور میں یعنی ڈرائیور بھی نیا تھا۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا تو ضرور جانتا تھا مگر باریکیوں سے نابلد تھا۔ ایک دو دفعہ سسپنشن کا کام کروایا تو الائنمنٹ آؤٹ ہو گئی۔ دو ماہ بعد دیکھا تو ناہمواری کے باعث اگلے ٹائر ایک کنارے سے بالکل نئے اور دوسرے کنارے سے قریب قریب مکمل گھس گئے تھے۔ پوچھا یا میکینک یہ کیا ماجرا ہے۔ انہوں نے بات سمجھائی تو پہنچے الائنمنٹ والوں کے پاس جنہوں نے الائنمنٹ تو ٹھیک کر دی مگر اگلے ٹائر پیچھے اور پچھلے ٹائر آگے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا۔ یوں ساڑھے تین سال چلے ہوئے پچھلے ٹائر بالکل نئے سمجھ کر آگے کر دیے گئے اور اگلے ٹائروں نے پچھلے وہیلز پر اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ خوشی ہوئی کہ کام بھی چل گیا اور ٹائر خریدنے سے بھی بڑی بچت ہو گئی۔

گاڑی پھر چل پڑی۔

کچھ ماہ گزرے ہوں گے جب آئل تبدیلی کراتے ہوئے خندق میں اترے مکینک نے انکشاف کیا کہ باؤ جی اگلے ٹائر تو دوبارہ ایک طرف سے مکمل گھس چکے ہیں۔ اب کیا وجہ ہوئی ہے الائنمنٹ تو کروائی تھی؟ پتہ چلا کہ یوں بھی کبھی کبھار الائنمنٹ چیک کرواتے رہنا چاہیے۔ پاکستانی سڑکوں پر یہ عموماً آؤٹ ہو ہی جاتی ہے۔ اب دوبارہ الائنمنٹ والے کے پاس گیا تو اس نے پہچان لیا۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگا پروفیسر صاحب الائنمنٹ تو ہو جائے گی مگر آپ کے یہ ٹائر بھی کام سے گئے۔

”کوئی حل نکالیں“

میں نے نئے ٹائروں کا ریٹ پوچھنے کے بعد خجالت سے کان کھجاتے ہوئے گزارش کی۔ اس نے ٹھونک بجا کر چاروں ٹائر بار بار چیک کیے جیسے اندازہ کر رہا ہو کہ کس میں ہلکی سی سانس باقی ہے۔ کافی حساب کتاب جے بعد اس نے انداز لگایا کہ یہ ایک اگلا ٹائر پیچھے کر دیں تو ایک پچھلا ٹائر، جو نسبتاً گزارے والا ہے، آگے لا کر کام چلایا جا سکتا ہے۔ دوستو اس طرح پچھلی دفعہ کا مسترد شدہ ٹائر پھر کام آیا تو اس پر فخر بھی محسوس ہوا اور پہلے والی ناقدری پر ہلکی سی خفت بھی۔

گاڑی پھر چل پڑی۔

کچھ ماہ بعد کل ہوا بھرتے ہوئے لڑکے نے ٹائر پر چیک کرنے کے لئے ہاتھ مارا تو اچانک یوں پیچھے کھینچ لیا جیسے بچھو نے ڈنگ مار دیا ہو۔ خون کی ننھی سی بوند اس کی انگلی پر برآمد ہو گئی۔ کیا ہوا میں نے پوچھا تو کہنے لگا کہ جناب آپ کے ٹائر کی تو اندر سے تاریں تک نکل آئی ہیں

یہ بہت خطرے ناک ہو گیا ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ”اب کیا حل ہے؟“ میں نے پوچھا۔ مسکرا کر کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں اس کو پیچھے کر دیتے ہیں اور پیچھے والا آگے کر دیتے ہیں۔

تو یوں صاحبو جو چند سال پہلے جو ٹائر کمزور سمجھ کر پیچھے کر دیا گیا تھا اور ہنوز پیچھے ہی تھا وہ بھی اب اگلے وہیل پر آ گیا ہے۔

گاڑی پھر چل پڑی ہے۔

گاڑی تو پھر چل پڑی ہے مگر میں تصور میں مسکراتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ ڈگی میں جو جنم جنم کی میلی چادر جیسا پرانا فالتو اسٹپنی ٹائر ہے وہ اب ان سب ٹائروں سے بہتر ہے اگلی بار اس کو کہیں ایڈجسٹ کروا کر اس تار والے ٹائر کی اسٹپنی بنا لوں گا اور یوں گاڑی چلتی رہے گی۔

اناڑی ڈرائیور کی طرح اسٹیبلشمنٹ بھی 75 سال سے سیاسی ٹائر آگے پیچھے کر کے اور اسٹپنیاں لگا کر ملک کی گاڑی کو چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کوشش سے نہ صرف ٹائروں کی بربادی اور گاڑی کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ ٹائر پھٹنے کی صورت میں حادثے کا امکان بھی خطرے ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ آئینی، قانونی اور سیاسی الائنمنٹ کیے بغیر اس گاڑی کو آگے بڑھانا گاڑی اور اس کے غیر لائسنس یافتہ ڈرائیور دونوں کے لئے بے حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جبکہ تاحال آئینی لائسنس حاصل ہونے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی لہذٰا الائنمنٹ درست کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو بھی بدلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS