استحکام پاکستان میں میڈیا کا کردار


سانحہ 9 مئی کے واقعات نے ملکی سیاست کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کا ہر درد مند شہری غم و غصے میں دکھائی دیتا ہے۔ ملکی املاک اور شہدا کی یادگار کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ متعصبانہ اور متنفرانہ نعرہ بازی سے کم از کم اتنا فائدہ ہوا ہے کہ ہر ذی ہوش کو ڈیجیٹل میڈیا کے خطرناک ہونے کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کی اشرف المخلوقات کو اللہ تعالی نے عقل سلیم کے بعد جس نعمت سے نوازا ہے وہ ذہنی ابلاغ ہے، یہ ذہنی ابلاغ اب ابلاغ سے ابلاغ عامہ تک کا سفر طے کر کے اتنی حد تک پہنچ چکا ہے کہ بقول کینیڈین سوشل سائنسدان مارشل میکلہن دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس کی ترقی نے دنیا کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں ختم ہو گئی ہیں اور ہر ملک اور قوم کی نظریاتی سرحدیں بچ گئی ہیں جن کا تحفظ کسی بھی قوم کے ہر فرد کا فرض اولین ہے۔

جمہوریت کی آب یاری اور جمہوریت مخالف قوتوں کا مقابلہ اور سامنا کرنے کے لئے جدید میڈیا ایک فعال کردار ادا کرتا ہے۔ جنگ ہو یا امن، قدرت آفات ہوں یا ملکی سلامتی کا کوئی مسئلہ، ابلاغ عامہ ہی ایک ہتھیار ہے جس کے ذریعے رائے عامہ کی راہ ہموار کر کے عوام کے اذہان پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ففتھ جنریشن وار کے بارے میں اکثر اصحاب واقف ہوں گے لیکن آج تک کسی بھی فرد نے اس کے اطلاق اور مضر اثرات کے بارے میں آگاہ نہیں کیا کہ ففتھ جنریشن وار کا سب سے اہم نکتہ کسی ملک یا قوم کی جغرافیائی سرحدوں پر قبضے کی بجائے عوام کے دماغ اور ذہن پر قبضہ ہے جس کے لئے سب سے پہلے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جاتا ہے، جیسا کہ میرے اکثر قارئین واقف ہوں گے کہ دماغ اور ذہن پر قبضہ جمانے کے لئے انسانی دماغ کو مفلوج کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے عامل کے حکم پر عمل کر سکے، جس کو ٹرانس میں لانا بھی کہا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں کسی بھی قوم کو ٹرانس میں لانے کے لئے معاشرے میں افراتفری، انفرادی سوچ کے ساتھ ساتھ معاشی بحران پیدا کیا جاتا ہے تاکہ افراد کے اذہان وطن پرستی اور قومی نظریات کے بارے میں یکسو ہو کر نہ سوچ سکیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے وطن عزیز پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام بے چینی اور افراتفری اور ذہنی پراگندہ پن کا شکار ہیں۔ جس میں میڈیا کا سب سے اہم کردار ہے۔ میرے خیال میں میڈیا ہی ایک ایسا اوزار اور ہتھیار ہے جس کے ذریعے اقوام اور افراد کی سوچ کو بدلنا اور دماغوں میں گھسنا بہت آسان ہے۔

ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا پرسنز اور اینکرز کا جب مطمح نظر پیسہ اور پر عیاش زندگی ہو گی تو ظاہر ہے وہ اپنا چورن بیچنے کے لئے کبھی یہ نہیں سوچیں گے کہ وہ جو مصالحہ دار چورن کسی خبر، مضمون، رپورٹ یا آرٹیکل کی شکل میں پیش کر رہا ہے، ہو سکتا ہے عوام کے دماغ میں ایسا زہر انڈیل رہا ہو جس کی بنا پر اس کے قومی نظریات متاثر ہو رہے ہوں۔ ذرا سوشل میڈیا کھول کر دیکھ لیں یا کوئی پاکستانی چینل کا ٹاک شو یا پروگرام دیکھ لیں تو آپ کو میری بات سے اتفاق کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو گی کہ سوشل میڈیا کی اکثر پوسٹس کٹ، کاپی پیسٹ یعنی نقل شدہ ہوتی ہیں۔

شیئر کرنے والے کو بھی علم نہیں ہوتا کہ راوی کون ہے، اس میں مواد مصدقہ ہے یا نہیں لیکن اگر ہمیں اچھی لگتی ہے اور ہمارے نظریات سے متصادم نہیں ہے ہم کار ثواب سمجھتے ہوئے اپنے حلقہ احباب کو شیئر کرنا ثواب سمجھتے ہیں۔ یہی حال ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز اور ڈراموں کا ہے جو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں مشترکہ خاندانی نظام اور اقدار کے خلاف زہر بھرنے میں پیش پیش ہیں۔

بین الاقوامی جاسوسی کے ماہر ایک روسی فوجی یوری بزمنوف نے نظریاتی براندازی (Idealogical Subversion) کی اصطلاح کے چار مختلف مراحل، اخلاقی ابتری، عدم استحکام، بحران کے بعد حالات کا معمول پر آنا کو اپنے مختلف انٹرویوز میں یوں پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایجنٹ اپنے پوشیدہ روپ میں سب سے پہلے دشمن ملک کے معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور معاشی نظام میں بگاڑ پیدا کرنے کے لئے اس قوم کی ایک نسل میں اخلاقی انحطاط پیدا کرنے کے لئے اس ملک کے میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کو ( جو نامور صحافیوں، دانش وروں، ماہرین تعلیم اور پروفیسروں کی صورت میں ہو سکتی ہیں ) ڈالرز کے ذریعے خرید لیتا ہے اور پھر یہی لوگ دشمن قوم کو نظریاتی طور پر اتنا مفلوج کر دیتے ہیں کہ ان کو سچ اور جھوٹ کی پہچان بھی بھول جاتی ہے۔

آپ سب میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ گزشتہ دہائی کے دوران نئے جدید سیاسی نظریات کی آبیاری میں ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا نے اتنی گھناؤنا کردار ادا کیا ہے کہ بیٹا، باپ کے خلاف اور بھائی اپنے سگے بھائی کے ساتھ سیاسی بحث کے دوران مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت 9 مئی کے واقعات ہیں جن میں ایک مخصوص سیاسی طبقہ فکر کے افراد نے صرف اس لئے توڑ پھوڑ کی کہ ان کے محبوب اور سیاسی مرشد کو حکومت وقت نے گرفتار کیوں کر لیا ہے؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو اس حد تک پہنچانے میں قومی میڈیا نے کتنا کردار ادا کیا اور کیوں کیا؟ مجھ ناچیز کی رائے میں اس کا سب سے بڑا سبب سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے وہ کرتا دھرتا ہیں جو ملک دشمن عناصر کی گود میں بیٹھ کر کمپیوٹر باٹ استعمال کر کے روزانہ لاکھوں فیک اکاؤنٹس کے ذریعے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے حق میں جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہیں جن میں سے اکثریت ہمارے میڈیا پرسنز کی ہے جو صرف پیسے اور بنک بیلنس بڑھانے کے لالچ میں عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

جدید دور میں پوری دنیا، پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا سفر طے کرتا ہوئی ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ میری رائے کے مطابق جدید ڈیجیٹل میڈیا ایک ایٹم بم سے بھی خطرناک ہتھیار ہے کیونکہ اس اوزار کا درست استعمال کر کے ہم نہ صرف اپنی قوم کی تعمیری ذہن سازی کر سکتے ہیں بلکہ مثبت رپورٹنگ کے ذریعے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سب خواب غفلت سے جاگ کر اپنی مملکت کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لئے یوں کمر بستہ ہوں کہ تعمیری سوچ رکھتے ہوئے کسی بھی وقوعہ کے صرف مثبت پہلو عوام کے سامنے لائیں۔

کوئی بھی ایسا مواد شیئر نہ کریں جو ہمارے مذہب اور دو قومی نظریہ سے متصادم ہو۔ نوجوان نسل کی مثبت تعمیر سازی کے لئے اگر ہر صحافی اور میڈیا پرسن کمر باندھ لے تو دن دور نہیں کہ ہماری نسل میں ایک بار پھر محمد بن قاسم، سلطان صلاح الدین ایوبی، اور محمود غزنوی جیسے ہیرو پیدا ہوں جو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

Facebook Comments HS