سائیکلون کیا ہے اور کیسے بنتا ہے؟

بائپر جوائے سائیکلون (سمندری طوفان) مشرقی وسطی بحیرہِ عرب میں موجود ہے جو کہ بحرِ ہند کا حصہ ہے۔ سائیکلون ہائپر جوائے اس وقت بھارت اورپاکستان کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ بھارتی موسمیاتی ادارے نے 6 جون کو شمالی بحرِ ہند میں ایک ڈپریشن کو نوٹ کیا جو بعد میں سائیکلون بائپر جوائے کی شکل اختیار کر گیا۔ ڈپریشن ایک معمولی سمندری طوفان کو کہتے ہیں جس میں ہواوں کی رفتار تقریبا 38 میل فی گھنٹہ یا اُس سے کم ہوتی ہے۔
شمالی بحرِ ہند کے سائیکلون سائیکل یا سیزن کے مطابق سمندری طوفان اپریل اور دسمبر کے درمیان بنتے ہیں اور مئی سے نومبر تک ان میں شدت ہوتی ہے۔ 2023 کے سائیکلون سائیکل یا سیزن کے حساب سے شمالی بحرِ ہند میں پیدا ہونے والا یہ تیسرا ڈپریشن اور دوسرا سائیکلون ہے۔
پہلا سائیکلون ـ”موچا” مئی کے مہینے میں رونما ہوا جس نے بنگلہ دیش اور میانمار کے کچھ ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
سائیکلون عام طور پر تین مراحل میں بنتے ہیں۔ ٹراپیکل سائیکلون، سوئیر سائیکلون اور سُپر سوئیر سائیکلون۔ اگر طوفان کی رفتار74 میل فی گھنٹہ سے کم ہو تو یہ ٹراپیکل سائیکلون کہلاتا ہے۔ یہی طوفان جب شدت اختیا ر کر کے 75 سے 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑتا ہے تو سوئیر سائیکلون بن جاتا ہے اور جب اسکی رفتار بڑھ کر 120 میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ طوفان سُپر سوئیر سائیکلون کہلاتا ہے۔
بائپر جوئے کی رفتار تقریبا 111 میل فی گھنٹہ ہے اس لیے یہ سوئیر سائیکلون کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ سائیکلون کیا ہیں اور کیسے بنتے ہیں؟ کہاں سے شروع ہوتے ہیں؟ سائیکلون، ٹائفون اور ہوریکین میں کیا فرق ہے؟
سائیکلون ایک عام اصطلاح ہے جو ماہرین موسمیات کی طرف سے ایسے گھومتے منظم بادل کو بیان کرنے کے لیئے استعمال کی جاتی ہے جو سمندر کے پانیوں پر سے نکلتا ہے۔ سائیکلون، ہوریکین اور ٹائفون تینوں اصطلاحات سمندری طوفان کے لیے ہی استعمال ہوتی ہیں۔ معنی ایک ہی ہے صرف مقام کے لحاظ سے اصطلاح تبدیل ہو جاتی ہے۔
بحر اوقیانوس اور شمال مشرقی بحرالکاہل میں اسے "ہوریکین” کہا جاتا ہے۔ شمال مغربی بحرالکاہل میں اسے "ٹائفون” اور جنوبی بحرالکاہل اور بحر ہند میں اسے "سائیکلون” کہا جاتا ہے۔
کرہِ عرض کا نصف کریں تو شمالی کرہ میں سمندری طوفان کو ہوریکین یا ٹائفون اور جنوبی میں سائیکلون کہا جاتا ہے۔ ایک اور فرق یہ ہے کہ سائیکلون عام طور پر گھڑی کی سمت اور ہوریکین گھڑی کی مخالف سمت گھومتے ہیں۔
یہ سائیکلون کہاں سے شروع ہوتے ہیں؟
جب ہوا کا دباؤ (atmospheric pressure) سمندر کے پانیوں پرکم اور ساکن ہوتا ہے اور پانی کا درجہ حرارت 26.5 ڈگری سیلسئیس سے زیادہ ہوتا ہے تو سائیکلون بنتا ہے۔
ہوا کا دباؤ کیا ہے؟
ہمارے ماحول میں ہوا کی کثافت ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہوا کا دباو، ہوا کا وزن ہوتا ہے جو کشش ثقل کے ساتھ مِل کر زمین کی سطح کے مخالف عمل کرتا ہے یعنی زمین کی سطح پر دباو ڈالتا ہے، اسی دباو کو ہوا کا دباو کہتے ہیں۔
یہ دباو سطح زمین پر زیادہ ہوتا ہے اور جیسے جیسے زمین کی سطح سے اوپر جاتے جائیں تو ہوا کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے دباو کم ہوتا جاتا ہے۔
جب سمندر کے پانیوں پر ہوا کا دباو کم ہوتا ہے تو ٹھنڈی ہو نیچے آتی ہے کیونکہ اس میں نمی ہوتی ہے، گرم ہوا خلا پُر کرنے کے لیے اوپر اُٹھتی ہے۔ اوپر اٹھتی گرم ہوا ایک جگہ پر پہنچ کر مزید گرم ہو جاتی ہے اور بہت تیزی سے اوپر اٹھنا شروع ہو جاتی ہے جسکی وجہ سے مذید خلا پیدا ہوتا ہے۔ اردگرد کی ہوا اس خلا کو پُر کرنے کے لیے بہت تیز رفتاری سے چلتے ہوئے لمبا فاصلہ طے کرتی ہے۔
جب اردگرد کی ہوائیں اس جگہ پہنچتی ہیں جہاں خلا پیدا ہوا ہوتا ہے تو خلا پُر کرنے کی بجاٗے ایک دائرے کی شکل میں چکر کاٹنا شروع کر دیتی ہے اور اسکے بعد ارد گرد کی ہوائیں بھی اس ہوا کے چکر میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح یہ ہوائیں سائیکلون کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب بہت تیزی سے ہوا بہت بڑی مقدار میں خلا کو پُر کرنے کے لیے دائرے میں چلتی ہے تو یہ بادلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یوں بہت بڑا طوفان گرج چمک کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر سائیکلون کا دائرہ 100 کلومیٹر سے لے کر 2000 کلومیٹر تک پھیلا ہوتا ہے۔ سائیکلون 10 کلومیٹر کی اونچائی تک بڑھ سکتے ہیں اور ان کا دورانیہ 3 سے 7 دن تک ہو سکتا ہے۔ سائیکلون کی اونچائی اور دورانیہ کا انحصار اسکی رفتار اور خشک زمین سے دوری پر ہوتا ہے۔
سائیکلون جب زمینی علاقے سے گزرتے ہیں تو خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک غلط فہمی ہے کہ زمین کی سطح پر عمارتیں اور دیگر چیزیں رکاوٹ کا کام کرتی ہیں اور طوفان کو روکتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سائیکلون جب زمین کی سطح پر پہنچتا ہے یا ٹھنڈے پانی کو عبور کرتا ہے تو اسکی طاقت کا بنیادی ذریعہ سمندر کا گرم پانی اس سے چھِن جاتا ہے اور یہ کمزور ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے۔
پچھلے ہزار سالوں کے ریکارڈ کے مطابق بحر اوقیانوس، بحرالکاہل اور بحر ہند میں تقریبا 11 ہزار سے زائد سائیکلون آ چکے ہیں۔
سمندری طوفانوں کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا سائیکلون ”ٹائفون ٹِپ” 1979 میں جنوبی بحرالکاہل میں فلپائین کے قریب ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا دائرہ 190 میل فی گھنٹہ رفتار کے ساتھ 2200 کلومیٹر پر محیط تھا۔ یہ تقریبا 20 دن موجود رہا۔
پاکستان بھی ٹراپیکل خطے میں واقع ہے جسکی وجہ سے یہ کئی بڑے سمندری طوفاوں کا سامنا کر چُکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کچھ قابل ذکر طوفان ہیں جنہوں نے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔
1971 میں ”بھولا سائیکلون”
1999 میں ” بحیرہِ عرب سائیکلون”
2007 میں” یمین سائیکلون”
2010 میں ” پیٹ سائیکلون”
2019 میں ”کیار سائیکلون”
یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں سائیکلون کا خطرہ اس کی چھوٹی ساحلی پٹی اور جغرافیائی عوامل کی وجہ سے پڑوسی ممالک جیسے بنگلہ دیش اور بھارت کے مقابلے نسبتاً کم ہے۔ تاہم، پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سائیکلون کے اثرات اب بھی نمایاں ہو سکتے ہیں، جس سے جانی نقصان، بنیادی ڈھانچے کو نقصان، اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ چونکہ موجودہ سائیکلون ”بائپر جوائے” ایک سوئیر سائیکلون ہے اس لیے اسکی وجہ سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

