بجٹ جائزہ


وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ حالیہ بجٹ کے جائزے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکمل طور پر انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے۔ اسی لیے اس بجٹ میں حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبات مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے کی بھی بالکل کوشش نہیں کی۔ حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ حکومت کے لیے اپنے ٹارگٹ پورے کرنا نہایت مشکل ہو گا۔ کیونکہ بیرونی قرض کے سود کی ادائیگی کے لیے رواں سال مزید قرض حاصل کرنا پڑے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لئے بھی لازما کچھ نہ کچھ رقم درکار ہوگی۔ ایک محتاط اندازے کا مطابق تقریباً 40 ارب ڈالرز کا مزید قرض رواں مالی سال میں حکومت کو لینا پڑے گا اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکل کر اس قدر خطیر رقم کا بندوبست کرنا فی الحال ناممکن ہی نظر آ رہا ہے۔ ہماری ملکی جی ڈی پی گروتھ ہمیشہ امپورٹ بیس رہی ہے اور محض امپورٹ میں کمی لانے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں کسی طرح کامیابی مل بھی گئی تو اس کا لا محالہ اثر جی ڈی پی گروتھ پر پڑے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اولین عرصے میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ معاشی شرح نمو میں تیز رفتار تنزل کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے کی گئی درآمدات میں کمی تھی، جس کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح بہت بڑھ گئی تھی۔ بلا شبہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانا نا گزیر ہے لیکن اس میں کمی کے لیے برآمدات میں اضافے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہایت ضروری ہے۔ زراعت کے شعبے میں ریلیف دینے کے لیے ٹریکٹر، زرعی آلات، گندم، مکئی، کینولا، سورج مکھی اور چاول سمیت مختلف اجناس کے بیجوں کی سپلائی پر سیلز ٹیکس واپس لینے جیسے اقدامات کافی نہیں ہو سکتے۔ یہ نہایت تشویشناک بات ہے کہ ہر سال ہمارے بارہ تیرہ ارب ڈالرز سے زائد صرف زرعی مصنوعات کی امپورٹ پر خرچ ہوتے ہیں، اس شعبے میں سنجیدہ کوشش سے امپورٹ بل میں کافی کمی ہو سکتی ہے۔

حکومت نے رواں مالی سال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کا ہدف تو رکھا ہے مگر ٹیکس پیئرز کی تعداد بڑھانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ میرے خیال میں یہ ہدف بہت زیادہ ہے جس کا حصول موجودہ حالات میں نا ممکن نظر آتا ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے لیے اگر امپورٹ میں کمی گئی تو لازمی بات ہے کہ یہ ہدف حاصل کرنا کسی بھی طور ممکن نہیں رہے گا۔ دہری مصیبت یہ ہے کہ ملک کے مجموعی محصولات میں زیادہ حصہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں آتا ہے جو سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی کی شکل میں خزانے میں جمع ہوتے ہیں لہذا صاف نظر آتا ہے کہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافہ ہو گا۔ جس کا نتیجہ مہنگائی اور عام آدمی کی زندگیوں میں سنگین مشکلات کی صورت میں نکلے گا۔ پھر مہنگائی کا جو تخمینہ لگایا ہے، اس کی اصل شرح مذکورہ تخمینے سے بہت زیادہ ہو جائے گی۔ حکومت کو بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات میں فوری طور پر کمی کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس کے لیے بجلی گیس کے شعبے میں گردشی خسارے میں کمی کرنی ہوگی، سبسڈیز کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا اور متبادل توانائی کے ذرائع پر جلد از جلد منتقل ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ترجیحی بنیادوں پر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں جیسے پی آئی اے اور اسٹیل مل وغیرہ کی نجکاری ہونی چاہیے۔ ان اداروں میں غیر ضروری ملازمین کی بھرمار ہے اور ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے جمع شدہ قومی خزانے سے ہر سال اس خسارے کی مد میں سینکڑوں ارب خرچ ہوتے ہیں۔ خسارے میں چلنے والے اداروں پر لگایا جانے والا پیسہ بچا کر اگر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کر دیا جائے تو عوام کے روزگار کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ جب حکومت پٹرولیم مصنوعات میں تاریخ ساز اضافے جیسا کڑوا گھونٹ بھر چکی ہے جس سے ملک کا ہر شخص متاثر ہوا ہے تو خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔

اسی طرح آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام میں بڑے پیمانے پر ہنگامی اصلاحات بھی وقت کی ضرورت ہیں۔ ملک میں بہت بڑی تعداد چھوٹے دکانداروں اور کاروباری حضرات کی ہے جن کی آمدنی طے شدہ نہیں، اس طبقے سے ٹیکس وصولی کا طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے۔ سودا وصول کرنے اور اپنی کوئی چیز مرمت کرانے کے بعد ہمارے ہاں نہ بلز کا تقاضا ہوتا ہے اور نہ دیے جاتے ہیں۔ بینکوں کے ذریعے لین دین اور کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کا رجحان بھی بہت کم ہے اور اس کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔ لہذا چھوٹے کاروباری طبقہ کے لوگ اول ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے اور اگر کوئی ایف بی آر کے ہتھے چڑھ بھی جائے تو تھوڑا بہت اہلکاروں کو دے دلا کر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ چھوٹے کاروباری افراد کے لیے اگر فکس ٹیکس مقرر کر دیا جائے اور اس کی ادائیگی کا طریقہ یوٹیلٹی بلز کی طرح سادہ بنا دیا جائے تو کافی ٹیکس اکٹھا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اب ڈائریکٹ ٹیکسز کے ذریعے آمدن بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن جب تک ٹیکس کا نظام عام فہم نہیں بنایا جاتا اور امراء کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا اس میں خاطر خواہ کامیابی کا امکان نہیں۔ ٹیکس رقم کا ایک بڑا حصہ پراپرٹی کے شعبے سے بھی کمایا جا سکتا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ صرف بھارتی شہر بمبئی سے پراپرٹی کے شعبے سے سالانہ سو ارب ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔ ماضی میں نان فائلرز پر ایک خاص رقم سے زائد پراپرٹی کی خریداری سے متعلق قدغن جیسی پالیسیز سے ہمارے ہاں نہ صرف پراپرٹی کا کاروبار تباہ ہوا بلکہ اس کا ملکی معیشت پر بھی بہت برا اثر پڑا۔ اس پالیسی کا مقصد عوام کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا مگر اس سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوا۔ اس سے زیادہ فائدہ تمام شہروں میں درست پراپرٹی ویلیو کا اندازہ لگا کر رجسٹریشن ٹرانسفر کے وقت اصل قیمت کے لحاظ سے ٹیکس وصول کر کے کیا جا سکتا ہے۔ پراپرٹی سے رقم کمانے کے لیے حکومت کو حقیقی مارکیٹ ویلیو پر رجسٹریشن کو یقینی بنانا ہو گا۔ ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کیے بغیر ملکی معیشت کو پٹری پر نہیں ڈالا جا سکتا اور آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہوں گے۔

Facebook Comments HS