کراچی میں رقص ابلیس


ملک عزیز میں جاری سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران اب کرونا وائرس کی طرح ”میوٹیٹ“ ہو کر کسی رقص ابلیس کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ درحقیقت اس رقص ابلیس کا باضابطہ آغاز 9 اپریل 2022 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی برطرفی سے شروع ہوا تھا اور یہ آج تک اپنی تمام تر رعنائیوں اور دلفریب اداؤں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اس رقص کو پی۔ ڈی۔ ایم، پیپلز پارٹی جسے گئے دنوں میں شہیدوں کی وارث جماعت کہا جاتا تھا، اے۔ این۔

پی اور دیگر ماہرین کی فنی مہارت کا ایک انمول فن پارہ نہ کہنا اس رقص اور اس میں شامل تمام فنکاروں کی توہین ہوگی۔ اس رقص کی سحر انگیز کارکردگی نے ملک کی واحد حزب اختلاف کی جماعت پی۔ ٹی۔ آئی کے ان گنت سرکردہ رہنماؤں کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ وہ عالم مستی و سرور میں اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتیں کھونے کے بعد اپنی دیرینہ جماعت سے جوق در جوق لاتعلقی کا اظہار کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔

سرکاری سرپرستی میں جاری اس رقص ابلیس نے پاکستان کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی منظرنامے کو حد درجہ متاثر کرنے کے بعد 15 جون 2023 جب سمندری طوفان بائیپر جوئے نے پاکستانی ساحلوں سے ٹکرانا تھا سابق صدر آصف زرداری کی مفتوحہ جماعت پیپلز پارٹی کی زیر سرکردگی رقص ابلیس کا ایک شاندار مظاہرہ کراچی آرٹس کونسل میں منعقد کیا۔ کراچی میں پیش کیا جانے والا یہ فن پارا اس قدر پرجوش اور وجد آور تھا کہ پی۔ ٹی۔ آئی کے کم و بیش 33 یوسی چیئرمین انتہائی ”جذب و جنون“ کے عالم میں اس رقص میں شریک ہو گئے اور ”ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو آپ اپنی خبر نہیں آتی“ کہ مطابق اپنا فرض اولین یعنی اپنی پارٹی کے حمایت یافتہ جماعت اسلامی کے نامزد کردہ میئر محترم حافظ نعیم الرحمان کو ووٹ دینا ہی بھول گئے۔ چنانچہ 193 ارکان کی واضح اکثریت ہونے کے باوجود حافظ صاحب پیپلز پارٹی کے 173 ووٹوں کے سامنے محض ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

بعد ازاں رقص ابلیس کے تمام تر نرت بھاؤ پر جھومتے ہوئے نومنتخب میئر مرتضی وہاب، صوبائی وزیر سعید غنی، شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ اور اس رقص میں شامل کچھ اور فنکاروں نے اپنی زور زبردستی کی کامیابی کو جمہوریت اور کراچی کی عوام کی بھرپور کامیابی سے منسوب کرتے ہوئے کراچی کو ایک بار پھر عروس البلاد بنانے کا دعوی بھی کر دیا۔ یہ اور بات ہے کہ زرداری کی مفتوحہ اور ایک پرچی کے ذریعے اس کی چیئرمین شپ حاصل کرنے والے بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی جو کہ گزشتہ 13 سال سے صوبہ سندھ میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے کراچی شہر کو عملی طور پر کچرا کنڈی میں تبدیل کرنے کے اعزاز کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر ترقیاتی یا تعمیری کام کرنے سے قاصر رہی ہے۔

ان تمام اہل فن کی تمام تر فنکاریوں اور گلکاریوں کے بعد پولیس اور رینجرز جو کہ ملک میں جاری رقص ابلیس میں اپنے فن کے مظاہرے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتے ہیں کی جانب سے جماعت اسلامی کے مٹھی بھر غیر مسلح مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال کا زبردست مظاہرہ دیکھنے میں آیا جس دوران کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ توقع ہے کہ ان تمام گرفتار شدہ کارکنوں کو جو رقص ابلیس کی نزاکتوں اور اس میں چھپے پیغام کو سمجھنے سے یکسر عاری تھے عنقریب انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے ملک دشمنی اور ملک فروشی کی اسناد کے ساتھ قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اور ان مظلوموں کی آہ و بکا ملک میں جاری رقص ابلیس کی سحر انگیزی اور معنویت میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بن جائے گی۔

سرکاری سرپرستی میں جاری رقص ابلیس کی شاندار کارکردگی اگلے انتخابات تک جاری رہنے کا نہ صرف قوی امکان ہے بلکہ اس کی شدت اور جنون اس وقت اپنے نقطہ عروج پر ہوگی جب مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف وطن واپسی پر اس رقص میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ میاں صاحب جیسے کامل فنکار کی زیر سرکردگی ملک میں جاری رقص ابلیس کا اپنی تمام تر سحر انگیزی اور جنون کے ساتھ ملک و قوم کو اپنے لازوال فن سے محظوظ کرنا اب ایک واضح نوشتہ دیوار بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

آخر میں اس رقص ابلیس میں شامل تمام ماہرین فن کی خدمت میں ایک منظوم ہدیہ تبریک کچھ یوں ہے :
موہے آئی نہ جگ سے لاج
میں اتنا زور سے ناچی آج
کہ گھنگرو ٹوٹ گئے

Facebook Comments HS