امریکی اخلاقیات اور ظلم پر مبنی عالمی نظام


کیا دنیا کی معلوم تاریخ میں طاقتور ترین سمجھی جانے والی سلطنت اوج کمال پانے کے بعد اب زوال پذیر ہے؟ قوموں کے مابین دنوں کو پھیرنا اللہ کی سنت ہے۔ اس کے ہاں ایک دن مگر ہمارے ہاں کے کئی ہزاروں کے برابر ہے۔ ہماری دینی تعلیمات کے مطابق، دنوں کے پھیرے جانے میں مادی عناصر کے علاوہ قوموں کی ’اخلاقیات‘ بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ فرمایا، ’کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں‘ ۔

امریکہ کی عالمی پالیسیاں جو بھی ہوں، امریکی معاشرہ عدل، مساوات، شہریوں کی فلاح و بہبود جیسے اصولوں کی بنیاد پر محض دو صدیوں کے اندر مضبوط بنیادوں پر مستحکم ہو چکا ہے۔ امریکی معاشرہ اخلاقیات پر مبنی اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے افراد پر مبنی ہے۔ اس معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور سچ کا بول بالا ہے۔ جہاں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو برائی سمجھا جاتا ہے۔ ملاوٹ، مالی بدعنوانی، اقرباپروری اور دوسروں کا حق مارنے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

جمہوری، معاشی اور انصاف کے قومی ادارے مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ عام شہری انصاف کے حصول کے لئے برسوں در بدر دھکے نہیں کھاتا۔ تعلیم اور ترقی کے مواقع باصلاحیت امریکیوں کو مساوی طور پر دستیاب رہتے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں دنیا میں صف اول کی درجنوں یونیورسٹیاں امریکہ میں ہیں۔ سب سے زیادہ نوبل انعامات امریکیوں کے پاس ہیں۔ ہر سال ہزاروں غیر ملکیوں کو تعلیمی وظائف عطا کیے جاتے ہیں، جبکہ میرٹ کی قدر اور انٹر پرنیورشپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

چنانچہ دنیا میں سب سے زیادہ تارکین وطن امریکہ منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ امریکی معیشت آہنی ڈھانچے پر کھڑی اور متعدد عوامل کی بناء پر اندرونی اور بیرونی معاشی زلزلوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سویلین، خلائی اور عسکری ٹیکنالوجی میں فیصلہ کن برتری کے بعد اب ’مصنوعی ذہانت‘ کے میدان میں بھی امریکہ کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ شخصی آزادیوں پر مبنی امریکی طرز زندگی اور مسرت میں ڈوبے کلچر اور بودوباش کی نقالی اب وہ اقوام بھی کر رہی جو خود صدیوں پرانی تہذیبوں کی حامل ہیں۔

امریکی قومی قوت کے کلیدی عناصر ترکیبی کے ایک اجمالی جائزے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ قومی سطح پر کامیابی امریکیوں کی گود میں پکے ہوئے پھل کی طرح نہیں گری۔ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی معاشرہ اپنی ’اخلاقیات‘ کے بل بوتے پر ہی عدل اور انصاف کا نظام کھڑا کرنے اور وسیع البنیاد قومی ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ امریکیوں نے دنیا میں اپنا موجودہ مقام جن عوامل کی بناء پر حاصل کیا، لگ بھگ انہی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ریاست ہائے امریکہ کے زوال کا فی الوقت دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

دوسری طرف پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا امریکی حکومت کا عالمی سیاست میں طرز عمل مبنی بر انصاف اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر استوار ہے؟ کیا خود امریکیوں کو اپنے رویوں میں پائے جانے والے تضادات اور اکثر اوقات ظلم کی حدوں کو چھونے والی عالمی نا انصافیوں کا ادراک ہے؟ شاید پوری طرح نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو امریکی جابجا یہ نہ پوچھتے پھرتے کہ امریکہ کہ جو ہر سال دنیا بھر میں اربوں ڈالرز کی امداد بانٹتا ہے، وہی دنیا اس سے نفرت کیوں کرتی ہے؟

یورپ سمیت درمیانے درجے کے ممالک بھی امریکی اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھتے ہیں؟ یقیناً یہ اور اس سے ملتے جلتے کئی سوالات امریکہ میں واقع دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں بھی زیر فکر آتے ہوں گے۔ تاہم امریکی عوام اور امریکی دانشوروں کی سوچ کے برعکس، امریکی اسٹیبلشمنٹ کے پیش نظر ضرور کچھ ’قومی مفادات‘ ایسے بھی ہوتے ہوں گے کہ جن کے پیش نظر استعماری اور ظلم پر مبنی عالمی پالیسیوں کی تشکیل ناگزیر ہوتی ہوگی۔

ضرور یہ قومی مفادات ہی ہیں کہ جن کی خاطر قوموں کو محکوم بنایا جاتا ہے۔ ان پر جنگیں مسلط کی جاتی ہیں۔ قوموں کو معاشی غلام بنائے جانے کی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ خود مختار ملکوں کی آزادی سلب اور ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمایا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم کہ اکثر یہ سب محکوم معاشروں میں جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے فروغ کے نام پر کیا جاتا ہے۔ تاہم تاریخی شواہد موجود ہیں کہ قومی مفاد کے نام پر ہی دنیا کو مختلف چشمے پہن کر دیکھا جاتا ہے۔

کہیں تو جمہوری حکومتوں کے قیام، شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر اندھی اور ہولناک عسکری قوت کے ذریعے ملکوں کو اجاڑ کر رکھ دیا جاتا ہے، تو کہیں عوام کے حق رائے دہی سے ہی منکر ہوتے ہوئے مقبول منتخب صدر کو ہٹا کر پنوشے جیسا ظالم فوجی آمر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ڈھونڈنے لگو تو درجنوں مثالیں ہیں۔ جھوٹ پر مبنی بیانئے پھیلائے جاتے ہیں اور امن کی خاطر اربوں روپے جنگوں میں جھونک دیے جاتے ہیں۔ کیا ظلم، خود غرضی اور نا انصافی کے ستونوں پر کھڑے ہو کر ننگی طاقت کو دوام بخشا جا سکتا ہے؟

قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ تو ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کرۂ ارض پر کسی بھی دور میں بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنے والی قوموں کو کسی نہ کسی شکل میں یہ مخمصہ در پیش رہتا ہے کہ اس کے دشمنوں کی تعداد دوستوں سے بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ کو بھی اب یقیناً یہی مشکل درپیش ہے۔ چنانچہ اپنی استعماری حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے ماضی کی سپر پاورز کی طرح امریکہ کو بھی اپنے قومی وسائل بے دریغ استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

نتیجے میں محض پچاس برسوں کے اندر امریکہ قرض خواہ کی بجائے دنیا کا سب سے بڑا قرض دار بن چکا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکی جغرافیہ، اس کا حجم، اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت اور قدرتی وسائل اس کے زوال میں تادیر سست روی کے اسباب فراہم کرتے رہیں گے۔ آج اگر امریکہ قبل از جنگ عظیم Isolationist دور میں لوٹتے ہوئے خود کو اپنے ساحلوں تک محدود کر لے تو بھی اس کا شمار دنیا کی چند بڑی قوموں میں ہی ہوتا رہے گا۔

اس سوال کا جواب کہ امریکہ اپنی موجودہ حیثیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے کسی حد تک اس امر میں پوشیدہ ہے کہ امریکہ کی استعماری عالمی سیاست کے ردعمل میں آنے والے عشروں کے اندر دنیا میں طاقت کے کون کون سے نئے مراکز ابھرتے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا امریکی دانش اور اخلاقیات پر استوار امریکی معاشرہ، ابھرتے ہوئے ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے اندھی طاقت استعمال کرنے کی عادی امریکی اسٹیبلشمنٹ کو حکمت، عدل اور انصاف کی روش اختیار کرنے پر قائل کر سکتا ہے؟

قوموں کے مابین دنوں کو پھیرنا اللہ کی سنت ہے۔ اللہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا۔ چنانچہ ظلم پر استوار عالمی بندوبست میں امریکی زوال کو روکنا ناممکن ہے۔ تاہم امریکی اپنے زوال کے عمل کو سست ضرور کر سکتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی استعمار کے زوال کی رفتار کا انحصار امریکی معاشرے کی ’اخلاقیات‘ اور مادی قوت کے سرکش گھوڑے پر سوار امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ظلم پر استوار عالمی پالیسیوں کے مابین کش مکش پر ہو گا۔

Facebook Comments HS