ریٹنگ کا دور

کچھ لوگوں کو ڈائناسور کے دور میں پیدا ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے وہ ریٹنگ کے دور میں پیدا ہو گئے ہیں۔ دنیا میں بالعموم گزشتہ نصف صدی سے اور پاکستان میں بالخصوص گزشتہ ایک دو عشروں سے ادھ پڑھے چند مشٹنڈے ہاتھوں میں کیمرے اور مائیک تھامے ریٹنگ کے چکر میں کسی کو بھی بیج سڑک بے عزت کر دیتے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم ہوتا کہ وہ جو کر رہے ہیں، اس کے معاشرے اور ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بس، ان کے چھوٹے چھوٹے ذہنوں میں ریٹنگ پھنسی ہوئی ہوتی ہے۔ کہیں تو یہ بازاروں اور چوراہوں پر پردہ دار عورتوں اور معصوم لڑکیوں کے ساتھ پرینک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں سر بازار بزرگ شہریوں اور نوجوان لڑکوں کے ساتھ پرینک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پرینک ہونے والا شخص جتنا زیادہ غصے کا اظہار کرے گا، اتنی ہی زیادہ ان کی ریٹنگ ہو گئی۔
کچھ ایسا ہی پرینک باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے محکمہ ایکسائز کے ریجنل افسر آصف صاحب کے ساتھ کیا گیا۔ انہیں بیج سڑک سر عام روک کر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں بار بار ہوٹنگ کر کے اکسانے کی کوشش کی گئی، تا کہ وہ اشتعال میں آ کر کوئی غیر مناسب ردعمل دیں، جسے بنیاد بنا کر ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ مگر، انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور سر عام تذلیل برداشت کرتے رہے۔ وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں ان کی ہی گاڑی میں بیٹھنے سے بار بار زبردستی روکا گیا۔ حتی کہ غیر قانونی طور پر پولیس بلا کر انہیں دو گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس سارے پرینک کی ضرورت کیا تھی؟ ریٹنگ، آصف صاحب کی تذلیل یا کچھ اور؟ اگر آصف صاحب کوئی غیر قانونی گاڑی استعمال کر رہے تھے تو ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اور سیکریٹری ایکسائز کے دفاتر عوام کے مسائل سننے کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں، پرینک کرنے والے حضرات آصف صاحب کے کسی غیر قانونی کام کے خلاف درخواست دے دیتے۔ مگر میری اطلاع کے مطابق انہوں نے ان کی غیر قانونی گاڑی کے خلاف کوئی درخواست نہیں دے رکھی تھی۔
لہذا، میری سمجھ بوجھ کے مطابق ان کا مقصد آصف صاحب کی تذلیل کر کے ریٹنگ حاصل کرنا تھا۔ شاید انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ کسی بھی سرکاری شخص کی دوران ڈیوٹی تذلیل کرنا ایک سنجیدہ جرم ہے۔ درحقیقت، ریجنل سطح کے ایکسائز افسر کی تذلیل پورے محکمے کی تذلیل ہے۔ بلکہ اسے ریاست کی تذلیل کے مترادف سمجھنا بھی غلط نا ہو گا۔ اور آفیسر بھی وہ جو چوبیس گھنٹے اپنے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے کی بجائے سخت دھوپ میں سڑکوں پر ٹیکس آگاہی کی مہم چلا رہا ہو اور ملک میں ٹیکس کلچر کو پروموٹ کر رہا ہو۔ وہ خود سڑکوں پر جگہ جگہ عوام کو ٹیکس می ادائیگی کے طریقہ کار اور ٹیکس نا ادا کرنے کے اثرات کے بارے میں لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے محنتی اور ایماندار افسر کی سرعام تذلیل کا مقصد کیا ہے؟
میں یہ مقصد سمجھنے سے قاصر ہوں۔ شاید ڈائناسور کے دور میں پیدا ہونے والے لوگ کیمرے کے دور میں پیدا ہو گئے ہیں، اور ان کے معصوم ذہنوں میں ذاتی تشہیر کے لیے ریٹنگ کا خمار چوبیس گھنٹے پھنسا رہتا ہے اور وہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ شاید انہوں معلوم ہو سکے ان کے اس طرح کے اقدام سے ریاست کی رٹ کمزور ہو گئی اور افسر خود کو اپنے دفتروں تک محدود کر لیں گے، پہلے ہی گنے چنے افسران سڑکوں پر نکل کر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کاش مملکت خدا داد پاکستان میں محنتی اور ایماندار لوگوں کو ایوارڈ دینے کی جگہ یوں سر عام ذلیل کرنے کا کلچر ختم ہو جائے۔ کاش پاکستان میں بھی قانون سب کے لیے برابر ہو جائے، اور کوئی جرنیل، سیاستدان، بیوروکریٹ، صحافی یا عامی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نا سمجھے۔ نہیں تو پھر ایماندار، پڑھے لکھے محنتی نوجوان اس ملک کو چھوڑ کر باہر بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھیں گے۔

