پارٹیاں بدلنے والی ابن الوقت سیاسی دیمک
مشرف کے اقتدار سے بے دخلی کے بعد پاکستان میں جمہوری نظام دوبارہ اپنے پاؤں پر چلنا شروع ہو گیا تھا اور یہ امید تھی کہ اگلے بیس پچیس برس اگر اس نظام کی جان لینے کی کوشش نہ کی گئی تو اپنے قدم مضبوطی سے جما لے گا مگر جولائی دو ہزار سترہ کو اس پر ایسا حملہ کیا گیا کہ یہ ابھی تک وینٹی لیٹر پر اپنی زندگی کی سانسوں کو بس قائم رکھے ہوئے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمہوری نظام پر پاکستان میں حملہ کیوں ہوتا ہے اور وہ اتنی کاری ضرب لگانے میں کیوں کر کامیاب ہو جاتے ہیں؟
اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روز روشن کی مانند سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ دو براہ راست منتخب وزرائے اعظم کا تختہ الٹایا گیا، بھٹو اور نواز شریف۔ اور ان دونوں کے خلاف جب آمرانہ اقدام کیا گیا تو اس سب کا مرکزی ہدف یہ دونوں رہنما اور ان کے خاندان تھے اور سب سے زیادہ صعوبتیں بھی انہی دونوں رہنماؤں اور ان کے خاندانوں نے برداشت کیں۔ عوام میں بھی ان کی سیاسی جماعتوں کی پہچان ان ہی شخصیات کی بدولت ہیں۔ مقبولیت میں بھی کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پھر اتنی مضبوط سیاسی جڑوں کے حامل افراد کے خلاف اس کے خلاف آمریت کیسے قائم ہو گئی اور پردہ نشین آمریت کا مقابلہ کر کے تو نواز شریف تو ابھی فارغ ہی ہوئے ہیں۔ ان کی سیاسی جماعتیں کیوں اس سطح کا ردعمل تو نہ دے سکے کہ جس سطح کا ردعمل وہ دے سکتی تھیں۔
ہم اگر ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو ہمیں پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی ساخت پر توجہ دینی ہوگی۔ مرکزی قائد کے بعد ایک دوسری سطح کی قیادت عوام کی نظروں کے سامنے ہوتی ہے اور عوام ان افراد کو اپنی سیاسی جماعتوں کا چہرہ تصور کر رہے ہوتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ اور جب تک کہ یہ افراد عوام کو رہنمائی اور لائحہ عمل فراہم نہیں کرتی ہے اس وقت تک عوام کے لئے کسی ردعمل کا امکان نہیں سرے سے مفقود ہو جاتا ہے اگر ہم پانچ جولائی انیس سو ستتر اور 12 اکتوبر 1999 کے فوری بعد حالات پر نظر دوڑائیں تو یہ دیکھیں گے کہ کچھ افراد ان حالات میں بھی اپنی جماعتوں کے ساتھ کھڑے رہیں اور مصائب کا بھی شکار ہوئے۔
مگر یہ وہ لوگ تھے جو اس سے قبل حکومت سے لطف اندوز بھی ہو رہے تھے اور جب واپس وقت نے پلٹا کھایا تو انہوں نے اپنی قربانیوں کے نام پر ایسا ماحول قائم کر دیا کہ اپنے مخالفین کے لئے خود بھی آمر ہی ثابت ہوئے۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے کبھی کہا تھا کہ انقلاب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب انقلاب آ جاتا ہے تو جو لوگ انقلاب لائے ہوتے ہیں وہ اس انقلاب کے مالک بن جاتے ہیں اور اپنی مخالفت کو انقلاب کی مخالفت قرار دیتے ہوئے اپنے مخالفین کو ختم کر دیتے ہیں ان لوگوں کا بھی رویہ اپنی جماعتوں میں ایسا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے اور عوام کے لئے حالات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں رہتا ہے۔ یہ بند باندھ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور گروپ بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ میں بڑے پیمانے پر نظر آتا ہے یہ لوگ کبھی بُرے وقت میں ساتھ ہی نہیں ہوتے ہیں مگر جب حکومت قائم ہو جاتی ہے یا ہونے لگتی ہے تو اس وقت یہ نمودار ہوتے ہیں اور نہ صرف نمودار ہوتے ہیں بلکہ حکومتی عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں اب ان کا تو کوئی عوامی نقطہ نگاہ سے لینا دینا ہی نہیں ہوتا ہے۔ یہ صرف اپنی باری لیتے ہیں اور جب تک موقع میسر رہتا ہے یہ کرتے دھرتے بنے رہتے ہیں اور اگر ان سے ان کی کرتا دھرتا حیثیت واپس لے لی جائے تو سب سے بڑے ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ حالاں کہ وہ اپنے دور میں بھی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے ہوتے ہیں۔
ایک تیسرا گروہ تو بدنام زمانہ ہے۔ یہ پارٹیاں بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں کبھی حمایت کے بعد اس حد تک مخالفت کرتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے اور اب ان کی بات سنو تو مزید دنگ رہ جاتا ہے۔ یہ تینوں گروہ سیاسی جماعتوں کو لگی دیمک کی مانند ہیں اور اس دیمک سے سیاسی جماعتوں کو زبردست نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ ان تینوں کی وجہ سے وہ لوگ جو مخلصانہ طور پر برے وقت میں سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور پھر سیاسی جد و جہد کے حوالے سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے کہ دوبارہ وہ ہی لوگ مسلط ہو گئے اور مخلص پیچھے ہٹ گئے۔ مرکزی قائد بھٹو ہو یا نواز شریف اپنی سوچ سے اس حد تک مخلص ہوتے ہیں کہ جیل، پھانسی، جلا وطنی آنکھوں کے سامنے بیٹی کی گرفتاری تک کو برداشت کر لیتے ہیں۔ اگر ان تینوں بیماریوں کا علاج کر لیا جائے تو قیادت کی قربانیاں جلد رنگ لے آئیں اور قیادت کو بھی بار بار قربان گاہ کی سمت دھکیلنا ممکن نہیں ہو گا۔

