کیا آپ ذہنی طور پر دولتمند ہیں؟
دولت ایک بہت بڑی نعمت ہے، یہ مالی ہو یا، تعلیمی، روحانی یا جسمانی، ہر لحاظ سے قابل قدر ہے۔ صحت کے بارے میں کہا جاتا ہے تندرستی ہزار نعمت ہے۔ اس وقت ہمارا ملک اور معاشرہ جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے، ایسی صورتحال میں ہمیں ہر طرف صرف معاشی مسائل کا ذکر ہوتا ملتا ہے۔ لیکن کسی کو بھی اس بات کی فکر نہیں کہ اس معاشی بحران نے ہمیں ذہنی دولت سے بھی محروم کر دیتا ہے۔
ہماری سوچیں اور رویے معاشی بحران کے دباؤ سے اس قدر متاثر ہیں کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ذہنی غربت کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں ذہنی صحت اور دولت کے بارے میں بات کرنا عجیب سا لگتا ہے جہاں ہر کوئی دن رات مال بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگا ہوا ہے۔
ہم بڑی آسانی سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ذہنی پسماندگی کے اس بحران سے نمٹنے کے لئے ہمیں ذہنی صحت اور نفسیات کے جدید اصولوں کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام آدمی کا اپنی سوچ اور افکار کو بدلنے سے اس کے حالات بدل جائیں گے۔ کیا سوچیں واقعی ہی ہماری زندگی کی منزل اور مقدر کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ؟
یہ سوال میرے ذہن میں بھی ہیں جن کی تلاش نے مجھے معروف جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے DW کی حال میں نشر ہونے والے ڈاکیومنٹری ”The Power of Thoughts“ تک پہنچایا۔
اس ڈاکیومنٹری میں انتہائی شاندار اور سائنسی طریقے سے بتایا گیا ہے کہ انسانی سوچ اور سوچنے کا نظریہ دراصل اس کے ردعمل کا تعین کرتا ہے۔ اس لئے انسانی سوچیں انسانی افکار اور کردار پر بہت گہرا اثر رکھتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب انسان معاشی طور پر خوشحال ہو تو اس کا اعتماد عام صورتحال سے بہتر ہوتا ہے لیکن نقطہ آغاز پھر وہیں سے ہوتا ہے کہ کیا انسان کی ذہنی پسماندگی کا حل صرف معاشی آسودگی میں پوشیدہ ہے یا انسان کی سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی زندگی میں کامیابی اور خوشحالی کا دار و مدار اس کے سوچ کے زاویے پر منحصر ہوتا ہے۔ معاشی غربت وقتی ہو تو انسان کے رویے کو متاثر کرتی ہے لیکن اگر یہ پسماندگی ذہنی ہو تو انسان کے کردار کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انسان کی سوچ میں اتنی طاقت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنی سوچ کے ذریعے ویسے حالات کو تخلیق کرنے کی قوت رکھتی ہے جس کو وہ سوچ سکتا ہے۔ بدقسمتی کہیں یا حالات کی ستم ظریفی کہ ہمارے ہاں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اس لئے ہم سوچنے اور تصور کی طاقت سے واقف نہیں ہیں۔ یہ کائنات ممکنات کی دنیا ہے، بلکہ یہ دنیا تصورات کا معجزہ ہے۔ انسان کے اندر تصور کرنے کی صلاحیت ہی سب سے بہترین تخلیقی صلاحیت ہے۔
ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ذہنی پسماندگی سے باہر نکلیں۔ ہمارے معاشرے کو نئی سوچوں اور خیالات کی اشد بلکہ سنگین ضرورت ہے۔ کہ ہم اپنے خیالات بدلیں تاکہ ہمارے حالات بدلے جاسکیں۔ جو معاشرے اپنے خیالات اور سوچوں کو بدلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں وہ اپنے حالات بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارے معاشرے کو تازہ ہوا، نئی سوچ اور افکار کو جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہماری ایک ٹرینر شیریں نقوی کہا کرتی ہیں کہ ”جو معاشرے اپنی کہانیاں نہیں بدلتے، وہ معاشرے نہیں بدلتے۔
“ ہمیں اپنے سوچنے اور دیکھنے کے اندازہ کو بدلنا ہو گا۔ معاشی ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لئے ذہنی پسماندگی کا سودا کوئی سودمند سود نہیں ہے۔ ویسے بھی معاشرے رویوں سے بدلتے ہیں روپیوں سے نہیں۔ ذہنی اور تعلیمی غربت جہالت سے کہیں سستی ہے۔ بس ہمیں انسانوں کی قدر کرنا، نئے خیالات، سوچوں اور آئیڈیاز کی قدر کرنا آ جائے۔ ایک تخلیقی اور ذہنی طور پر زرخیز دماغ کسی بھی دولت سے کم نہیں، کاش ہمیں ایسے دماغوں کی اہمیت کا وقت پر اندازہ ہو جائے تاکہ ہم اپنے معاشرے اور ملک کو ذہنی غربت سے بچا سکیں ورنہ دولت کے محل بنا کر ذہنی پسماندگی کو ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے۔


