آپ مسلم کیوں نہیں ہو جاتے؟
پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور اس میں رہنے والے ستانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں اب یہ نام کے مسلمان ہیں یا کام کے فی الحال یہ بحث بعد کی بات ہے۔ یہاں ہر دوسرے شخص کا آپ کا نام پوچھنے کے بعد اگلا سوال مذہب کے مطلق ہی ہوتا ہے بلکہ پاکستان کے ہر شعبہ ہائے تعلق رکھنے والا ضرورت اور بغیر ضرورت کے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ سننے میں عجیب لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیا ہر وقت اپنے عقیدے کی تجدید کرنے کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں، ضرورت تو ہے کیونکہ ہم سب اپنے ایمان کی وجہ سے عقیدے کا اقرار نہیں کرتے بلکہ جان کی امان کی خاطر ایسا کرنا پڑتا ہے اور جان کس کو پیاری نہیں ہوتی۔ معلوم نہیں ساتھ والا بھائی اچانک کیا سمجھ بیٹھے اور بات کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔
چند دن پہلے نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں پاکستان کی ایک مشہور ماڈل سنیتا مارشل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اینکر بھائی نے پہلے تو ذاتی نوعیت کے کچھ اوٹ پٹانگ سوال کیے اور پھر اچانک اینکر کے اندر سے ایک تبلیغی بندہ باہر آ گیا اور اس نے سنیتا مارشل جو کہ مذہبی طور پر ایک کرسچن لیڈی ہے اور اس نے حسن نامی ایک مسلم کے ساتھ شادی کی ہوئی ہے سے پوچھا کہ آپ ابھی تک کرسچن ہے؟ اور آپ کا اسلام قبول کرنے کا کیا پروگرام ہے؟ جب سنیتا جو کہ بظاہر کافی ان کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھی نے کافی تحمل سے جواب دیا کہ ابھی فی الحال تو کوئی ارادہ نہیں یعنی ابھی تک ایسا کچھ نہیں سوچا۔
”اور مزے کی بات ہے۔“ آپ مسلم کیوں نہیں ہو جاتے ”یہ سوال پاکستان میں بسنے والے ہر غیر مسلم کو کیا جاتا ہے چاہے وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا، وہ کسی جگہ جاب کر رہا ہو، کسی سکول یا کالج میں ہو یعنی جہاں کہیں بھی اس کا رابطہ کسی نہ کسی طور پر کسی مسلم سے ہو جائے۔ یعنی نیوزی لینڈ کی پر ایم منسٹر جسینڈا آرڈن نے جب وہاں رہنے والے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کیا تو ایک مولوی نے انہیں کہہ دیا کہ آپ بہت اچھی ہیں“ آپ مسلم کیوں نہیں جاتیں ”۔ دعوت دینے میں کیا حرج ہے لیکن دعوت کا اصول ہوتا ہے کہ اگر کوئی دوسرا دعوت دے تو پھر سیخ پا بھی ہونے کی ضرورت نہیں“
اینکر نادر علی نے دوبارہ اٹیک کرنے کی پوزیشن میں کہا! ”اوکے“ ”اللہ آپ کو جلد ہدایت دے“ ۔ یعنی مطلب کہ آپ ایک غلط راستے پر ہیں اور آپ کا مذہب درست نہیں۔ جیسے ہی انٹرویو آن ائر ہوا۔ لوگوں نے اینکر کے اس رویے پر سخت رد عمل دیا جس کے بس میں جو کچھ ہوا اس نے کہا، بات ہی نا مناسب تھی۔ لوگوں کے اس ردعمل سے ایک بات تو طے ہو گئی کہ پاکستان کے لوگ اب اس طرح کے مذہبی شارٹ کٹ سے کافی تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خود اور دوسرے امن اور چین سے پاکستان میں رہیں۔
پاکستان شاید ان چند ملکوں میں آتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے کی عاقبت سنوارنے کی جہد و جہد میں ہے کہ کیا آپ نے نماز پڑی؟ آپ نے روزہ رکھا؟ وغیرہ یعنی قیامت کے والے دن کے سوال آج ہی پوچھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہمیں ایک دوسرے صرف یہ پوچھنا ہے حالات کیسے ہیں، ایک دوسرے کی سماجی، معاشرتی اور ذاتی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔
بہرحال سنیتا مارشل سے پوچھے گئے سوالات پاکستان کا کون سا غیر مسلم ہے جس سے نہیں پوچھے گئے اور ہم پاکستان بسنے والی اقلیتوں کو دیکھ کر نا جانے کیوں اتنی حیرت سے دیکھتے ہیں بالخصوص ان کے نام سن کر یا پڑھ کر تو حیرت میں پڑ جاتے ہیں یہی وجہ کے پچھلی دو نسلوں نے اب اپنے نام دیسی نوعیت کے رکھ لیے ہیں تاکہ لکھنا والا کم از کم غلطی کرے اب اس میں اس کا علم کم ہوتا ہے یا نیت کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ یقین جانیے یہ صرف پاکستان میں ہوتا ہے آپ ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی، آذربائیجان، دوبئی حتیٰ کہ سعودی عرب میں چلے جائیں ایسا نظر نہیں آتا۔ وہاں مجال ہے کہ کوئی کسی کو کسی کے عقیدے یا مذہب کے حوالہ سے ایسا غیر ضروری سوال پوچھے اور کوئی حیرت زدہ ہو جائے۔
ایسے نمونے پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں جو پاکستان کے جھنڈے کے سفید رنگ کو سبز کرنے کی بھونڈی حرکتوں میں لگے ہوئے ہیں چاہیے وہ اندرون سندھ کے ہندو ہوں، چاہے پنجاب کے مسیحی یا پھر گلگت بلتستان کے کیلاشی ہوں ہماری یہ کوشش ہے کہ سب ہمارے جیسے ہوجائیں۔ کیا یہ ضروری کہ سب ایک جیسے ہو جائے اور اگر آپ چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو کچھ قربانیاں دینی پڑیں گے۔ دنیا میں خود کو ایک ایماندار قوم کی پہچان بنانی ہوگی۔
رشوت بند کرنی پڑے گی۔ ملاوٹ کسی حکومتی پابندی کے بغیر ختم کرنی پڑے گی، منافقت چھوڑنی پڑے گی۔ نفرت زدہ ذہنیت کو خدا حافظ کہنا پڑے گا۔ ایک دوسرے کو کافر کہنا بند کرنا پڑے گے۔ کم تولنے سے باز رہنا پڑے گا۔ اپنی دعاؤں میں صرف مسلمانوں کی بجائے انسانیت کی خیر مانگنی پڑے گی۔ دکھاوے کی نمازوں سے اجتناب کرنا پڑے گا، رمضان شریف میں منافع خوری کو ختم کرنا پڑے گا۔ پھر دیکھیں، لفظوں سے تبلیغ کرنے کے ضرورت ہی نہیں پڑے گی جیسے دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں ہوتا ہے کہ وہاں کوئی کسی کے دین یا عقیدے کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتا۔


