شہزادہ داؤد کی المناک موت
شہزادہ داؤد کی المناک موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ جس شخصیت سے کوئی ملا ہو اس سے بات کی ہو یا اس سے کسی قسم کا تعلق ہو تو اس کی موت کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ شہزادہ داؤد کی موت نے مجھے بہت دکھ دیا کیونکہ میں ان کی ہی فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا ہوں اور ان سے دو چار مرتبہ مل چکا ہوں گو کہ بات کرنے کا اتفاق تو صرف ایک مرتبہ ہی ہوا تھا۔ جن لوگوں سے ان کی زیادہ ملاقات رہتی تھی ان سے تو میں نے شہزادہ صاحب کی تعریف ہی سنی ہے۔ ان کی وفات نے مجھے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دیں۔
میں نے چند ایک جگہ نوکری کرنے کے بعد داؤد ہرکولیس میں نوکری کی۔ میں نے جتنی جگہ بھی نوکری کی میں نے اپنے ادارے سے اتنی بے لوث محبت کسی دوسری جگہ نہ پائی۔ یہاں کے ملازمین اس ادارے سے عشق کرتے تھے۔ اس کی ہم عصر دوسری فیکٹریوں کے مقابلے میں کم تنخواہ کم سہولیات کے باوجود ان کے عشق میں کبھی کمی نہ آئی۔ یہ بات میرے جیسے نووارد کے لیے حیران کن تھی۔
پہلے پہل اس فیکٹری کی مینجمنٹ امریکی فرم ہرکولیس کی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ جب ان کی مینجمنٹ تھی تو مراعات اور تنخواہ بھی بہت اچھی تھی۔ اس کے بعد اس کا انتظام داؤد گروپ نے سنبھال لیا۔ اب وہ پہلی سی موج ختم ہو گئی اور پاکستانی مزاج انتظامات میں شامل ہو گیا مگر پھر بھی حالات بہتر رہے۔ اب ایم ڈی رزاق داؤد صاحب تھے۔ فیکٹری میں آزاد خیالی تھی خواتین بھی اس میں ملازم تھیں۔ یہ تمام دور میری ملازمت سے پہلے کا تھا۔
ملکی حالات نے کروٹ لینی شروع کی تو فیکٹری کے حالات نے بھی کروٹ لی۔ ملک میں ضیاء صاحب کا اسلام آ گیا اور فیکٹری کی باگ ڈور حسین داؤد کے ہاتھ لگ گئی۔ فیکٹری میں بھی اسلام کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ پہلے پہل اچھی پروڈکشن پر بونس ملتے تھے لیکن ارباب اختیار نے سوچا لوگوں کو اسلام کی مار ماری جائے۔ اچھی پروڈکشن پر چند لوگوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے اور حج کے لیے بھیجا جانے لگا۔ لوگ بہت خوش تھے کہ سیٹھ صاحب بہت دیندار ہیں ہر سال کئی لوگوں کو عمرہ کرواتے ہیں۔ سیٹھ صاحب خوش کہ اتنے لوگوں کو بونس کی مد میں پیسہ دینا پڑتا تھا لیکن اب بات صرف عمرے تک رہ جاتی ہے یعنی سینکڑوں لوگوں کو بونس دینے کی بجائے دوچار کو ہی بونس دینا پڑتا تھا۔ اس کام میں اس وقت کی یونین خوب پیش پیش تھی جو سیٹھ کا کردار ایک ولی جیسا بنانے میں کامیاب تھی۔
یونین کے عہدیداروں نے اپنا کاروبار بنا لیا انہوں نے ایک حج عمرہ کروانے والی فرم بنا لی اور فیکٹری ملازمین ان کی فرم کے ذریعے حج عمرہ کرنے لگے۔ ایک صاحب باقاعدہ حج کی تربیت اور لیکچر دینے لگے۔ ملازمین کے لیے قرآن کلاسز کا اہتمام ہونے لگا۔ آئے روز آیت کریمہ کروایا جاتا تھا۔ خواتین کو فیکٹری میں ملازمت نہ دی جاتی تھی کیونکہ یہ بات اسلام کے مطابق نہ تھی۔
فیکٹری میں جب سپورٹس کا اہتمام ہوتا تھا تو سیٹھ صاحب مہمان خصوصی ہوتے تھے۔ جب وہ تشریف لاتے تھے تو ان کے ارد گرد ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالا جاتا تھا یونین کے ایک عہدیدار سیٹھ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر ایک آدھ ٹھمکا ان سے بھی لگوا لیتے تھے۔ سیٹھ صاحب ایک مزیدار سی تقریر فرماتے ایک آدھ بونس کا اعلان کرتے مجمع واہ واہ کے ڈونگرے برساتا، یونین والے بھرپور نعرے لگواتے ”ہم سب کی آنکھوں کا تارا سیٹھ ہمارا سیٹھ ہمارا“
جب ملک میں اسلامی نظام ذرا کمزور ہوا صدر پرویز مشرف کی روشن خیالی آئی تو وہ اسلام پسند سیٹھ صاحب اپنے روشن خیال بیٹے شہزادہ داؤد کو اپنی جگہ لے آئے۔ ہماری فیکٹری میں بھی لڑکیوں کی نوکری پر پابندی ختم ہو گئی۔ چند ایک لڑکیاں بھی ملازم رکھ لی گئیں۔ اب آہستہ آہستہ فیکٹری میں بھی روشن خیالی آنے لگی۔ مگر یہ رفتار بہت کم رکھی گئی تاکہ جو بوڑھے بابے ہیں وہ ریٹائر ہوتے جائیں اور نیا خون آ جائے۔
جب شہزادہ داؤد صاحب پہلی دفعہ فیکٹری تشریف لائے تو فیکٹری کے ارباب اختیار نے سوچا کہ ان کا استقبال بھی لاجواب ہی ہونا چاہیے۔ میٹنگ روم میں ہم سب ایک دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے۔ مگر دو کرسیاں بالکل شہزادہ صاحب کے سامنے رکھی گئیں۔ سب حیران تھے کہ یہ کرسیاں ترتیب سے ہٹ کر کیوں رکھی گئیں۔ جب شہزادہ صاحب آئے تو یہ عقدہ بھی کھل گیا۔ ان کے سامنے دو بہت سینئر انجینئر تشریف فرما ہوئے۔ انہوں نے شہزادہ داؤد کی ایسی ایسی صفات بیان کیں کہ ان کے چہرے پر بھی حیرت کے آثار تھے کہ میں تو اب تک اپنی ان صفات کو جان بھی نہ پایا تھا جو ان جوہر شناسوں کو نظر آ گئیں۔ اس دن اگر میراثیوں کو نوبل پرائز ملنے کی رسم ہوتی تو یہ دونوں کامیاب ہو جاتے۔
اسی طرح جب سپورٹس ڈے آیا تو شہزادہ صاحب مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے ڈھول کی تھاپ اور گھوڑوں کا رقص بند کروایا۔ اس کے بعد جب انہیں تقریر کا کہا گیا تو وہ سٹیج پر آئے اور اتنا کہا کہ میں کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہوں نہ مجھے تقریر کا شوق ہے۔ اگر آپ کو تقریریں سننے کا شوق ہے تو اسمبلی کی کارروائی دیکھ لیا کریں۔ نئے سیٹھ صاحب کو جو تھوڑا سا عرصہ ملا اس میں ایک کام جو شہزادہ داؤد نے کیا وہ تھا ملازمین کو لانے لے جانے والی گاڑیوں کو ائرکنڈیشنڈ کروا دیا۔ اس کے علاوہ کچھ کرپشن کے کیسز پکڑے۔
شہزادہ داؤد کے آتے ہی گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی فیکٹری کے حالات خراب ہو گئے۔ داؤد فیملی کا دھیان اب اینگرو یوریا فیکٹری کی خریداری کی طرف ہو گیا تھا۔ اب ایسی فیکٹری جس نے ان کو سیٹھ بنایا وہ ان کے لیے ایک بوڑھی ماں بن گئی تھی وہ جس سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اس لیے ان کے ملازمین بھی ان کے لیے کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ وہ فیکٹری فاطمہ گروپ کو بیچ گئے۔ وہی حالات جو داؤد فیملی کے لیے خراب تھے فاطمہ گروپ کے لیے بہتر ہو گئے تھے۔ داؤد ہرکولیس کے ملازمین کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ اتنا لمبا عرصہ چالیس پچاس سال اس فیکٹری میں لگانے کے بعد سیٹھ صاحب کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ اپنے ملازمین کو خداحافظ ہی کہہ دیتے اور ان کا شکریہ ادا کرتے جاتے۔
شہزادہ داؤد ایک جرمن لڑکی سے محبت کرتے تھے اور اس سے شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ ان کے والد اس شادی کے خلاف تھے۔ اس معاملے میں انہیں اپنے بہن بھائی اور ماں کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے اپنے باپ کی شدید مخالفت کے باوجود شادی کی تھی۔
اب خبر آئی ہے کہ شہزادہ داؤد ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کا جواں سال بیٹا بھی اس حادثے کا شکار ہو گیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کے تمام گھر والوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے سب سے بڑا نقصان تو ان کے ماں باپ اور ان کی جرمن بیوی کا ہے۔


