خوشامد ہمارے لہو میں رچ گئی ہے

کچھ احباب تعجب میں ہیں کہ کل تک جو صحافی عمران خان کی ناک کا بال تھے، اچانک ان پرعمران خان کی غلطیاں آشکار ہو رہی ہیں۔ درویش کی کیا پوچھتے ہیں۔ 1996 سے 2022 تک ایک دن کے لئے بھی عمران خان کی حمایت نہیں کی۔ تب تائید نہیں کی اور اب نئے بندوبست کے ترانے نہیں گائیں گے۔ البتہ یاد رہے کہ 75 برس سے ہماری صحافت، چند بھلے مانس نمونوں کو چھوڑ کر، اسی خوشامدانہ ڈگر پر چل رہی ہے۔ ذیل میں شوکت تھانوی (2 فروری 1904 – 4 مئی 1963) کا ایک کالم پیش کیا جا رہا ہے جو یکم جنوری 1959 کو "وغیرہ وغیرہ” کے مستقل عنوان تلے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔ پاکستان پر آمریت مسلط کرنے کے بدترین جرم کو بمشکل دو ماہ ہوئے تھے اور ہمارے صف اول کے ادیب قوم پر ٹوٹنے والی اس آفت پر ماتم کرنے کی بجائے قومی جرم کے جلوس میں شادیانے بجا رہے تھے۔ اس تحریر سے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ خوشامد ہمارے بزرگوں کی قیمتی میراث ہے۔ ہماری گزشتہ، موجودہ اور آئندہ نسلیں اس روایت سے انحراف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔
٭٭٭ ٭٭٭
خس کم جہاں پاک۔ کسی طرح ختم تو ہوا یہ 1958۔ ناک میں دم کر دیا تھا بخدا اس سال نے اور یہ تو ابھی اور نہ جانے کیا کیا کرتا وہ تو کہئے کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے ہی سے اس کو مفلوج کر کے ڈال دیا گیا تھا ورنہ اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ خود ختم ہونے کے بجائے ہم کو ختم کر کے رکھ دے گا اور پاکستان ہی کا مادہ تاریخ وفات لگوائے گا۔ 1958 پر ذرا غور تو کیجئے کہ کیا کچھ نہ دکھایا اس مرحوم نے یکم جنوری سے سات اکتوبر تک ہم سب کو یہ شروع کا دو تین سال تو ایسا گڑبڑ میں گزرا ہے کہ پورا پاکستان ”گڑبڑستان“ نظر آتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ کچھ نیلام کنندہ ہیں جو ملک کو نیلام پر چڑھائے ہوئے نیلامی بولیاں بول رہے ہیں۔ رات کو ایک وزارت کو برسراقتدار چھوڑ کر سوئے اور صبح اٹھ کر پتا چلا کہ رات گئی بات گئی۔
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے
اب ان کی جگہ دوسرے براجمان ہیں۔ ہر طرف سیاسی اکھاڑے کھدے ہوئے تھے اور ایک سے ایک پہلوان لنگوٹ کستا نظر آتا تھا۔ اس دنگل کے لیے جس کا نام عام انتخاب رکھ چھوڑا تھا مگر ان میں سے بہت سے پہلوان بغیر کشتی لڑے ہی پچھڑ جاتے تھے۔ کچھ بغیر کشتی لڑے جیت جانے کی فکر میں تھے اور بعض پہلوان ملی ہوئی کشتیاں لڑنے کی بات چیت کرتے پھرتے تھے، مگر سات اکتوبر کو ایک رستم پاکستان نے ایسا داؤ چلایا کہ یہ سب زور کرنے والے پہلوان اس سرے سے اس سرے تک چت ہو کر رہ گئے اور 28 اکتوبر کو یہ رستم پاکستان بھی اپنا ہی ایک داؤ خود ہی کھا کر چاروں شانے چت نظر آیا۔
1958 کا دو تہائی تو یوں گزرا ہے کہ پاکستان کی تاریخ اس کو کبھی نہ بھلا سکے گی۔ اس بقیہ ایک بٹہ تین 1958 میں ایسے ایسے معجزات ہوئے ہیں کہ عقل حیران ہے۔ مچھلیاں جیل میں پھنسیں اور سونا جال میں، سرمایہ دار زمین دوز ہو گئے اور سرمایہ نمودار ہو گیا۔ جن سڑکوں پر اکنی اور دونی تک پڑی ہوئی نہ ملتی تھی ان ہی سڑکوں پر ایک سے ایک نئے ماڈل کی کاریں پڑی ہوئی ملنے لگیں۔ جن دکانداروں کو کاروباری چکر میں نیند نہ آتی تھی، وہ دو گھوڑا اور تین گھوڑا بوسکی بیچ کر ایسا سوئے ہیں گویا واقعی گھوڑے بیچ کر سوئے ہیں۔ بازاروں میں ایسی ایسی نایاب اشیا کوڑیوں کے مول فروخت ہوئی ہیں کہ ”لیڈی ہملٹن“ مسماة وفاتن بن کر رہ گئی، جن کو اپنی اہل خانہ کے لیے ”لال دوپٹہ ململ کا“ نصیب نہ تھا۔ وہ شریک حیات کو نائلان کے دوپٹے اوڑھا اوڑھا لہرائے۔ بازار کے بھاؤ ایسے گرے کہ ارزانی کی گرم بازاری نے ہر شہر میں اندرون خانہ کو بیرون خانہ کر کے رکھ دیا۔ دودھ سے پانی ایسا غائب ہوا کہ دودھوں نہانے والے جو پوتوں پھسل رہے تھے سخت پریشان ہوئے کہ اتنا خالص دودھ کہاں سے لائیں گے کہ اولاد کے لشکر کو سیراب کر سکیں۔ گھی ایسا خالص ہوا کہ موبل آئل موٹروں کے لیے عام طور پر ملنے لگا اور خالص گھی کے لیے قطاریں لگنے لگیں، اس لیے کہ چونکہ وہ خالص ہو گیا تھا لہٰذا کمیاب بھی ہو گیا مختصر یہ کہ ہر چیز ارزاں اور اتنی خالص ہو گئی کہ ہر طرف خلوص ہی خلوص بکھرتا ہوا نظر آنے لگا اور لوگ حیران رہ گئے کہ۔
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
جو کھوٹا تھا کل تک کھرا ہو گیا
مگر ایک طبقہ وہ تھا جس پر اس سے زیادہ نحس زمانہ شاید ہی کبھی گزرا ہو۔ یہ تھے وہ تاجر جو دکان کو سائن بورڈ کی حیثیت سے اور تہہ خانوں کو اصل دکان کی حیثیت سے استعمال کرتے تھے۔ یہ تھے وہ بیوپاری جو ملک کی دولت کو پار لگانے میں مصروف تھے۔ یہ تھے وہ رشوت خور سرکاری ملازم جو تنخواہ کو جیب خرچ اور بالائی آمدنی کو اصل آمدنی سمجھتے تھے۔ یہ تھے وہ شورہ پشت جن کا واحد کاروبار یہی تھا کہ جو جس سے چاہا، ہتھیا لیا۔ یہ تھے وہ جرائم پیشہ جن کا ذریعہ معاش ہی جرائم تھے اور جن کو رشوت خور حکام کی طرف سے عام اجازت تھی کہ۔
لوٹ پر لوٹ مچاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
کس کی دولت ہے مری جان یہ زر کس کا ہے
اور وہ بھی راشی افسروں کے زیر سایہ خوشی کے ترانے گاتے تھے کہ۔
مورے سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا
اب چور چوکیداروں نے جن کے حوصلے بڑھا رکھے تھے، وہ اس دور سے کیوں کر خوش ہو سکتے ہیں۔
ان میں سے کسی نے سونا غرق دریا کیا تو کسی نے نوٹوں کی ٭٭٭ جلائی، کسی نے شیورلٹ پر ٹولٹ کی تختی لگائی تو کوئی یونہی نئے ماڈل کی کار چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا کہ کار جاتی ہے تو جائے، جان بچی لاکھوں پائے۔ کوئی بیٹھ گیا اپنی آمدنی کے گوشوارے بنانے اور کوئی بیٹھ گیا جو کچھ بنایا تھا اس کو ڈھانے۔ کسی نے منہ چھپایا اور کسی نے جیل کا کونا جا بسایا۔ مگر حکومت وقت نے یہ سراسیمگی دیکھ کر اعلان کر دیا کہ اب تک جو کچھ ہوا وہ ہوا خیریت اسی میں ہے کہ 31 دسمبر تک کھایا پیا سب ایمانداری سے اگل دو تاکہ تم سے کچھ باز پرس نہ کی جائے البتہ اس کے بعد بھی اگر تم مجرم ثابت ہوئے تو دونوں کانوں کے بیچ میں سر کر دیا جائے گا۔ اور پھر تم کسی رعایت کے مستحق نہ ہو گے۔ چنانچہ دسمبر کا پورا مہینہ اسی میں ان دھنوانوں نے گزارا ہے کہ جب دیکھئے بیٹھے روپیہ آنہ پائی کر رہے ہیں اور ننانوے کے پھیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پیسے جاتے ہیں لہٰذا بے چارے چھوٹے چھوٹے ملازمت پیشہ بھی اسی چکر میں رہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان کی آمدنی انکم ٹیکس کی حدود میں چپکے سے آ گئی ہو اور ان کو خبر نہ ہوئی ہو اور کہیں تنخواہ کے علاوہ کوئی اور آمدنی تو نہیں ہو گئی تھی جس کا بعد میں پتا چلے اور دھر لیے جائیں۔ مگر سیاسی بحرانوں کے بعد یہ بحران بھی 31 دسمبر کی رات کو بارہ بجے ختم ہو گیا اور اب سب کے سب سبکدوش بنے بیٹھے ہیں۔
نئی حکومت کا پروگرام غالباً یہ تھا کہ نئے سال کے ساتھ نیا معاشرہ پیدا کیا جائے جس میں سب کے سب یہ محسوس کریں کہ گویا ازسرنو ایک پاکبازانہ، دیانت دارانہ اور ہر جرم سے پاک زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور پھر سب کے سب ایسی بے داغ زندگی بسر کریں کہ کسی قسم کی بددیانتی کا کوئی شائبہ نہ ہو، صاف سچی اور کھری زندگی ہو سب کی، جو انسان سے شیطان بن چکے تھے وہ پھر انسانیت کے جامے میں آ جائیں اور پاکستان ایک مثالی ملک بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ پہ پروگرام بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے، کافی چھپی ہوئی دولت سامنے آ گئی ہے۔ اس رعایت سے جس جس کو بھی فائدہ اٹھانا تھا وہ اٹھا چکا ہے۔ اب تو صرف وہی لوگ رہ گئے ہوں گے جن کو خود آزادی کا شوق ہے جو خطروں سے کھیلنے میں لطف لیتے ہیں، ان کی حیثیت ان عالی مرتبت نشہ بازوں کی ہے جو سانپ سے اپنے کو ڈسوا کر سرور حاصل کرتے ہیں، اب وہ ہیں اور ان کی شامت ان کے ساتھ ان کی دولت وہی سلوک کرے گی جو قارون کے ساتھ اس کی دولت نے کیا تھا۔
ہم ہر چند کہ اس سال کو اپنا سال نہیں سمجھتے اور یہ نو روز ہمارا نوروز نہیں ہے مگر چونکہ رائج الوقت سنہ یہی ہے لہٰذا اس کے نوروز کی مبارکباد دینا زیادہ بے محل بھی نہیں ہے اگر اس کو نوروز کی مبارکباد سمجھ کر آپ قبول کرنا نہ چاہیں تو بھی یہ اس غسل صحت کی مبارکباد تو ضرور ہے جو کل رات کو بارہ بجے ہم سب نے کیا ہے اور اب ہم ایک صحت مند قوم کی طرح زندگی کے حقوق حاصل کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ یہ بات بجائے خود مبارکباد کی مستحق ہے۔

