معاشی بحالی کا قومی منصوبہ


حکومت اور فوج کی طرف سے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے تناظر میں ایک اقتصادی بحالی کے منصوبے کا اعلان ہوا۔ اور Special Investment Facilitation Council بنائی گئی ہے تاکہ ملکی معیشت کو درست ہو اور ملک میں کاروبار اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا مقصد دفاع، زراعت، معدنیات، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور چین سے یہ بات طے کی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ منصوبے کے مطابق زراعت، لائیو سٹاک، معدنیات، کان کنی، آئی ٹی، توانائی اور زرعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی اصل استعداد سے استفادہ کیا جائے گا۔ ان شعبوں کے ذریعے مقامی پیداواری صلاحیت اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری بڑھائے جانے کا منصوبہ ہے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔ منصوبے پر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کونسل کا پہلا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں آرمی چیف، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

کونسل کی تین مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔
1۔ ایپکس کمیٹی جس کی سربراہی شہباز شریف خود کریں گی جبکہ آرمی چیف اس کا حصہ ہوں گے۔

2۔ ایگزیکٹیو کمیٹی میں دفاع، آئی ٹی، توانائی کے وفاقی وزراء کے علاوہ وزرائے مملکت برائے پیٹرولیم، صوبائی وزرا برائے زراعت، معدنیات، آئی ٹی، توانائی، امور خزانہ، منصوبہ بندی اور تمام چیف سیکریٹری بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

3۔ عملدرآمد کمیٹی میں فوج کے ایک ڈائریکٹر جنرل، وزیر اعظم کے ایک معاون خصوصی اور کونسل کے سیکرٹری ( 21 ویں گریڈ کے افسر) شامل ہیں۔

وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک کا دعویٰ ہے کہ اس کونسل کی تشکیل سے پہلے ہی چند ممالک پاکستان میں 20 سے 25 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکے ہیں۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے لیے ون ونڈو آپریشن کی طرز پر ایک منصوبہ ہے۔ جو بھی سرمایہ کاری کرنے آ رہا ہے اسے کوئی قانونی مسئلہ، قواعد و ضوابط میں دقت ہوں یا سست رفتار انتظامی معاملات تو انھیں دور کیا جائے۔

بھارت نے من موہن سنگھ کے دور حکومت میں سرمایہ کاروں کے لئے سنگل ونڈو سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرمایہ کاروں اور سرکار کے درمیان سرکاری بابوؤں کی رکاوٹیں ہٹائی گئیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ فیکٹری جس کے رجسٹرڈ ہونے میں تین سے چار ماہ لگتے تھے وہ صرف ایک دن میں رجسٹر ہونے لگی۔ سرمایہ کاروں کی شکایات پر چوبیس گھنٹوں کے اندر ایکشن لیا جاتا تھا۔ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور 1992 ء میں دیوالیہ ہونے کے قریب بھارتی معیشت آج ساڑھے پانچ سو ارب ڈالرز سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر رکھتی ہے اور دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ بھارت آج آئی ایم ایف کو قرض دیتا ہے۔

آرمی چیف نے تین ماہ قبل بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات میں بھی اس منصوبے کا ذکر کیا تھا۔ روس اور ایران سے نئے تجارتی معاہدے، چینی کرنسی میں تیل کی ادائیگی، سولہ پاکستانی کمپنیوں کو روس کو چاول برآمد کرنے کی اجازت اور پاکستانی گوشت کی روسی مارکیٹوں تک رسائی اس بڑے معاشی منصوبے کی طرف پہلے ہی اشارہ کر رہے تھے لیکن ہمارا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ یہاں اعلانات ہو جاتے ہیں ’منصوبے شروع ہو جاتے ہیں لیکن پھر حکومت تبدیل ہوتی ہے تو پرانے منصوبے ختم کر دیے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ پروجیکٹ مضبوط اور مستحکم ہوتا چلا جائے گا آرمی کا رول بتدریج کم ہوتا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت چار سے پانچ سال میں پندرہ بیس لاکھ افراد کو براہ راست جبکہ 75 لاکھ سے ایک کروڑ افراد کو Indirect job کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اگلے چار سے پانچ سال میں اس منصوبے سے 70 بلین ڈالر کی برآمدات، 70 بلین ڈالر کیImport Substitutionہوگی۔ منصوبے سے پاکستان کی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں 100 بلین ڈالر کا اضافہ بھی ہو گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ پروجیکٹ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو 2035 تک ایک تخمینے کے مطابق پاکستان ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔

ملک کی معاشی سمت درست کرنے کے لئے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ کاروبار دوست ماحول بنانا بھی ضروری ہے۔ اس وقت شرح سود 21 فیصد سے زائد ہے۔ اس شرح کے ساتھ بینکوں سے قرض لے کر کاروبار کرنے سے مطلوبہ منافع کمانے کے امکانات کم ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور انٹر بینک ڈالر ریٹ میں کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔ شرح سود میں کمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ، جب تک مقامی سرمایہ کاروں کو سہولت نہیں دی جائے گی معیشت کا پہیہ چلنا مشکل ہے۔ اور یہ کام شرح سود کم ہونے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ سیاسی عدم استحکام سے ہے۔ حکومت بنتی ہے تو اس کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی مارچ، کبھی لانگ مارچ، کبھی احتجاج، کبھی گھیراؤ کبھی جلاؤ۔ کبھی رستے بند، کبھی سڑکیں بند۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا منتخب وزیر اعظم نے پانچ سال گزارنے ہیں یا پانچ ماہ میں سابق بن جائے گا۔ جب سرمایہ کار کو معلوم ہی نہیں حکومت کتنے دنوں کی مہمان ہے اور اس کی پالیسی کب اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دی جائے گی تو اس غیر یقینی میں کون یہاں سرمایہ کاری کرے گا۔

قرض لے لے کر ہم نے پہاڑ کھڑا کر دیا ہے۔ لیکن ملک میں ڈھنگ کی کوئی ایک انڈسٹری ایسی نہیں کہ ہم بھی دنیا کو کچھ فروخت کر سکیں۔ جب تک ہمارا اپنا پیداواری ان پٹ نہیں آتا، قرض کی بنیاد پر فاقہ مستی رنگ نہیں لا سکتی۔ افسر شاہی سرمایہ کار کو ایسے ایسے ذلیل کرتی ہے کہ وہ سرمایہ لے کر ملک ہی چھوڑ دیتا ہے۔ افسر شاہی کا کام سرمایہ کار کو سہولت دینا نہیں اسے الجھا کر اس کے لیے مسائل پیدا کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے ہر ایک پر واضح کر دیا جائے کہ سیاست، جلسے، جلوس، احتجاج، آزادی رائے اور ہر طرح کے ایڈوینچر ازم کی حدود وہاں تک ہیں جہاں سے معیشت کا دائرہ کار شروع ہوتا ہے۔ معیشت کی حدود شروع ہوتے ہی کوئی چونچلا، کوئی ایکٹوازم اور کوئی ایڈوینچر ازم برداشت نہیں کیا جائے گا۔

چین، سنگاپور، دوبئی جیسے ممالک کی مثالیں تو دی جاتی ہیں مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ انہوں نے ملک میں عدم استحکام کی کسی کو اجازت نہیں دی اور تاجروں، ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کر کے معیشت کی کایا پلٹ دی۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے قابل اعتماد تاجروں، صنعتکاروں، رئیل سٹیٹ ڈویلپر سمیت تمام اہم شعبہ جات کے اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز لیں، انھیں فیصلوں میں شریک کریں۔ وزیر اعظم مہینے میں ایک دن صرف کاروباری افراد کے لئے مختص کریں۔

پوری متعلقہ بیورو کریسی اور وزرا کو میٹنگ میں حاضر رکھیں۔ جہاں ناشتے سے رات کے کھانے تک صرف ان کے مسائل سن کر موقع پر حل کیے جائیں۔ ہمیں بحیثیت قوم آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کی طرف دیکھنے کے بجائے حقیقی اور پائیدار معیشت کے لئے کیے جانے والے اقدامات کو سراہنے اور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک قوم بن کر اس بحران سے نکل سکتے ہیں۔

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
خدا نخواستہ ہم نے یہ موقع بھی ضائع کرد یا تو حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟ یہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔

Facebook Comments HS