پاکستانی عورت کے گھریلو مسائل کا حل: پیسہ کمانا
پیسہ کمانا ایک وسیع موضوع ہے اور اس پہ جتنی گفتگو کی جائے کم ہے۔ ایک ایسے معاشرے جس میں عورت کی کمائی کو حرام یا معیوب سمجھا جاتا ہو، وہاں بچپن سے تمام لڑکیوں کو صرف ہاؤس وائف بننے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کو معاشی طور پہ خود مختار ہونے کے لیے کئی پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔
پیسہ کمانا کیوں ضروری ہے؟ یہ ایک ملین ڈالر سوال ہے، جس کا مفت جواب سب کو معلوم ہے۔ ہمارے ملک کم وبیش ساڑھے گیارہ کروڑ خواتین ہیں، جو کہ کل آبادی کا 49 فیصد ہیں۔ یہ اپنی تمام ضروریات کے لیے بقیہ 50 فیصد پہ انحصار کرتی ہیں۔ اس معاشی ابتری کے دور میں اب گزارہ مشکل ہے تو اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ عورت کو کیوں کمانا چاہیے۔
ہمارے ہاں کام کرنے والی خواتین کی کچھ اقسام ہیں، پہلی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور شوہر کے مساوی کما رہی ہیں، ان میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، ٹیچرز یا دیگر اعلیٰ مراعات والی نوکریوں کی حامل خواتین ہیں۔ دوم، وہ جو کسی قسم کا بزنس جما چکی ہیں، سرفہرست کوئی بیوٹی پارلر، بوتیک یا کوئی اسی طرح کا کوئی کاروبار چلا رہی ہیں۔ یہ دونوں خواتین کی کل آبادی کا شاید آٹھ نو فیصد بھی نہ ہوں، بقیہ نوے میں سے دس سے بارہ فیصد اگر نوکری یا کاروبار سے کچھ کما بھی رہی ہیں تو ان کی کمائی شوہر سے مساوی یا زیادہ ہونے کا امکان انتہائی کم ہے۔
پچھلے ایک سال میں مہنگائی 38 فیصد تک بڑھ گئی ہے اور آمدن بھی کئی جگہوں پہ کم ہو گئی ہے۔ سب سے پہلے تو ایک گھریلو خاتون خانہ کو ایک تجزیہ کرنا ہو گا کہ اس کو کتنے پیسوں کی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پہ گھر کا خرچ پچاس ہزار ہے اور آمدن چالیس تو فرق دس ہزار کا ہے۔ اس کو پندرہ سے بیس ہزار ماہانہ کا ہدف حاصل کرنا ہو گا۔ اس کے لیے تمام موجودہ ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بیک وقت دو سے تین کام کرنے ہوں تب جا کر یہ ہدف پورا ہو۔
گھر سے باہر جا کر کام کرنا اکثریت اور اگر میں یہ کہوں کہ قریب قریب سبھی کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے ورک فرام ہوم ہی سب سے بہتر آپشن رہ جاتا ہے۔
گھر بیٹھے کیا کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی ہر ایک کی صلاحیت، ہنر اور تعلیم کے حساب سے مختلف ہے۔ اس لیے سبھی کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ میں کچھ طریقے بتاتی ہوں جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ دنیا بہت بڑی ہے اور جتنے لوگ ہیں، اسی حساب سے کمائی کے طریقے بھی ہزاروں لاکھوں ہیں۔
سب سے پہلے تعلیم یافتہ خواتین کے لیے ٹیوشن پڑھانا، اسائمنٹ بنانا، بلاگنگ کرنا، پریکٹیکل بکس تیار کرنا یہ سب کچھ باآسانی گھر بیٹھے کیا جا سکتا ہے۔ یقین مانیے اس میں بعض خواتین اچھی خاصی آمدن کا انتظام کر لیتی ہیں۔
اس کے بعد ایسی خواتین جن کی تعلیم کم ہے، ان کے لیے سلائی کڑھائی کرنا، گھر میں کپڑے ڈیزائن کرنا، کسی برانڈ کے ڈیزائن کو خود تیار کر کے سیل کرنا، آن لائن اپنا جیولری، کاسمیٹکس یا کپڑوں کا برانڈ بنا کر اس کو فروخت کرنا ایک اچھا خاصا منافع بخش کام ہے۔ ایک درزن ایک جوڑے کا چھ سات سو لیتی ہے، اگر وہ اپنا کپڑا، لیس وغیرہ استعمال کرے تو شاید اس کو اسی جوڑے میں دگنی بچت ہو جائے۔
اس کے بعد ہے کھانا بنانا۔ کئی خواتین کھانے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ فوڈ پانڈا یا پھر کسی بھی جگہ کھانا بنا کر پہنچانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ آپ کھانا بنائیے اور اپنے گاہکوں تک پہنچائیے۔ ہاسٹلز، دفاتر، بنک، کالج اور یونیورسٹیز جیسے بے شمار جگہیں ہیں جہاں لوگوں کو صاف ستھرا گھر کا کھانا چاہیے۔ آپ کھانے کا ایک مینو بنا کر ان جگہوں پہ کھانا فراہم کر سکتی ہیں۔ جتنی ہماری آبادی ہے اور جتنی ہم خوش خوراک قوم ہیں، یہاں پتا نہیں کیا الابلا بک جاتا ہے تو صاف ستھرا گھر کا کھانا نہیں بک سکتا؟ بکے گا اور ضرور بکے گا بس آپ کو ٹھیک جگہ پہ اس کی تشہیر کرنا ہو گی اور موزوں ترین گاہکوں والی جگہ منتخب کرنا ہو گی۔
فروزن فوڈ آئٹم بنا کر بیچنا بھی ایک آسان اور منافع بخش کام ہے۔ سموسے رول اور کباب بنا کر ان کو پیک کر کے کسی دکان پہ بھی رکھوایا جا سکتا ہے اور آن لائن بھی لوگوں کو بھجوایا جا سکتا ہے۔
کیک بنانا۔ یہ تو بڑا ہی مزے کا کام ہے اور آج کل کی نوجوان لڑکیوں کا سب سے پسندیدہ بھی۔ موجودہ دور میں اس کی ڈیمانڈ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، پہلے سالگرہ کے کیک ہوتے تھے، اب تو روٹھنے منانے، خوشخبری، بزنس پروموشن تو چھوڑیں میلاد پہ بھی کیک کی ضرورت پڑتی ہے۔ یقین مانیے جتنا آپ منفرد اور خوبصورت کیک بنائیں گے منافع کی شرح اتنی ہی بڑھ جائے گی۔ ہم اکثر کسی برانڈ کا کیک ہزار بارہ سو فی پاؤنڈ کے حساب سے خریدتے ہیں، آپ بھی اس کے آس پاس بڑی آسانی سے فروخت کر سکتی ہیں۔
اچار اور چٹنیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں۔ شربت اور اسکوائش بھی باآسانی بنائے جا سکتے ہیں۔
الغرض یہ تو میں نے بمشکل دو چار طریقے بتائے ہیں، جہاں جس چیز کی ڈیمانڈ ہو، اس ڈیمانڈ کو پہچان کر پورا کرنا ہی بزنس ہے۔ جب بھی کام کریں کسی ایک ذریعے آمدن پہ اکتفا نہ کیجیے اور دو چار کام اکٹھے کیجیے تاکہ اگر ایک میں مندا ہو تو دوسرے سے آمدن چلتی رہے۔ آپ میں ایک کامیاب کماؤ پوت عورت میں بس ارادے کا فرق ہے۔ دنیا کی باتوں کی پروا نہ کیجیے، بس ان کی باتوں کی پروا کیجیے جو آپ کو یہ آفر کر دیں کہ تم کام چھوڑ دو اور اتنے پیسے ہر ماہ ہم دیا کریں گے۔ ایسی صورت میں سکون کیجیے، چھوڑیے کمانے کے جھنجھٹ اور عیش کریں۔ اپنے اس عمل میں دھیرے دھیرے اپنے بچوں کو بھی شامل کریں، آہستہ آہستہ ان کے جیب خرچ کو اجرت سے بدل دیجیے۔ ہم پچیس سال تک ان کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھتے ہیں اور چھبیس کا ہوتے ہی کہتے ہیں، جا جا کر افسر لگ جا اور لاکھوں کما۔ ایسے میں وہ بھی شارٹ کٹ ڈھونڈتا ہے اور کسی کشتی کے تہہ خانے میں دم ہار جاتا ہے۔
اوپر بتایا گیا کوئی بھی کام ناممکن نہیں۔ نہ ہی مشکل ہے، بس آپ کو کلائنٹس کی ضرورت ہے، ان کو پہلے اپنے دائرہ احباب میں تلاش کیجیے اور دھیرے دھیرے بڑھاتے جائیں۔ سب سے پہلے گاہک تو یار دوست اور پڑوسی ہی ہو سکتے ہیں، ان سے بسم اللہ کیجیے اور اللہ پہ توکل، انشا اللہ برکت ہو گی۔
کمانے کے بعد اگلے حصہ ہے، گھریلو توازن برقرار رکھنا، اس کا ذکر اگلی بار۔ یاد رکھیے، آپ کی مشکلات صرف آپ کا مسئلہ ہیں، 20 فیصد لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس مشکل سے گزر رہی ہیں اور 80 فیصد خوش ہیں کہ آپ مشکل میں ہیں۔ اس لیے اپنا مسائل کا حل آپ کی ہی ذمہ داری ہے۔

