نواز ریاست کی ضرورت
پاکستان میں اصل رجیم چینج کی سازش 2017 میں ہوئی تھی۔ جب پاکستان کے متعلق انٹرنیشنل مالیاتی ادارے مسلسل رپورٹس جاری کر رہے تھے کہ پاکستان 2025 تک دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو گا۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں چین کی جانب سے 42 ارب ڈالر کاسی پیک پروجیکٹ لانچ کیا تھا۔ پاکستان کی ڈی جی پی گروتھ 6 فیصد پر جا رہی تھی۔ سٹاک مارکیٹ 52 پر ٹریڈ کر رہی تھی اور ڈالر 95 روپے کا تھا۔ اسی دوران پاکستان میں بانی تحریک انصاف ڈی چوک میں 120 دن تک جاری رکھنے والا دھرنا تازہ تازہ ختم ہو گیا۔
پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا۔ پاکستان میں لوڈشیڈنگ تقریباً ختم ہو گئی تھی اور آل پارٹیز کانفرنس کے بعد دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب بھی جاری تھا۔ ان حالات میں بھی نواز شریف نے ملک چلایا، سنبھالا اور اس کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پھر سب نے دیکھا نواز شریف کے خلاف کیس پاناما لیکس تھا جس میں بیرون ملک پراپرٹی بنانا تھا لیکن پھر اس اربوں کی پراپرٹی میں صرف ایک اقامہ نکالا اور بیٹے سے دس ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر نواز شریف کو نا اہل کر دیا۔
نواز شریف کے خلاف ہونے والی سازش کا پردہ فاش عمران دور میں ہی ہونا شروع ہو گیا تھا جب اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ خود اعتراف کر رہا تھا کہ اس نے نواز شریف کو بلیک میل ہو کر دباؤ کے تحت سزا دی۔ پھر جسٹس شوکت صدیقی کا بیان، گلگت بلتستان کے جسٹس رانا شمیم کا بیان حلفی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کال نے نواز شریف کو ملنے والی سزا پر مزید سوالات اٹھا دیے۔
یہاں ایک اور بات سب سے قابل ذکر ہے کہ نواز شریف کو پاکستان کے آئین یا قانون کے تحت نہیں برطانیہ کی بلیک لاء ڈکشنری کے تحت سزا دی گئی۔ پاناما بینچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ نے نواز شریف کو سسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے القابات دیے جو کہ پاکستان کے تین مرتبہ کے منتخب جمہوری وزیراعظم کے لئے تذلیل کا باعث تھے۔ نواز شریف پاکستان کے واحد وزیراعظم ہیں جو دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ جسٹس کھوسہ نے نواز شریف کو نہیں پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے منتخب نمائندے کو یہ القابات دیے۔
بعد میں مریم نواز کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ جسٹس کھوسہ نے نواز شریف سے تین سال کی توسیع مانگی تھی جو نواز شریف نے دینے سے انکار کر دیا پھر جسٹس کھوسہ نے نواز شریف کے ساتھ مریم نواز کو بھی نا اہل کر دیا۔ جس کیس میں مریم نواز کو نا اہل کیا گیا وہ میں تین سال بعد وہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے باعزت بری ہو گئی کیونکہ نیب مریم نواز کو ایون فیلڈ میں بینیفشری ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اسی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال اٹھایا کہ نیب مریم نواز پر یہ کیس ثابت نہیں کر سکا تو کل کو نواز شریف پر کیسے ثابت کرے گا۔
آپ کو یاد ہو گا پاناما کیس کی سماعت کے دوران جی آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اور ان کی ٹیم سپریم کورٹ میں بڑے بڑے ڈبے لے کر پہنچے تھے جیسے ان میں بڑے اہم ثبوت ہیں۔ بعد میں سب نے دیکھا ان ڈبوں سے ذاتی تجربے، مفروضے اور ازخود تیار کیے کاغذات نکلے۔ واجد ضیاء نے آج تک بکری چوری کے مقدمے کی تفتیش نہیں کی تھی لیکن اس کو وزیراعظم پاکستان کی تفتیش کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ خیر جو بھی ہوا 2017 کے رجیم چینج کا نتیجہ عمران خان کی صورت میں نکلا۔
پھر اسی عمران خان کو لانے، چلانے اور نکالنے کی چکر میں جنرل باجوہ، جنرل فیض سمیت کئی لوگوں ہدف تنقید رہے۔ عمران دور کے 45 ماہ میں 45 ہزار ارب کے قرضے لیے گئے بدلے میں نئے پاکستان کی ایک اینٹ نہیں لگ سکی۔ پاکستان کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے جبکہ مہنگائی تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ آج پاکستان کو ایک بار پھر نواز شریف کی ضرورت پڑ گئی ہے کیونکہ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا نواز شریف نے ہی ملک کو سنبھالا ہے۔ آج نواز شریف ریاست کی ضرورت بن چکا ہے۔


