ہماری یونیورسٹیاں اور تنوع
گزشتہ دنوں ہمارے دارالحکومت کی ایک بڑی یونیورسٹی میں طلبہ نے ہولی کا تہوار منایا۔ اس تہوار کی تصویری خبر جب اخبارات میں آئی تو ہمارے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی چیئر پرسن صاحبہ نے جھٹ سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کی رو سے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہولی منانے پر پابندی لگا دی گئی۔ کاش ہمارا یہ ادارہ ہماری یونیورسٹیوں میں گرتے تعلیمی معیار کو سدھارنے کے لیے بھی کوئی نوٹیفیکیشن جاری کرے، جو کہ اس ادارے کا اصل کام ہے۔ دنیا کی پہلی ایک ہزار یونیورسٹیوں میں ہماری کتنی یونیورسٹیاں ہیں اس بات کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے محترمہ چیئرپرسن صاحبہ سے دست بستہ گزارش کریں گے کہ ذرا آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 20 کو بھی پڑھ لیں جہاں اس مملکت کے شہریوں کو مذہبی آزادی اور مذہبی تقریبات منانے کی اجازت دی گئی ہے۔
انگریزی کا ایک لفظ ہے Diversity جس کا اردو ترجمہ تنوع بنتا ہے۔ اگر ذرا تفصیل سے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ایک ایسا معاشرہ یا لوگوں کا ایک ایسا گروہ جہاں مختلف نسلی، مذہبی، سماجی اقتصادی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ ان کے زندگی گزارنے کے طریقے، ان کے تجربات اور دلچسپیاں ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن وہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔
وہ ایک انسان کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کے معاملے میں صرف اپنی مرضی کا پابند ہے اور اس پر کوئی دوسرا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ اور جب تنوع کی اس تعریف پر ایک معاشرہ پورا اترتا ہے تو جان لیجیے کہ ایسا معاشرہ دوسروں کے لیے بھی باعث رحمت بنتا ہے اور اس کے اپنے مکینوں کے لیے بھی زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں جو مشترکہ اقدار آپ کو نظر آئیں گی ان میں ”تنوع“ آپ کو سب سے اوپر نظر آئے گی۔ ایسے معاشرے ”جیو اور جینے دو“ کے سنہرے اصول پر کاربند ہوتے ہیں۔ وہ تنوع کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اگر ہم دنیا میں موجود اچھی یونیورسٹیز کی بات کریں تو ان میں یہ مقابلہ جاری رہتا ہے کہ کس کے ہاں تنوع زیادہ ہے۔ یہ یونیورسٹیاں بین الاقوامی طلبا کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اس تنوع کو بطور مارکیٹنگ ٹول کے استعمال کرتی ہیں۔
یہ یونیورسٹیاں اپنے طلبا کو ایسا ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں انہیں اپنے عقیدے کے مطابق کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں عید کی تعطیلات کا ہونا یا دیگر طلبہ کا مسلم طلبہ کے ساتھ عید کی تقریبات میں حصہ لینا، ایک معمول کا کام ہے۔ تنوع کا یہی اصول دنیا میں کام کرنے والے ادارے بھی اپنے آپ پر لاگو کرتے ہیں وہ تنوع کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ ایک ادارے کی ترقی میں اس کو ایک لازمی جزو خیال کرتے ہیں۔
جب ایک معاشرے میں تنوع کو قبولیت عام مل جاتی ہے تو پھر وہ معاشرہ بتدریج اپنے تعصبات سے جان چھڑا لیتا ہے۔ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کو اپنے تعصبات سے جان چھڑانے میں ایک زمانہ لگا اور آج وہ معاشرے تنوع کے دلکش رنگوں میں پوری طرح ڈوبے ہوئے ہیں۔ مانچسٹر میں اہل تشیع کے جلوس ہو یا عید میلاد النبی کے، ان کو سڑکوں پر اسی طرح منایا جاتا ہے جیسے اسلام آباد کی سڑکوں پر منایا جاتا ہے اور وہاں کی پولیس کے دستے ان جلوسوں کی حفاظت بڑی مستعدی سے کرتے نظر آتے ہیں اور اس بات کا یہ خاکسار عینی شاہد ہے۔ تنوع ہی کی بدولت آج انگلینڈ کا وزیراعظم ایک ہندوستانی نژاد ہندو ہے اور سکاٹ لینڈ کا فرسٹ منسٹر ایک پاکستانی نژاد مسلمان ہے۔ امریکا میں اس تنوع کی برکات کی بدولت اوبامہ صدر کے عہدے پر دو دفعہ براجمان ہوا۔
اب ہم اپنے پڑوس میں چلتے ہیں جہاں کے معاشرے کو صحیح معنوں میں ایک تنوع سے بھرپور معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔ گوا کے ساحلوں سے لے کر ہماچل کے پہاڑوں تک پھیلا ایک بڑا جغرافیہ، بے شمار زبانیں، مختلف ثقافتیں اور مختلف مذاہب مل کر ہندوستان کو آج دنیا کے افق پر ایک قابل عزت مقام دلانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ہمارے صوبہ سندھ میں ایک بڑی تعداد میں ہمارے ہندو بہن بھائی رہتے ہیں جس طرح یہ ہمارا وطن ہے بعینہ اسی طرح اور اتنا ہی یہ ان کا بھی وطن ہے۔
ایسے اقدامات سے ہم اپنی اس برادری کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہماری درسگاہیں انہیں ”اون“ نہیں کرتیں، کیا ہم انہیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس سرزمین پر ان کا درجہ مسلمانوں سے کم ہے اور وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اور پھر یہی پیغام ہماری دوسری مذہبی اقلیتوں کو بھی جاتا ہے۔ یقیناً ایسے اقدامات نہ صرف آئین پاکستان کی روح کے منافی ہیں بلکہ ہمارے قائد کی گیارہ اگست کی تقریر کی بھی نفی کرتے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم نے ایک درست بات کی طرف اشارہ کیا کہ ”ہولی سندھ دھرتی کا ثقافتی تہوار ہے۔ ہم بچپن سے اپنے گاؤں، گوٹھوں میں مناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سندھ کی ثقافت اور رواداری کی توہین ہے۔“
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک معاشرے کی خوبصورتی مل جل کر رہنے میں ہوتی ہے۔ رنگارنگی اور تنوع میں ہوتی ہے۔ یورپ سے لے کر وسط ایشیا تک اور براعظم آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک سب نے یہ راز پا لیا ہے۔ کاش اس وطن عزیز کے باسی بھی اس راز کو پا لیں اور نہ صرف ہماری تعلیمی درسگاہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ رنگارنگی، رواداری اور برداشت کے خوبصورت رنگوں میں رنگ جائے۔ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہماری درسگاہیں رنگ، نسل، ثقافت اور مذہب سے بے نیاز ہو کر ہر کسی کے لیے اپنے دامن کو وسیع کر دیں جہاں میرے ملک کا کوئی شہری اجنبیت محسوس نہ کرے۔


