آئی ایم ایف، پاکستان اور نیا قرضہ

اب تو یوں لگتا ہے جیسے پاکستان اور آئی ایم ایف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے آئی ایم ایف کے جاری پروگرام میں رکاوٹیں۔ اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے کرتے مشکل فیصلے ہوتے گئے جو کہ پاکستان کی بہتری کی امید دلا کے کیے گئے اور پبلک مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی گئی۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
ابھی کچھ عرصے سے یہ خبریں گردش میں تھیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں کیے گئے معاہدے کی اگر تکمیل نا ہوئی تو خدا ناخواستہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا اور اس سلسلے میں کوششیں ہو رہی تھیں۔ ایک طرف تو اسحاق ڈار صاحب فرما رہے تھے بلکہ بڑھکیں لگا رہے تھے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر بھی گزارہ کر سکتا ہے مگر دوسری طرف ان کی شرائط پہ بھی من و عن عمل کیا جا رہا تھا تو یہ طفل تسلیاں کیوں دی جا رہی تھیں کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر بھی گزارہ کر سکتا ہے۔
جناب شہباز شریف صاحب نے پہلے پاکستان میں کچھ سفیروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں کہ آئی ایم ایف کو راضی کیا جائے اور پھر پیرس کانفرنس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ڈائریکٹ ملاقاتیں ہوئیں اور آخر کار وزیرِ اعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب کی کوششیں رنگ لائیں اور کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔
کہاں ہم پرانا معاہدہ جو کہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کا تھا اس میں سے تقریباً اڑھائی ارب ڈالر بقایا تھے اور ہم اس میں سے نویں ریویو کے ایک ارب ڈالر سے زائد کے لیے کوششیں کر رہے تھے اور کہاں آئی ایم ایف کی طرف سے تین ارب ڈالر کا ایک نیا شارٹ ٹرم معاہدے کے تحت سٹاف لیول ایگریمنٹ طے پا گیا اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد تین ارب ڈالر ہمیں مل جائیں گے۔ جو کہ پاکستان کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے۔
ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر
کچھ کچھ سحر کے رنگ پر افشاں ہوئے تو ہیں
یہ معاہدہ نو ماہ کا ہے۔ لگتا ہے پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لیں ہیں اور بجٹ منظوری سے پہلے فنانس بل ترمیم کر کے بجٹ منظوری اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چوائس بھی نہیں تھی۔ وطنِ عزیز جو کہ ایک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اس معاہدے کے بعد یقیناً پاکستان کی معیشت کو ایک سہارا ملے گا۔ ڈالر کی اونچی اڑان بھی کسی حد تک نیچے آئے گی اور امید ہے وقتی طور پر پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہوگی۔ یہ سب کرنے کے لیے پاکستان کو ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ جس کی بہت ساری وجوہات ہیں کچھ سیاسی وجوہات ہیں اور کچھ جیو پولیٹیکل وجوہات ہیں۔
کجھ اونج وی راہواں اوکھیاں سن، کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی
کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی (منیر نیازی)
(کچھ ویسے بھی راہیں مشکل تھیں، کچھ گلے میں غم کا طوق بھی تھا، کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے، کچھ ہمیں مرنے کا شوق بھی تھا)
پاکستان کی اکانومی نے گزشتہ کچھ مہینوں میں بہت مشکلات دیکھیں جس میں ہائی انفلیشن، فاریکس مارکیٹ کی گراوٹ، فارن ریزرو میں کمی، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ جس نے عام آدمی کی زندگی مشکل کر دی۔ بہرحال وزیرِ اعظم صاحب کی کوششیں سودمند ثابت ہوئیں۔
بلوم برگ کی سٹوری کے مطابق پاکستان کو تین بلین ڈالر کا قرض مل گیا جس سے ڈیفالٹ کے خطرات ٹل گئے ہیں پاکستان کے یورو اور ڈالر بانڈز بھی اوپر گئے ہیں جو کہ ایک اچھا اور مثبت ٹرینڈ ہے۔ اس سے آئی ایم ایف کے علاوہ دوسرے مالیاتی اداروں کا پاکستان پہ اعتماد بڑھے گا۔
اور پاکستان میں فارن انوسٹمنٹ بڑھنے کے چانسز ہیں۔ سٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی ابھی پاکستان کو اگلے سال تقریباً 24 بلین ڈالر کا قرض ادا کرنا ہے اور یہ حالیہ ڈیل پاکستان کو بھاری قرض ادا کرنے میں موثر کردار ادا کرے گی۔
پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ یہ یہ شارٹ ٹرم معاہدہ آخری معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ نو ماہ کی مدت کا مختصر مدت کا معاہدہ پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے سے روکے گا اور ابھی اس حکومت کی ٹرم ختم ہو رہی ہے اور نگران حکومت کو امورِ مملکت چلانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ اور الیکشن کے بعد نئی آنے والی حکومت کو دوبارہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک طویل مدت کا معاہدہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً چار ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں اور اس قرض کے بعد اس میں اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ طے پانے والا معاہدہ ہماری توقعات سے بڑھ کے ہے ہم 2019 میں ہونے والے معاہدے کی بقایا رہ جانے والی رقم جو کہ 2.5 بلین ڈالر تھی اس کے ملنے کی توقع کر رہے تھے مگر تین بلین ڈالر کا معاہدہ پاکستان کی اکانومی کو سٹیبلائز کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
اس معاہدے کے اثرات کے طور پہ پاور سیکٹر میں ریفارمز متعارف کروائی جا سکتی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 8.25 روپے اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایکسچینج مارکیٹ سے کنٹرول ختم کرنے جیسے مزید دوسرے مشکل فیصلے بھی کرنے پڑ سکتے ہیں۔ تاکہ طویل مدت کے معاہدے کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ مگر اس کے لیے منظور شدہ بجٹ میں ٹیکس وصولی کی مد میں 9415 ارب روپے کے اہداف حاصل کرنا بھی بہت ضروری ہیں۔
اس وقت معیشت کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انڈسٹری کی گروتھ منفی ہے، زراعت کا شعبہ بھی کچھ بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہا، بجٹ منظور ہوتے ہی اسی دن سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا جس کے بعد شرح سود 22 فیصد ہو گئی جو کہ فنانس منسٹر کے بجٹ میں کیے جانے والے دعوے کے پہلے ہی دن اختلاف کا شکار ہو گیا۔ بجٹ میں فنانس منسٹر صاحب نے شرح سود پورے سال اکیس فیصد رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ مہنگی بجلی، بائیس فیصد شرح سود، ہائی انفلیشن شرح کے ساتھ کاروبار کی ترقی بہت مشکل ہوگی۔
حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ اکانومی کو ڈاکومنٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بیس بڑھانے پر بھی توجہ دے۔ پاکستان کی ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ابھی ٹیس نیٹ سے باہر ہے۔ فنانس بل میں ترمیم کر کے 215 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ جو ٹیکس گزار پہلے ہی سسٹم میں موجود ہیں گزارش ہے کہ انہیں مزید نا نچوڑا جائے۔ اس کے بجائے نئے ٹیکس گزار ڈھونڈے جائیں جس کا کہ یہاں بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے۔ اور ایف بی آر کے پاس بہت بڑا ڈیٹا موجود ہے۔ اگر اس پر کام کیا جائے تو خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔
حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ معاشی بحالی کا جو منصوبہ پچھلے دنوں پیش کیا گیا اس آئی ایم ایف کے قرضے سے حاصل ہونے والے فوائد سے اس پہ مزید کام کیا جائے۔ تاکہ یہاں بیرونی سرمایہ کاری ہو سکے۔ اس منصوبے کی سب سے اہم اور بڑی بات یہ کہ ہماری پاک فوج کی طرف سے اسے پوری سپورٹ حاصل ہے۔ اگر ہم معاشی بحالی کے منصوبے پر پوری طرح عمل کر گئے تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے اور ہمیں آئی ایم ایف سمیت دوسرے مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
نئی آنے والی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پہ کام کرنا ہو گا۔ معاشی بحالی کے منصوبے ہر عمل کرتے ہوئے شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے شروع کرنے ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کے کیے راضی کرنا ہو گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں موجود لوکل سرمایہ کاروں کو بھی بہتر سہولیات مہیا کرنی ہوں گی تاکہ ان کے لیے بھی کاروبار کے سازگار مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاشی بحالی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے ایک پیج پہ آنا ہو گا۔ ابھی وقتی طور پر ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ ٹل گیا ہے اور اس تین ارب ڈالر سے بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی ترقی کی نئی منزلیں تلاش کریں۔ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اللّہ نے پاکستان کو بے بہا وسائل سے نوازا ہے۔ ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم ان وسائل سے فائدہ اٹھائیں اور وطنِ عزیز کو ایک ترقی یافتہ ملک بنائیں۔
پاکستان پائندہ آباد

