میٹھے مشروبات: ایک صحت مند انتخاب یا نشے کی ایک قسم!
میٹھے مشروبات: ایک صحت مند انتخاب یا نشے کی ایک قسم!
ڈاکٹر سعدیہ عظیم
برسوں سے ایک ڈاکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے، زندگی ہسپتال، کلینک، کمیونٹی سروس کی سرگرمیوں، اور خاندان کے درمیان گزر رہی ہے۔ تاہم ہمیں وقت کی ضرورت ہے، آرام کرنے کے لیے، سوچنے کے لیے، نئے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے، مستقبل کو دیکھنے کے لیے، اور یہاں تک کہ ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لینے اور مزید سیکھنے کے لیے بھی۔ اس کے علاوہ ہمیں آرام کرنے کے لیے بھی وقت کی ضرورت ہے۔ میں اپنا فارغ وقت (عام طور پر دوپہر میں ) اپنے کلینک کے قریب کافی شاپ میں گزارنا پسند کرتی ہوں۔
ہمیشہ کی طرح اپنے مریضوں کو دیکھنے کے بعد میں کافی پینے چل دی۔ اس دن باہر گرمی اور دھوپ تھی، لیکن کافی شاپ میں بہت زیادہ لوگوں کی بھیڑ تھی۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ جو زیادہ تر نوعمر تھے۔ شاید اس لیے کہ ان کا کالج ختم ہو گیا، میں نے سوچا۔ میں نے اپنی کافی لی اور وہاں اپنی پسندیدہ جگہ پر بیٹھ گی۔ میں نے دیکھا کہ زیادہ تر لوگ آئس کولڈ شوگر ڈرنکس خرید رہے ہیں۔ لوگوں کا ایک گروہ۔ پھر دوسرا۔ اور پھر تیسرا۔ سب نے اپنے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کے مشروبات پکڑے ہوئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف چار سے پانچ لوگوں نے کافی، چائے یا پانی کا آرڈر دیا اور تقریباً ہر دوسرے شخص نے فینسی ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات کا آرڈر دیا۔ تاہم، میں نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو اکثر کافی شاپ پر آتے ہیں۔ میں جانتی تھی کہ وہ کیا آرڈر کریں گے کیونکہ وہ ہمیشہ ایک ہی طرح کے کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیتے ہیں۔
کافی شاپ سے نکلتے ہوئے میں نے سوچا کہ شاید یہ صرف گرم موسم ہے جس نے لوگوں کو ایسا انتخاب کرنے پر مجبور کیا ہے۔ شاید یہ اس معلومات کی کمی کی وجہ سے ہے کہ یہ مشروبات کس قدر نقصان دہ ہیں۔ یہ کوئی تڑپ ہے، یا ایک نشہ؟ وجہ کوئی بھی ہو، یہ ایک پریشان کن بات ہے۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے لحاظ سے میں اس دن جو کچھ بھی محسوس کیا اس کے بارے میں عام افراد کے لیے یہ مضمون لکھنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔
آئیے اس بارے میں کھل کر بات کریں۔ جیسا کہ بہت سے لوگ جانتے ہیں، مشروبات جیسے دودھ شیک، لیمونیڈ، سوڈا، پاپ، کولا، انرجی ڈرنکس، اور اسپورٹس ڈرنکس میں اضافی چینی ہوتی ہے لیکن۔ جو بات بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس شامل شدہ چینی میں فرکٹوز ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ بڑی مقدار میں ڈوپامین نامی کیمیکل خارج کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی، منشیات کا استعمال، ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران بھی یہی کیمیکل پیدا ہوتا ہے اور ہمارے دماغوں کو اطمینان کا احساس فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، جب بھی ہم یہ میٹھے مشروبات پیتے ہیں، ڈوپامین بڑی مقدار میں خارج ہوتی ہے اور اطمینان کا احساس فراہم کرتی ہے جسے پانی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم یہ شکر والے مشروبات بار بار پیتے رہیں تاکہ اطمینان حاصل ہو، اس عمل کو ہی نشہ کہتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک اوسط بالغ عورت کو ایک دن میں صرف چھ چمچ چینی کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک اوسط بالغ مرد کو ایک دن میں صرف نو چائے کے چمچ چینی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، فرض کریں کہ ایک کالج کا طالب صبح میں ایک چاکلیٹ کھاتا ہے اور ایک گلاس دودھ پیتا ہے۔ وہ دوپہر میں ایک انرجی ڈرنک لیتا ہے تو وہ ایک ہفتے میں 140 چائے کے چمچ چینی لے رہا ہے اور اس کا اوسط وزن 13 کلو بڑھ رہا ہے۔ ان کیلوریز کو جلانے کے لیے اسے 14 گھنٹے کی واک یا 7 گھنٹے سائیکل چلانے کی ضرورت ہے۔ تو ہم میں سے کتنے افراد اصل میں ایسا کرتے ہیں؟
اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت، اسکولوں، ڈے کیئرز، کام کی جگہوں، اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ان مشروبات پر ٹیکس بڑھانا چاہیے اور ان مشروبات پر لیبل لگانے کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ ہر مشروب میں موجود کل کیلوریز کا ذکر کرنا فی سرونگ کیلوریز سے بہتر ہے۔ لیبل سیکشن میں اضافی میٹھے کی لکھائی کو نمایاں کیا جانا چاہیے۔ دفاتر، سکو لوں، اور ڈے کیئرز کو چینی سے پاک کلچر متعارف کرانا چاہیے یا کم از کم چینی کی کم سے کم مقدار استعمال کرنی چاہیے۔ اس نشے نے موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں، گاؤٹ اور دانتوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیا ہے، اس لیے سگریٹ کے لیبلز کی طرح ان مشروبات کے لیبلز پر بھی واضح وارننگ ہونی چاہیے کہ اضافی شکر کے ساتھ مشروبات پینے سے ان تمام بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ میں نے کسی ایسی چیز پر تحقیق کی ہے جس کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ آپ کو اپنی تحقیق بھی کرنی چاہیے کہ آپ اصل میں کیا کھا رہے ہیں یا پی رہے ہیں۔ اِن معلومات سے سیکھتے ہوئے، یہ سمجھنا واقعی اہم ہے کہ ہم مشروبات کے حوالے سے صحت مند انتخاب کیسے کریں اور نہ صرف میٹھے مشروبات بلکہ عام طور پر استعمال ہونے والے مصنوعی میٹھے سے بھی پرہیز کریں۔ یاد رکھیے کہ اضافی چینی کی انسانی جسم کو ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ ہماری صحت کے لیے مضر ہے۔ خیر خواتین و حضرات، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے سب اپنے اپنے مشروب پر دو بار غور کریں اور صحت مند انتخاب کریں۔
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ایم ڈی ایف اے سی ای
ڈاکٹر سعدیہ عظیم کا اس اہم موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے بہت شکریہ۔ یہ مضمون پڑھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بہترین مشروب پانی ہے۔ پانی پینے سے دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے اور گردوں کے ذریعے نقصان دہ اجزاؑ کو جسم سے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔
میٹھے مشروبات پانی کی طرح پیتے ہوئے ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا کہ وہ خالی کیلوریاں ہیں۔ یعنی کہ اگر ہم ایک پھل کھاتے ہیں تو اس میں کچھ میٹھا تو ہوتا ہے لیکن وہ قدرتی میٹھا ہوتا ہے اور اس میں وٹامن اور منرلز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں قدرتی طور پر فائبر بھی موجود ہوتا ہے۔ میٹھے مشروبات میں یہ مائکرو نیوٹرئینٹس نہیں پائے جاتے ہیں۔ رنگ برنگے میٹھے الکوحل والے مشروبات میں بھی چینی کافی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک گرام الکوحل میں سات کیلوریاں موجود ہوتی ہیں۔
جب 2010 میں میں نے اپنی ذیابیطس اور اینڈوکرنالوجی کی فیلڈ میں فیلوشپ ختم کر کے نارمن ہسپتال میں کام کرنا شروع کیا تو اس وقت میری امی میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ اپنی فیلوشپ اور اس کے بعد بھی میں نے ذیابیطس کے مریضوں کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا۔ اس کے علاوہ مجھے اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ جنوب ایشیائی ہونے کے ناتے ہم ذیابیطس کے خطرے میں دیگر نسلوں سے زیادہ ہیں۔ اسی لیے میں نے اس وقت سے ہی چائے یا کافی میں چینی کا استعمال بند کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے گھر میں کوک یا دیگر میٹھے مشروبات کا داخلہ ممنوع ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک پینسٹھ سال کے صاحب ذیابیطس کے علاج کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ نسبتاً کم عمر تھے تو اس وقت معلومات اور سمجھ کچھ زیادہ نہیں تھی۔ ٹی وی پر مسلسل ٹھنڈی کوکا کولا کے اشتہار چلتے تھے۔ کوکا کولا کو آج بھی امریکی کلچر کا ایک آئکون تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہ مریض ایک کسان تھے اور ہر صبح کام پر جاتے ہوئے دو لیٹر کی ٹھنڈی کوک ساتھ میں لے جاتے تھے جو وہ سارا دن پیتے رہتے تھے۔
یہ سن کر مجھے انتہائی افسوس محسوس ہوا کیونکہ کوکا کولا نہ صرف میٹھے سے بھری ہوتی ہے بلکہ امریکہ میں اس میں اصلی چینی کے بجائے ہائے فرکٹوز کارن سیرپ ہوتا ہے۔ ہائے فرکٹوز کارن سیرپ کو ایک جاپانی سائنسدان نے ایجاد کیا تھا۔ یہ انسان کا بنایا ہوا بھٹے کے دانوں سے بنا ہوا ایک مصنوعی میٹھا ہے جو کہ ہمارے انسانی جسم کے لیے ایک نیا کیمیائی مادہ ہے جس سے ہمارا جسمانی نظام درست طریقے سے ہاضمے پر کام نہیں کرتا اور اس کو چکنائی بنا کر جسم میں جمع کرتا جاتا ہے۔ آج کتنے ہزاروں ہی کیا بلکہ لاکھوں افراد کو کوکا کولا کی وجہ سے ذیابیطس اور موٹاپے کی بیماریاں لاحق ہیں۔
اس لیے یہی بہتر ہے کہ ان رنگ برنگے مشروبات کے بجائے پانی کا استعمال بڑھایا جائے۔ پانی پینے کے بہت سے فائدے ہیں۔ الکوحل کو اکثر بالغ مشروب کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بالغ مشروب صرف ایک ہی ہے اور وہ پانی ہے۔



