ہمارے شاندار ماضی کا دعویٰ: سچا یا جھوٹا؟


ہمارے یہاں کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ماضی میں ہم اعلیٰ تہذیب و اقدار کے مالک تھے۔ اس وقت یورپ جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ وہاں کے عوام کیا، حکمران تک گندے رہتے تھے۔ صفائی ستھرائی سے بے زار تھے۔ اور نہانے کو گناہ سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں ہم مسلمان بہت اعلیٰ زندگی گزار رہے تھے۔ جب یورپ کی گلیوں میں بدبو کے ہاتھوں لوگوں کا گزرنا محال تھا۔ اس وقت ہمارے شہروں میں نہانے کے لئے درجنوں حمام بنے ہوتے تھے۔

یہاں تک تو ٹھیک ہے، کہ یورپ میں اس وقت لوگوں کی تمدنی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔ لوگ مذہبی توہمات میں گرے ہوئے تھے۔ کلیسا کا جبر و ستم قائم تھا لیکن اصل سوال تو یہ ہے، کہ جب ہم تمدن کے اعلی درجہ پر تھے۔ اور مغرب اخلاقی گراوٹ کا شکار تھا۔ پھر یکایک ایسا کیا حالات نے پلٹا کھایا، کہ اعلی تہذیب کا حامل مسلمان معاشرہ پر مغرب سازشوں سے حاوی ہو گیا۔ کیا مسلمان ناسمجھ بچے تھے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں، کہ مغرب ہم پر اس لئے کامیاب ہوا کہ انہوں نے ہماری کتب سے سائنس کو پڑھ کر سمجھا۔ اس میں غور و فکر کیا۔ اور ترقی کر گئے۔ جبکہ ہم پیچھے رہ گئے۔ وجہ یہ تھی، کہ ماضی میں علمی روش چھوڑ کر تقلیدی روش پر اکتفاء کیا اور ماضی کی شان و شوکت کی کہانی لکھ کر اسے لوگوں کے دلوں میں راسخ کیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے، کہ یہ ساری کہانی مغرب کی ترقی پر ردعمل کی وجہ سے گڑھی گئی، تاکہ ندامت سے بچا جا سکے۔

لیکن آنکھیں بند کرنے سے حالات نہیں بدلتے۔ یورپ نے ان بدتر حالات سے ترقی کی، تو ان کو داد دینا چاہیے۔ اور ہم بلندی سے ذلت میں گر گئے۔ تو ہم پر افسوس ہے۔ اس کی وجہ یورپ نہیں، ہمارے حکمرانوں کی نالائقیاں ہیں۔ ہمارے عیاش بادشاہ ہزاروں کنیزیں اور غلام رکھتے تھے۔ ترکی کے ایک بادشاہ کی چار ہزار کنیزیں تھیں۔ ایک کنیز کو خلیفے سے ملنے کے لئے اس کی زندگی میں صرف ایک رات ملنا نصیب ہوتا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ اس کی باری نہیں آتی تھی۔

ہندوستان کے مغل بادشاہوں کا بھی عیاشی کے مارے برا حال تھا۔ ہمارا مشاہدہ تو یہ ہے۔ کہ جس وقت یورپ میں علمی ادارے قائم ہو رہے تھے۔ اس وقت مسلمان ملکوں کے حکمران محلاتی سازشوں کا شکار تھے۔ یہ سب کام کرنے کے لئے ہمارے حکمرانوں کو یورپ والے اور یہود و نصاریٰ نہیں بولتے تھے۔ یہ خود ہی بدکار و خطاکار تھے۔ اوروں کو کیوں الزام دیں۔ آج مسلمان ملکوں کے عوام اپنے ظالم حکمرانوں کی ڈر سے کچھ نہیں بول سکتے۔ کیونکہ وہ ظالم حکمرانوں کے شکنجہ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔

اور یہ ظلم و ستم کا اندوہ ناک سلسلہ صدیوں سے قائم و دائم ہے۔ حجاج بن یوسف کو یاد کیجئے۔ اس نے کس کے کہنے ہزاروں بے گناہ لوگ مار دیے۔ اس نے صحابی رسول ابن زبیر (رض) کو شہید کیا۔ خانہ کعبہ پر سنگباری کی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان حکمران مطلق العنان ہوتے تھے۔ ان کے آگے کوئی بھی شخص کلمہ حق کہنے کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ یہ اس کو بغیر کسی ندامت کے مار دیتے تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس ظلم کو دین کی خدمت کا نام دیتے تھے۔

عیاشی کو اپنا فطری حق سمجھتے تھے عدم برداشت کا یہ عالم، کہ مسلمان سرزمین میں جتنے سائنس و جدید علوم کے علماء پیدا ہوئے ان کو ظالم حکمرانوں نے دین کی خدمت کا دعویٰ رکھنے والے علماء سو کی خوشنودی کے لئے ارتداد، انحراف اور بد عقیدگی کا الزام لگا کر مار دیا۔ یا ملک بدر کر دیا۔ جو رہ گئے۔ ان کو توبہ کرائی گئی۔ کہ ہماری توبہ ہے جو ہم آئندہ کبھی غیر اسلامی علوم کی طرف دیکھیں۔ یہی نہیں اس طرح مسلمان سرزمین سے سائنسی اور تنقیدی سوچ کا خاتمہ کیا گیا۔

کیونکہ نہ حکمرانوں کو نا ہی مذہبی طبقے کو تنقیدی سوچ پسند تھی۔ وجہ یہ تھی کہ تنقیدی سوچ سوال کھڑا کرتی ہے۔ سوال سے حکمران اور اندھی تقلید کے پیروکار بہت ڈرتے ہیں۔ سوال سے ناجائز طور پر قابض حکمران کی حکمرانی خطرے میں پڑتی ہے۔ اور نتیجہ میں مراعات یافتہ مذہبی طبقات مالامال کرنے والے عیاش حکمرانوں کی سرپرستی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ چونکہ ان کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

اس لئے یہ ایک دوسرے کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ اگر مسلمانوں میں تنقیدی اور سائنسی علوم کا گلا نہ گھونٹا جاتا، تو آج مسلمان یورپ والوں سے بہت آگے ہوتے۔ مسلمان ہی کیا ساری دنیا آج بہت ایڈوانس ہوتی۔ کیونکہ آٹھ سو سال پہلے یورپ کے بجائے نشاۃ ثانیہ کی ابتدا مسلمان سرزمین سے ہو جاتی۔ یعنی آج سے آنے والے اٹھ سو سالوں میں جتنی ترقی ہونی ہے۔ آج ہم اتنے ہی ترقی یافتہ ہوتے۔ یورپ والے بھی آج کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہوتے۔

اگر بیچ میں عیسائیت (اصل میں پاپائیت) نے آ کر ایک ہزار سال کے لئے ان کا بیڑہ غرق نہیں کیا ہوتا کیونکہ سائنسی سوچ کا آغاز چار سو قبل مسیح میں ہی یونان میں ہو گیا تھا۔ لیکن سات سو سال بعد جب اہل یورپ نے عیسائیت قبول کی۔ ان کا بادشاہ مشرف بہ عیسائیت ہوا۔ تب عقلی علوم کے دروازے بند کر دیے گئے۔ اور یورپ ایک ہزار سال تک تاریک کلیسائی نیند میں چلا گیا پھر مسلمانوں نے عقلی علوم کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا علم و دانش کی حامل کتابیں یونانی سے عربی میں ترجمہ ہوئیں۔ پھر جب مسلمانوں پر اپنے ہی ناہنجار اور عیاش حکمرانوں کی وجہ سے برا دور آ گیا۔ تو یونانی سے عربی میں ترجمہ کردہ کتب یورپیوں نے اپنی زبانوں میں ترجمہ کیں۔ اور اس طرح یونانی علم و دانش کا وہ عظیم ذخیرہ ستم زدہ مسلمان عالموں کی وساطت سے دوبارہ یورپ پہنچا۔ یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ وہاں سے یورپ والوں نے پڑھ پڑھ کر وہ کتابیں ازبر کیں۔ اور اس کے بعد یونیورسٹیاں قائم کرتے ہوئے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا جو اب تک چل رہا ہے۔

مسلمانوں نے علم و دانش کا ذخیرہ لیا۔ اس کی اشاعت کا بیڑہ بھی اٹھایا۔ لیکن وہ اس کے اہل ثابت نہیں ہوئے۔ جلد ہی تائب اور کنارہ کش ہوئے۔ کیونکہ مسلمانوں میں مذہبی طبقے کو لگتا تھا کہ فلسفہ سائنس اور دیگر عقلی علوم سے مذہب کو خطرہ ہے۔ لہذا ان علوم کی اشاعت بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اور اس کا سختی سے سدباب ہونا چاہیے۔ پھر کیا ہوا؟ دنیاوی اور عقلی علوم سیکھنے اور سکھانے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قلع قمع کیا گیا۔

بالکل اس طرح جس طرح عیسائیت کے آنے سے یونان میں علوم عقلیہ کو کفری اور مشرکانہ علوم قرار دے کر قلع قمع کیا گیا۔ دونوں جگہوں میں مذاہب مختلف تھے۔ زمان و مکان بھی مختلف تھے۔ لیکن تنقیدی سوچ سے خوف کھانے والی سوچ ایک تھی۔ اور وہ تھی، ظالم اور عیاش حکمرانوں اور علم کے نام پر جہالت کے اندھیرے بانٹنے والے مذہبی اجارہ داروں کی سوچ، جس کو سوال کرنے سے اپنی مراعات خطرے میں نظر آتی تھیں۔ اور سوال کرنے سے ان کی انا مجروح ہوتی تھی۔ اس لئے وہ متحرک ہوئے۔ اور اپنا مستقبل روشن کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کا مستقبل تاریکیوں میں ڈبو گئے۔

اب آتے ہیں، دوسری طرف تو جناب مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ماضی کی طرح بلند بانگ بے سند جھوٹے دعووں الزامات اور طعنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ بلکہ حل اس میں ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جائے۔ دوسروں پر بہتان باندھنے سے بہتر ہے۔ کہ خود کا قبلہ درست کیا جائے۔ تعمیری اور تنقیدی سوچ پر سے پہرے ہٹا دیے جائیں۔ ہر کیسی کو بولنے دیا جائے۔ بولنے سے معاشرے کمزور نہیں ہوتے۔ بلکہ خود کی غلطیوں کا پتہ چلتا ہے۔ اور ناکامیوں سے سیکھ ملتی ہے۔

برداشت سے رویوں میں تہذیب اور شائستگی آتی ہے۔ مذہبی رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ ”میں صحیح تو غلط“ کی منفی سوچ ختم ہوتی ہے۔ مغربی ملکوں کو دیکھ کر مشرق بعید کے ممالک جاپان، چین، کوریا وغیرہ نے کبھی بھی مغرب پر تنقید نہیں کی۔ نہ ان کی ترقی سے کبھی جیلس ہوئے۔ نہ انہوں نے جدیدیت کے مقابلہ میں قدامت پسندی پر اصرار کیا۔ نا ہی مغربی اقدار سے خوف کھایا۔ انہوں نے مغربی ملکوں کی ترقی کے نمونہ پر عمل کیا۔ اپنے ملکوں میں بامقصد تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ مذہبی سوچ کو ریاست اور سیاست سے بالکل الگ کیا۔ ساری توجہ تعلیم اور تحقیق کے فروغ پر مرکوز کی۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھا۔ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے۔ جاپان کو نہایت ظالمانہ طریقے سے شکست دی۔ لیکن جاپان نے جوابی وار کرنے کی پالیسی نہیں اپنائی۔ بلکہ اس بات کو تسلیم کیا، کہ جنگ کر کے سپر پاور بننے کی حکمت عملی غلط تھی۔ اس کے بعد اس نے چند ہی دہائیوں میں اقتصادی سپر پاور بن کر دکھایا۔ چین بھی اتنے ہی عرصے میں دنیا کی تیسری بڑی طاقت بن گیا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان ممالک عالمی سیاست میں کہاں کھڑے ہیں۔ سائنسی تحقیقات اور دریافتوں میں ان کا کیا حصہ ہے۔ اس کا گہرا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پدرم سلطان بود والے جھوٹے نرگسی تفاخر سے نکلا جائے۔ تاکہ ہم میں آزادی کے ساتھ سوچنے کی اہلیت پیدا ہو۔

Facebook Comments HS