سیاسی سرگرمیاں اور صحافتی پروپیگنڈا


سیاسی گروہوں کی ملک دشمن سرگرمیاں اور صحافتی شرانگیزی ایک خطرناک جوڑی ہیں جو ریاست کو داغ دیتی ہے۔ یہ دونوں عوام کی ترقی، امن و امان، اور معاشی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ تشویشناک حقیقت ہے کہ بعض سیاسی گروہ اپنی روایاتیں، مفادات اور اقدار  کی حفاظت کے لئے صحافتی شرانگیزی کا کردار اختیار کرتے ہیں۔
سیاسی گروہوں کا مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہئے، لیکن یہ کہنا پڑے کہ یہ کئی مرتبہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے عوام کو ملک دشمن بنانے کے راستے اختیار کرتے ہیں۔ یہ اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ سیاسی گروہوں کیلئے کیا ملک کی ترقی اور عوام کا مفاد مقدم نہیں رہتا؟
صحافتی شرانگیزی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ بنتی ہے۔ یہ معاملہ مختلف طریقوں سے واضح ہوتا ہے۔ کچھ صحافتی شخصیات اپنی مصروفیات اور مفادات کی تحقیق کرنے کی بجائے ملک دشمن سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بھرپور توجہ دینے کے بجائے، مختلف طریقوں سے سیاسی گروہوں کے منصوبوں اور روایات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی شرانگیزی معاملات میں صحافت کی آزادی پر بھی داغ لگتا ہے۔
صحافتی شرانگیزی کا کردار صرف میڈیا کے محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ عوام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض صحافتی شخصیات اور میڈیا ہاوسز مسلسل سیاسی گروہوں کے سیاست کی تعریف اور دفاع کرتے رہتے ہیں، چاہے وہ سرکاری طرف ہوں یا اپوزیشن کے حامی ہوں۔ یہ عمل عوام کے لئے تشویشناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے لئے سچائیوں اور مصلحتوں کا پتہ لگانے کی بجائے تشویشناک سیاسی دعووں کو سچ ثابت کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔
سیاسی گروہ کی ملک دشمن سرگرمیاں اور صحافتی شرانگیزی کا کردار ریاست کی ترقی کو متاثر کرتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور میڈیا کو مستقل آزادی کے ساتھ اخباری، ٹی وی اور سوشل میڈیا کی معیاریں پر عمل کرنا چاہئے۔ ہمیں سیاسی گروہوں کی ملک دشمن سرگرمیوں اور صحافتی شرانگیزی کے خلاف لڑنا ہوگا تاکہ ہم ایک بہترین، امن و امان والا اور ترقی کرنے والا ملک بنا سکیں۔
Facebook Comments HS