پاکستان میں مہنگائی کیسے کم ہوگی؟


افراط زر سے مراد وقت کے ساتھ ساتھ اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ عام زبان میں اسے ’مہنگائی‘ کا نام دیا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ آپ کا روپیہ آج اتنی قدر نہیں رکھتا جتنی کل رکھتا تھا۔ افراط زر کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک عام استعمال کی چیز کی قیمت کا ایک دور سے دوسرے دور کا فرق دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پچھلے سال آپ کو دودھ 100 روپے فی لیٹر مل رہا تھا اور اس سال اس کی قیمت 150 روپے فی لیٹر ہے تو اس کا مطلب ایک سال میں دودھ 50 فیصد مہنگا ہوا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا تعین پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس یعنی قومی ادارہ شماریات کرتا ہے۔ بنیادی ضروریات اور خوراک کی کئی چیزوں کی ایک تصوراتی باسکٹ یا ٹوکری بنائی جاتی ہے اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ ایک سال پہلے اس ٹوکری کو خریدنے کے لیے کتنے پیسوں کی ضرورت تھی اور اب کتنے کی ضرورت ہے۔ اس ٹوکری میں چکن، گندم، چاول، آٹا، پیاز، دودھ، دالیں، دیگر سبزیاں اور پکانے کا تیل جیسی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ بنیادی ضروریات کی چیزیں مثلاً گھر کا کرایہ، بجلی، گھریلو آلات، ایندھن، ٹرانسپورٹ وغیرہ کو بھی اس تصوراتی ٹوکری میں شامل کیا جاتا ہے۔ مہنگائی کا اندازہ لگانے کے اس طریقہ کار کو کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا نام دیا جاتا ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2022 سے اب تک قومی سطح پر اس پوری ٹوکری کی قیمت میں 29.40 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک میں رواں سال مئی میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح کو پہنچ چکی تھی۔ اگرچہ جون کے مہینے میں مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی جس کی بدولت سالانہ مہنگائی کی شرح 29 اعشاریہ 40 فیصد رہی۔ جبکہ پاکستان اکنامک سروے 2022۔ 23 کے مطابق اس سال مہنگائی کا ہدف 11.5 فیصد تھا۔ ایک صحت مند معیشت میں، سالانہ مہنگائی عام طور پر دو فیصد کی حد میں ہوتی ہے۔

پاکستان اس وقت شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2022۔ 23 کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کے بڑھنے میں سب سے زیادہ دو عوامل کارفرما ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے اور عالمی بحران کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنا ہے۔ دوسرا یہ کہ روپے کی قدر میں کمی نے درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ روس یوکرین بحران اور مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی تناؤ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس لحاظ سے بھی زیادہ اثر دِکھاتا ہے کہ یہ تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف پیٹرول پمپس پر نظر آتا ہے بلکہ یہ اضافہ ہمیں ان تمام اشیا اور خدمات کی قیمت میں اضافے کی صورت میں بھی نظر آتا ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ ایندھن کی اونچی قیمتیں پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں جس سے خوراک مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔ اور چونکہ پاکستان اپنی اشیائے خورد و نوش کا بہت بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے جبکہ خوردنی تیل سمیت پام آئل وغیرہ بھی ہم زیادہ تر دوسرے ممالک سے امپورٹ کرتے ہیں، اس لیے اگر ان چیزوں کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھتی ہیں تو ہمیں یہ چیزیں پاکستان میں بھی مہنگی ملتی ہیں۔

پاکستانی روپیہ کی قدر میں کمی بھی مہنگائی پیدا کرنے کی ایک وجہ ہے جس سے ملک میں درآمد شدہ اشیا کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور جب ضروری استعمال کی اشیا ایک ملک میں درآمد ہوتی ہوں تو صورت حال بدتر ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ہر سال بڑھتا بجٹ خسارہ روپے کی قدر میں کمی کا باعث ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، توانائی کے شعبے میں موجود مسائل، سیلاب سے ہونے والے نقصانات، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور سیاسی عدم توازن نے بھی مہنگائی کے بڑھنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

مہنگائی قابو کرنے میں حکومت کی مالیاتی پالیسی (فِسکل پالیسی) اور مرکزی بینک کی زری پالیسی (مانیٹری پالیسی) دونوں کا کردار ہوتا ہے۔ مرکزی بینک قرض کی لاگت بڑھا کر اجناس کی قیمتیں کم کر سکتا ہے یا ان کے بڑھنے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ قرض کی لاگت بڑھانے کا مطلب شرح ِ سود میں اضافہ کرنا ہے۔ جب شرحِ سود میں اضافہ ہوتا ہے تو لوگوں کی زیادہ چیزیں طلب کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، اس طرح طلب اور رسد کے درمیان توازن پیدا کیا جاتا ہے جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آتی ہے۔ اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ شرحِ سود میں اضافے سے لوگوں کو یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اپنی قابلِ خرچ آمدنی کو خرچ کرنے کے بجائے بچتوں میں لگائیں۔ جبکہ دوسری طرف حکومت اپنی بہتر حکمت عملی اور اچھی معاشی پالیسیوں کی مدد سے ضروری اشیا کی مہنگائی کو روک سکتی ہے۔ جن میں پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کا آغاز، زرعی پیداوار میں بہتری، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی، سیاسی استحکام، بجٹ خسارے میں کمی، لوکل انڈسٹری کو فروغ دینا شامل ہیں۔

Facebook Comments HS

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 11 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan