ایک مسیحی شہری پر مقدمہ: کیا نتیجہ برآمد ہو گا؟

کوئی بھی موقع ہو پاکستان میں مذہبی اختلافات کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا رہتا ہے۔اور سابقہ عید بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھی۔ 30جون کو چک 49 شمالی سرگودھا کے ایک رہائشی ہارون شہزاد صاحب کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ صاحب مذہب کے اعتبار سے مسیحی ہیں۔ اور شکایت کنندہ نے یہ ایف آئی درج کرائی ہے کہ ہارون شہزاد نے اپنی فیس بک پر یہ عبارت شیئر کی ہے۔
”جو جسم کے اعتبار سے اسرائیلی ہیں اُن پر نظر کرو۔ کیا قُربانی کو گوشت کھانے والے قُربان گاہ کے شرِیک نہِیں؟ پَس مَیں کیا یہ کہتا ہُوں کہ بُتوں کی قُربانی کُچھ چیز ہے یا بُت کُچھ چِیز ہیں؟ نہیں بلکہ یہ کہتا ہُوں کہ جو قربانی غیر قومیں کرتیں ہیں شیاطین کے لئے قُربانی کرتی ہیں نہ کہ خُدا کے لئے اور مَیں نہیں چاہتا کہ تُم شیاطین کے شرِیک ہو۔ تم خُداوند کے پیالے اور شیاطین کے پیالے دونوں میں سے نہِیں پی سکتے۔ خُداوند کے دسترخوان اور شیاطین کے دسترخوان دونوں پر شرِیک نہِیں ہو سکتے۔کیا ہم خُداوند کی غیرت کو جوش دلاتے ہیں؟ کیا ہم اُس سے زورآور ہیں؟ ”
یہ ایف آئی آر درج کرانے والے صاحب نے گواہوں کے نام بھی درج کئے ہیں کہ انہوں نے خود یہ عبارت فیس بک پر دیکھی تھی۔اور یہ لکھا کہ اس عبارت کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے گئے ہیں اور شعائر اسلام کی توہین کی گئی ہے۔اور اس طرح تعزیرات پاکستان کی شق 295 الف اور 298 کے تحت یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
اس سلسلہ میں بعض اہم امور قابل توجہ ہیں۔ درج ذیل موازنہ تکلیف دہ تو ہو سکتا ہے لیکن اگر ان امور کو نظر انداز کیا گیا تو صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی طور پر اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔عرض ہے کہ یہ عبارت بائیبل کے نئے عہد نامے کا ایک اقتباس ہے۔اور اس پہلے خط کا حصہ ہے جو کہ سینٹ پال نے گرنتھیوں کے نام لکھا تھا۔
سب سے پہلے اس پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس ساری عبارت میں کہیں معین طور پر مسلمانوں کی قربانی کا ذکر نہیں ۔بلکہ اس اقتباس کے شروع میں بتوں کے لئے قربانی کرنے کا ذکر ہے ، جس سے اس مضمون کا پس منظر ظاہر ہوجاتا ہے۔اور یہ عبارت معین طور پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے یا ان کی قربانی کے بارے میں ہو بھی کس طرح سکتی ہے کیونکہ یہ خط اسلام کے ظہور سے صدیوں قبل 55 عیسوی میں لکھا گیا تھا ۔
لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہر مذہب کے اصول کئی اعتبار سے دوسرے مذاہب سے نہ صرف مختلف بلکہ بسا اوقات متضاد بھی ہوتے ہیں۔ اور جب اپنے اپنے مذہب کے اظہار کی آزادی دی جاتی ہے جیسا کہ پاکستان کے آئین میں دی گئی ہے تو ہر ایک شخص اپنے مذہب کا اظہار کرے گا اور بسا اوقات یہ اظہار دوسرے مذہب سے وابستہ شخص کو ناگوار بھی گذر سکتا ہے ۔ کئی عقائد ایسے ہیں جو ایک مذہب کی بنیاد ہیں اور دوسرے مذہب کے نزدیک قابل مذمت اور گناہ قرار دیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مہذب دنیا میں ہر شخص کو اپنے اپنے مذہب کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔
اگر اس طرح صرف اپنی مذہبی کتاب سے اقتباس نقل کرنے پر مقدمات بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے تو دنیا کا کوئی شخص محفوظ نہیں رہے گا۔ مثال کے طور پر اسلام کی بنیاد توحید ہے اور اسلام کے نزدیک خدا کا کوئی بیٹا ہونا ممکن نہیں۔مسیحی حضرات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔اس عقیدہ کے متعلق سورۃ مریم کی آیت 89میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بے شک یہ تم انتہائی نا پسندیدہ بات لائے ہو۔ اس کے علاوہ اور آیات میں بھی اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ جب ایسے ممالک میں جن میں مسیحی احباب کی اکثریت ہے قرآن مجید کی اشاعت کی جاتی ہے تو ان آیات کی بھی اشاعت کی جاتی ہے۔ تو کیا ان ممالک کے مسیحی احباب اس بات پر قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد کی توہین ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا۔
دنیا کے کروڑوں ہندو احباب کے نزدیک بتوں کی تعظیم ان کے مذہب کا اہم حصہ ہے۔ اور مسلمانوں کے نزدیک یہ شرک اور گناہ ہے۔ اور سورۃ الحج کی آیت 30 میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تم بتوں کے رجس سے دور رہو۔ دیگر آیات میں بھی بت پرستی کا رد کیا گیا ہے۔ اگر بھارت میں ہندو اکثریت یہ مطالبہ کرنے لگے کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اس قسم کی آیات کی اشاعت کریں کیونکہ ان میں ہمارے بنیادی عقائد کی توہین کی گئی ہے تو کیا یہ مطالبہ قابل قبول ہوگا؟ ظاہر ہے ہر انصاف پسند یہی کہے گا کہ یہ کوئی معقول مطالبہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کا علیحدہ مذہب ہے ۔ انہیں اپنے عقائد کے اظہار اور ان کی اشاعت کا برابر کا حق حاصل ہے۔
متی کی انجیل کے باب 23میں یہودی مذہبی علماء کو مخاطب کر کے یہ فقرہ درج ہے
”اَے ریاکار فقِیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے دیتے ہو”
اس کے علاوہ اس باب میں ہی بار بار یہودی علماء کو ریاکار کہا گیا ہے ۔ اگر اسرائیل میں انجیل کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے کہ اس میں ہمارے مذہبی علماء کی توہین کی گئی ہے تو کیا یہ قدم حق بجانب ہوگا؟ ظاہر ہے کوئی بھی ذی ہوش ایسے قدم کی حمایت نہیں کرے گا۔
اسی طرح اب دنیا کے بہت سے مفکرین اور سائنسدان دہریت کا پرچار کر رہے ہیں۔ ہم سے شاید ہی کوئی ہو جس نے رچرڈ ڈاکنس ، سیم ہیرس یا لارنس کراس جیسے مفکرین کا نام نہ سنا ہو یا ان کی کوئی تحریر نہ پڑھی ہو۔میں نے خود پاکستان میں ان کی کتب کو فروخت ہوتے دیکھا ہے۔ ان کتابوں میں خدا کے وجود کا ہی انکار کیا گیا ہے ۔ اگر پاکستان میں یا کسی اور ملک میں ان کتب پر پابندی لگا دی جائے کہ ان کتب میں تو مذہب کی بنیاد پر ہی حملہ کیا گیا ہے۔تو کیا ہوگا؟ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کتب کو انٹر نیٹ پر پڑھیں گے ۔شاید یہ کتب پہلے سے زیادہ مقبول ہوجائیں۔ اگر کوئی مذہبی شخص ان کتب کے اثر کو روکنا چاہتا ہے تو چاہیے کہ دلائل سے ان نظریات کا رد کرے۔ یا مارٹن ریس اور فرانسس کولنس جیسے نامور سائنسدانوں کی کتب پڑھ لے اور دوسروں کو پڑھائے کیونکہ ان کتب میں ان سائنسدانوں نے دہریہ سائنسدانوں کے نظریات کا رد کیا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ مذہب کے اظہار پر اس طرح کے مقدمات کے سلسلہ کو اگر روکا نہ گیا تو وہ پنڈورا بکس کھلے گا جسے بند کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔ اب یورپ میں اور خاص طور پر سویڈن ، ہالینڈ اور فرانس جیسے ممالک میں ایسے خیالات زور پکڑ رہے ہیں ، جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ تنگ نظری کا یہ سلسلہ اب ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اہل وطن کو اب بیدار مغزی سے ان حالات کا جائزہ لینا چاہیے ۔ پاکستان میں اس قسم کے لاحاصل مقدمات قائم کر کے وہ اس طوفان کا راستہ کھول رہے ہیں ، شاید جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان ہی بنیں۔

