اسکول اور ذہنی صحت سے متعلق اقدامات
ذہنی صحت مجموعی بہبود کا ایک اہم پہلو ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی کے جذباتی، نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پاکستانی اسکولوں کے تناظر میں جہاں بچے اپنے ابتدائی تعلیمی عہد کا ایک اہم حصہ صَرف کرتے ہیں، ذہنی صحت کو ترجیح دینا انتہائی ناگزیر ہے۔ اسکولوں میں ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو دور کرنا طلبہ کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے، سیکھنے کے مثبت ماحول کو فروغ دینے اور ان کے مستقبل کی کامیابی کی بنیاد رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ہمارے زمانۂ طالب علمی میں ہمارے کسی اسکول میں طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے کبھی کوئی دو لفظ بھی بولے گئے ہوں۔ بلکہ مجھے یہ تو اچھی طرح یاد ہے کہ کون کون سا استاد، مضمون یا معاملہ ہمارے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتا تھا جن کے اثرات سے ابھی تک ہم باہر نہیں آ پائے۔ تاہم! گزشتہ چند برسوں سے مختلف تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت اور متعلقہ برتاؤ کے حوالے سے کافی اچھی پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان اقدامات کے طلبہ کی زندگیوں اور مستقبل پر بہت مثبت اور دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
محققین کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل کا شکار نو عمر بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے دنیا بھر کے اسکولوں اور تعلیمی راہ نماؤں پر مناسب اقدامات اٹھا کر مدد فراہم کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ طلبہ دورانِ تعلیم یا دیگر معاملات میں کسی بھی طرح کے مسائل پر قابو پاسکیں اور صحت مند اور معمول کی زندگی گزار سکیں۔
ذہنی صحت کو سمجھنا
ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن (۲۰۱۴) کے مطابق ذہنی صحت سے مراد فلاح و بہبود کی ایسی حالت ہے جس میں ایک فرد اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے زندگی کے معمول کے دباؤ کا مقابلہ کرتا ہے، نتیجہ خیز کام کرتا ہے اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا مثبت حصہ ڈالتا ہے۔ اس میں جذبات، خیالات اور طرز عمل کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور درپیش مسائل کو مؤثر طریقے سے ڈھالنا شامل ہے۔ ذہنی صحت محض ذہنی بیماری کی عدم موجودگی نہیں ہے بلکہ اس میں خود اعتمادی، لچک اور جذباتی ذہانت جیسے مثبت عوامل شامل ہیں۔
اسکولوں میں ذہنی صحت کی اہمیت
اسکول کا ماحول بچے کی ذہنی صحت پر نمایاں طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں کو ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو طلبہ کی جذباتی اور نفسیاتی تن درستی میں معاون ہو۔ اسکولوں میں ذہنی صحت پر زور دینے سے کئی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔
اول: یہ اقدام سیکھنے کے بہترین نتائج کو فروغ دینے کے ضامن ہیں کیوں کہ جو طلبہ ذہنی طور پر صحت مند ہوتے ہیں وہ زیادہ مصروف، پُرعزم اور اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
دوم: یہ طلبہ کے درمیان اور اساتذہ کے ساتھ مثبت تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ایک معاون اور جامع اسکول کمیونٹی تشکیل دیتے ہیں۔
سِوُّم: اسکولوں میں ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو دور کرنے سے ان طویل المدتی نتائج کو روکنے میں مدد ملتی ہے جو غیر حل شدہ مسائل سے پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے کہ اوسط یا اس سے بھی کم تعلیمی کامیابی، غیر موزوں رویوں کے مسائل اور ذہنی عوارض وغیرہ۔
پاکستانی اسکولوں میں ذہنی صحت کے مسائل
پاکستان مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (۲۰۲۱) اور دیگر پاکستانی محققین کے مطابق پاکستانی اسکولوں کو ذہنی صحت کے متعدد مسائل کا سامنا ہے جو طلبہ کی فلاح و بہبود کو متأثر کرتے ہیں۔ تعلیمی دباؤ، سماجی توقعات، دھونس جمانا، ہراساں کرنا، امداد اور راہ نمائی کا ناکافی اور غیر فعال نظام اور کئی مسائل کے بارے میں بےداری کی کمی جیسے عوامل ان مسائل کے پھیلاؤ میں معاون ہیں۔ پاکستانی اسکولوں میں دیکھے جانے والے کچھ عام ذہنی صحت کے مسائل میں ذہنی بےچینی کی شکایات، ذہنی دباؤ، تناؤ، خود اعتمادی کا فقدان اور تعلیمی سرگرمیوں سے کترانا شامل ہیں۔ توجہ نہ دیے جانے سے یہ مسائل ناقص تعلیمی کارکردگی، سماجی تنہائی، منشیات کے استعمال، خود کو نقصان پہنچانے اور یہاں تک کہ خودکشی کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔
اسکولوں میں ذہنی صحت کے خدشات کو دور کرنا
پاکستانی اسکولوں میں ذہنی صحت کو فروغ دینے کے لیے اسکول کے منتظمین اور اساتذہ کو ایک فعال انداز اپنانا چاہیے جو طلبہ کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے۔ یہاں کچھ حکمت عملیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو کہ اسکولوں میں لاگو کی جا سکتی ہیں۔ اگر سنجیدگی سے ان پر عمل کیا جائے تو ذہنی صحت کے خدشات کو کافی حد تک دُور کیا جاسکتا ہے۔
مشاورت کے لیے پیشہ ور افراد کی تعیناتی
طلبہ کی ذہنی صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اسکولوں میں اسٹوڈنٹ کاؤنسلر (student counselor) یا دماغی صحت کے کسی راہ نما پیشہ ور کا تقرر کرنا ایک اہم حکمت عملی ہے۔ ایسے راہ نما ان طلبہ کو مدد، رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو جذباتی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا کر تے ہیں۔ اسکول میں ذہنی صحت سے متعلق مشاورت کے لیے ایک سرشار مشیر (student counselor) رکھنے سے طلبہ کے پاس اپنے خدشات پر بات کرنے، مشاورت حاصل کرنے اور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے آسانی سے قابل رسائی وسیلہ ہمہ وقت دست یاب ہوتا ہے۔ ایک اسٹوڈنٹ کاؤنسلر طلبہ کے لیے اپنے خیالات اور جذبات کا اشتراک کرنے، اعتماد کو فروغ دینے اور تعلقات استوار کرنے کے لیے ایک محفوظ اور رازدارانہ ماحول مہیا کر سکتا ہے۔ یہ فعال نقطۂ نظر دماغی صحت کے مسائل کو ابتدائی طور پر شناخت کرنے اور بروقت راہ نمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی نتائج کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اسٹوڈنٹ کاؤنسلر اساتذہ، والدین اور اسکول کے منتظمین کے ساتھ جامع ذہنی صحت کے پروگرام اور طلبہ کی مخصوص ضروریات کے مطابق اقدامات تیار کرنے کے لیے بھی تعاون کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر اسٹوڈنٹ کاؤنسلر یا ذہنی صحت کے ماہر فرد کا تقرر اسکولوں کےطلبہ کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کے عزم کو تقویت دینے کے ساتھ ایک معاون ماحول پیدا کرتا ہے جو مثبت ذہنی صحت کو فروغ دیتا ہے۔
بیداری پیدا کرنا
بہت سارے اسکول شاید اسٹوڈنٹ کاؤنسلر کی تعیناتی کا اِضافی بوجھ برداشت نہ کر سکیں، لیکن ایسے ماہر افراد کو اپنے اسکولوں میں مدعو کر کے ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری اور سمجھ میں اضافہ کرنے کے لیے اسکول کے راہ نما اپنے اساتذہ، والدین اور طلبہ کے لیے کارگاہیں (workshops) اور آگاہی اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ اس سے ذہنی صحت کے مسائل کو سمجھنے، اُنھیں کم کرنے اور ذہنی صحت سے متعلقہ اُمور پر آزادانہ گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد ملے گی۔ نتیجتہً ذہنی صحت کے مسائل پر جلدی قابو پانے میں مدد ملے گی اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بغیر کسی دشواری کے بہتر ہوگی اور ان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔
سیکھنے کا ایک مثبت اور سازگار ماحول بنانا
اسکول کے راہ نما ایک ایسے مثبت اور سازگار ماحول کو فروغ دے سکتے ہیں جو مثبت تعلقات، احترام اور شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔ اسکول کے راہ نما اور اساتذہ ہم نصابی سرگرمیوں، کلبوں اور سماجی روابط بڑھانے کے لیے یکساں درجے کے سہارا دینے والے گروہوں میں طلبہ کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرکے ایک خوش گوار ماحول بنا سکتے ہیں جہاں طلبہ خوشی خوشی شرکت کرکے ایک دوسرے کو مسائل سے نکالنے میں اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔
مہارتِ حیات (life skills) پر مبنی تعلیم کو نافذ کرنا
اسکول کے راہ نما اور اساتذہ نصاب میں جامع مہارتِ حیات پر مبنی تعلمی حاصلات شامل کر کے اپنے طلبہ کو ذہنی صحت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ نیز جذباتی ذہانت، تناؤ کے انتظام، لچک اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کرکے بہت سے مختلف مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم طلبہ کو درپیش مسائل کو مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرتی ہے۔
والدین اور برادری (community) کے ساتھ اشتراک
اسکول ذہنی صحت کے اقدامات میں والدین اور وسیع تر معاشرے کو شامل کرکے حالات میں بہتری لا سکتے ہیں۔ والدین کو اسکول کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرکے اُن کے لیے مختلف کارگاہوں کا اہتمام کریں گے تو والدین اپنے بچوں کی ذہنی تن درستی میں مدد کرنے کے لیے بہتر تصورات اور وسائل فراہم کر سکتے ہیں جس سے طلبہ کی ذہنی صحت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
پاکستانی اسکولوں میں ذہنی صحت کو ترجیح دینا طلبہ کی مجموعی ترقی اور بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کو تسلیم کرنے اور ان کو حل کرنے سے اسکول کے راہ نما اور اساتذہ ایک ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں جو طلبہ کی جذباتی اور نفسیاتی نشوونما میں معاون ہو۔ مشترکہ کوششوں، آگاہی مہموں اور مؤثر حکمت عملیوں کے نفاذ کے ذریعے پاکستانی اسکول اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ طلبہ ذہنی اور جذباتی طور پر مستحکم ہوں، انھیں تعلیمی طور پر ترقی کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔


