پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اعتماد کے فقدان کی وجہ سے نواں ریویو نہیں ہو سکا۔ وزیر خزانہ صاحب نے بڑی بڑھکیں لگائیں کہ ہم آئی ایم ایف کے بغیر بھی گزارہ کر لیں گے۔ مگر ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط بھی قسطوں میں پوری کرتے گئے۔ بالآخر نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا۔ جب گزارہ ناگزیر ہو گیا تو دوبارہ روابط بحال کیے گئے اور آئی ایم ایف کی نئی شرائط بھی ماننی پڑ گئیں پھر فنانس بل میں ترامیم کی گئیں اور بجٹ منظور ہوا۔ جس نے نتیجے میں 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز کا بوجھ عوام پہ ڈالا گیا۔ اور ٹیکس بھی پہلے سے موجود ٹیکس گزاروں پر ہی لگایا گیا۔ جس میں ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کا بوجھ، بڑے کاروباری اداروں پر سپر ٹیکس کا نفاذ، کھاد پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا۔ غرض کہ تمام تر حجتوں کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط مانی گئیں تب جا کے کہیں تین ارب ڈالر کا ایک شارٹ ٹرم معاہدہ عمل میں آیا۔ ان شرائط میں شرح سود میں اضافہ، ڈیزل کے نرخ میں اضافہ کیا گیا اور امپورٹ سے مکمل پابندی اٹھانے کے بعد بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، ایکسچینج ریٹ کو آزاد کرنا اور ادارے جو نقصان میں چل رہے ہیں ان کی نجکاری پر بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد جولائی کے وسط میں کہیں جا کے اس شارٹ ٹرم معاہدے کی پہلی قسط 1.1 ارب ڈالر ملیں گے۔ اور پھر دوسرے اور تیسرے ریویو کو مکمل کرنے کے بعد بقایا رقم جاری کی جائے گی۔ یعنی ابھی عوام کو مزید سختیاں دیکھنی باقی ہیں۔ اگر دوسرے اور تیسرے کامیاب ریویو کے بعد یہ پروگرام مکمل ہو گیا تو پھر نئی آنے والی حکومت کو ایک اور لانگ ٹرم معاہدہ آئی ایم ایف سے کرنا ہو گا اس کی کیا شرائط ہوں گی ان کا ابھی کسی کو نہیں پتہ۔ وہ معاہدہ اس لیے بھی ضروری ہو گا کہ پاکستان نے اس مالی سال میں 25 ارب ڈالر کا قرض ادا کرنا ہے۔ پاکستان کی حکومتیں صرف قرض حاصل کرنے کے لیے تمام شرائط پر عمل کرتی ہیں مگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرتیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہم پہلے اکیس پروگرام کر چکے ہیں جن میں سے ایک ہی پروگرام تکمیل کو پہنچا باقی بیچ راہوں میں ہی رہ گئے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں قرض کی ادائیگی کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ جس نے پاکستان کو ایک Vicious Circle میں پہنچا دیا ہے۔ ہمارے اخراجات ہماری آمدن سے زائد ہیں۔ ہماری اشرافیہ اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں۔ ابھی حال ہی میں چیئرمین سینیٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی سہولیات مہیا کرنے کا بل پاس کیا گیا کہ اس کے بعد صرف عمر خضر دینا ہی باقی رہ گیا تھا جس کا اختیار کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ پھر حال ہی میں سننے میں آ رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی تنخواہوں میں % 20 اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 90 کے قریب وزراء کی تعداد اور ان کی مراعات، بیرونی دورے جس میں وزیر خارجہ کے دوروں کی تعداد گنتی میں ہی نہیں آ رہی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مودی کے امریکہ دورے پر بائیڈن اور مودی کا پاکستان کے خلاف مشترکہ بیان سامنے آیا۔ اس کے علاوہ دوروں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو پھر بھی آئی ایم ایف کی تمام ضروری غیر ضروری شرائط تسلیم کرنی پڑیں۔ کہاں رہ گئی خارجہ پالیسی اور کہاں گئے تعلقات؟ آئی ایم ایف ہمیں ناک کی لکیریں نکلوا کے تین ارب ڈالر کا شارٹ ٹرم قرض دینے پر رضا مند ہوا۔ اگر ان دوروں کا کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا تو پھر کیا مقصد تھا ان دوروں کا؟ یہ ایک سوال ہے۔
غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے جس میں کمی کے کوئی امکانات مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہے۔ جب پٹرولیم مصنوعات اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا تو مہنگائی کیسے کم ہو سکتی ہے؟ اس شاٹ ترم معاہدے سے ایک بات اچھی ہوئی کہ پاکستان اس دفعہ ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا مگر اس کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا عوام کو ریلیف مل سکے گا؟ اسے تو ضروریات زندگی چاہئیں جو ابھی مہنگی ہیں۔ سابقہ حکومتوں کی طرح اس اتحادی حکومت نے بھی ٹیکس بیس بڑھانے اور اکانومی کو ڈاکومنٹ کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ 25 کروڑ کی آبادی میں سے صرف بیالیس، تینتالیس لاکھ بندہ ٹیکس گوشوارہ داخل کرتا ہے۔ ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد یا تو زیرو کی ریٹرن فائل کرتی ہے یا بہت کم آمدن ظاہر کر کے صرف فائلر ہونے کے لیے گوشوارہ داخل کرتے ہین۔ ایک تنخواہ دار طبقہ ہے جس پہ جتنا چاہے بوجھ ڈال دیا جائے کیونکہ ان کا ٹیکس ان کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ باقی انجوائے کرتے ہیں۔ ان حالات میں کوئی ٹھوس اقدامات کیے بنا پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پاکستان پہلے ہی برین ڈرین کا شکار ہے۔ لوگ باہر بھاگ رہے ہیں ان میں پروفیشنلز بھی ہیں، مزدور طبقہ بھی ہے اور سرمایہ دار بھی۔
حکومت ٹیکس کا ایک بڑا حصہ ان ڈائریکٹ ٹیکس اکٹھا کر کے حاصل کرتی ہے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں کوئی توازن نہیں ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس کی مد میں 12 سے 14 ٹریلین اکٹھا کیا جا سکتا ہے اگر حکومت اور ایف بی آر سنجیدگی سے ٹیکس بیس بڑھانے پر توجہ دے تو۔ مگر اس کے کیے ایف بی آر کو کام کرنا ہو گا۔ ایف بی آر کے بابو لوگ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پر معاملات چلا رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے بعد اگر ہم کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرتے تو ہمیں اسی vicious circle میں ہی رہنا ہو گا اور بیرونی قرضوں پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔ حالیہ معاہدہ سے پاکستان فوری طور پر ڈیفالٹ کی حالت سے تو نکل آیا مگر اس کے کوئی دور رس مثبت نتائج برامد نہیں ہوں گے اگر ہم نے اپنی ڈگر نا چھوڑی تو۔ ظاہر ہے جب آمدن اور اخراجات زیادہ ہوں گے تو قرض معاشی قتل ہی ثابت ہوں گے۔
اس دگرگوں معاشی صورتحال کے بعد بھی اگر ہم ٹیکس، زراعت، انڈسٹری، اخراجات کم کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات اور ریفارمز نہیں کرتے تو جیسا کہ امپورٹ پر سے مکمل طور پہ پابندی ہٹا لی گئی ہے اس سے جتنے ڈالر آئیں گے ان میں سے بڑی تعداد امپورٹ بل کلیئر کرنے میں خرچ ہو جائیں گے اور ہمارے حصے میں صرف قرض اور اس کا سود ہی بچے گا۔ پاکستان اس وقت جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے ان حالات میں ٹیکس ریفارمز کی اشد ضرورت ہے۔ ہول سیل، ریٹیل سیل اور زراعت وغیرہ کے سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں سیلز ٹیکس کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ اس میں بہت سے لوپ ہولز موجود ہیں جعلی اور فیک انوائسز کا ایک بڑا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو کہ وقتاً فوقتاً پکڑے بھی جاتی ہیں اور یہ ٹیکس چوری کا باعث بنتے ہیں۔ پھر سیلز ٹیکس کے ریفینڈز میں بھی خرابیاں موجود ہیں۔ ایک ناقص رائے ہے کہ جہاں ہم اپنے دوست عرب ممالک کی اتنی تعریفیں کرتے ہیں تو وہاں VAT ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا نظام بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ ہم وہ کیوں نہیں اپنا لیتے؟ اس سے جعلی انوائسز، ان پٹ ایجڈسٹمنٹ اور ریفینڈز کا سارا نظام ہی ختم ہو جائے گا اور بڑی امید ہے کہ شاید سیلز ٹیکس کی مد میں حالیہ اکٹھے ہونے والے ٹیکس سے زائد ٹیکس اکٹھا ہو سکے۔
امپورٹ کے متعلق پالیسی بنانا ہوگی جو لگژری آئٹمز میں ان اشیاء کی امپورٹ پر ٹیکس کی شرح چاہے ہزار فیصد تک بڑھا دیں جن لوگوں نے لگژری چیزیں استعمال کرنی ہیں وہ ادا کریں ٹیکس۔ غریب آدمی کا کیا قصور ہے؟
جہاں پام آئل کی مد میں بے تحاشا زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے تو اس کے متعلق پالیسی بنائی جائے۔ پام آئل کی پلانٹیشن کا کامیاب تجربہ سندھ میں کیا جا چکا ہے اسے بڑھایا جائے تاکہ ہم اپنی ملکی ضروریات پوری کر سکیں اور اس کی مد میں امپورٹ بل کم کر سکیں۔ چائے کی امپورٹ پر بھی ہم بڑی مقدار میں زر مبادلہ خرچ کرتے ہیں یہاں مانسہرہ شنکیاری میں چائے کی کاشت ہو رہی ہے اسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے علاقے بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں جہاں چائے کی کاشت ممکن ہو تاکہ ہم لوکل کھپت پوری کرنے کے بعد اسے ایکسپورٹ کر سکیں۔
اس کے علاوہ بہت سے سیکٹرز ایسے ہیں جہاں ہم آئی ایم ایف سے شارٹ اور لانگ ٹرم معاہدے کرتے ہیں وہاں ہم شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندہ کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت اور نئی آنے والی حکومت پاکستان کے لیے بہتر منصوبہ سازی کریں گے۔

