پوری قوم کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں


پاکستان کی تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھا جائے تو اس ملک کے نام نہاد پڑھے لکھوں اور ریاست کی طاقت و اختیار کے ایوانوں میں براجمان شخصیات نے ہی اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیے ہیں۔ بد عنوانی سے لے کر آئین کی دھجیاں اڑانے تک کے کارنامے سارے کے سارے انہی کے نامہ اعمال میں جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ تعلیم سے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں مگر یہاں معاملہ ہی الٹا ہے۔ یہاں ساری بد عنوانیوں کا سہرا پڑھے لکھوں کے سر ہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کا وہ معیار نہیں جو تقدیریں بدل سکتا۔ بلکہ یہ اتنی گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے کہ ملک کی بہتری کی بجائے تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ اور اس کی ایک بنیادی وجہ تو ہماری سوچ ہے جس میں انفرادی مفادات کی جھلک حاوی ہے جس کے پیش نظر کوئی جہاں بھی بیٹھا ہے وہ اپنے ذاتی مفادات کو ملکی اور قومی مفادات پر ترجیح دے رہا ہے اور یوں افراد آگے جا رہے ہیں اور ریاست پیچھے جا رہی ہے۔

دوسری وجہ تعلیم کی صورتحال یا معیار ہے جس میں کردار سازی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے اور تعلیم کا مقصد ہی انفرادی ترقی کے گرد گھوم رہا ہے اور جب تربیت ہی ذاتی مفادات کی ترجیحات ہوں تو پھر ملکی ترقی کا خواب کیسے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارے گھروں میں والدین کی تربیت سے لے کر تعلیمی اداروں تک دولت کمانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اور تعلیم بذات خود کاروبار بن چکی ہے جو نہ صرف طمع و لالچ کو فروغ دے رہی ہے بلکہ معاشرے کے اندر طبقاتی تقسیم کو جنم دے رہی ہے جس سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور ایسی ثقافت رواج پکڑ رہی ہے جس میں بڑائی کا معیار اچھا اخلاق اور کردار نہیں بلکہ دولت اور مادی چیزوں کا وجود ہے۔ جس سے ہر کوئی حلال حرام یا جائز ناجائز کے تمیز کے بغیر حصول کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔

ریاست میں خدمت پر مامور کسی بھی دفتر میں چلے جائیں تو اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی ترجیحات عوامی خدمت نہیں بلکہ جاہ و جلال اور ذاتی مفادات ہیں۔ جب سوچ کی بنیاد ہی خراب ہو تو اس سے بہتری کی توقعات کیسے کی جا سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے رویوں میں بھی تھانیداروں والی جھلک نظر آتی ہے۔ باہر مریضوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں اور وہ اندر موبائلوں پر تفریح حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک کی کریم ہیں جن کے ذمہ اس ملک کے عوام کی خدمت ہے جن کی تنخواہیں عوامی جیبوں یا ملکی وسائل سے آتی ہے، جن پر ملک و قوم کی بہتری کی توقعات تھیں جب وہ ہی تباہی کی طرف لے جا رہے ہوں تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے۔

ان پڑھ تو پھر بھی اپنے حصے کی محنت مزدوری کر کے اپنا فرض انجام دے رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گزار کر بھی شکر بجا لا رہے ہیں اور دوسری طرف وسائل پر قابض نام نہاد پڑھے لکھے ہیں جن کے پیٹ سارا کچھ ہڑپ کرنے کے باوجود بھی بھرنے سے قاصر ہیں۔

ان پڑھ اور عام شہریوں کو تو پھر بھی سمجھایا جائے تو وہ کسی حد تک سمجھ ہی جاتے ہیں یا پھر ان کو ڈرا دھمکا کر ان سے قانون کی عملداری کروائی جا سکتی ہے مگر علم، اختیار اور وسائل پر دسترس رکھنے والوں کو کوئی سمجھانے والا بھی نہیں اور حالات یہ ہیں کہ اگر کوئی مثبت سوچ رکھتا بھی ہو تو وہ بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ تو ایسے میں سب سے مشکل کام اس وقت پڑھے لکھوں کو سمجھانا بن چکا ہے۔ جب وہ غلط کام، دوسروں کے لئے مشکلات کھڑی کرنا اور لوٹ مار کو ہی کامیابی سمجھتے ہوں تو پھر ان سے سمجھنے اور بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

اور اس کا اندازہ نیچے سے لے کر اوپر تک کے حالات سے لگایا جاسکتا ہے جس کے نتائج آج یہ ہیں کہ تمام کی تمام حکومتی مشینری سے لے کر آئینی خود مختار اداروں تک ایسی سرگرمیوں میں الجھے ہوئے ہیں جو ان کا سرے سے کام ہی نہیں اور ان کی اصل ذمہ داریاں پس پشت پڑی ہوئی ہیں۔ لا قانونیت اور حقوق و ذمہ داریوں سے مبرا سوچ سے معاشرے میں جرائم، بد عنوانی بڑھتی جا رہی ہے اور اس سے وجود پانے والے مقدمات سال ہا سال سے عدالتوں میں زیر التوا پڑے ہیں اور عدالتیں حکومتی اور آئینی معاملات میں پڑی ہیں جس سے شہری حصول انصاف کے لئے عدالتوں کے باہر کھڑے نا امیدی اور مایوسی کے شکار اپنی قسمتوں کو کوس رہے ہیں۔

 

Facebook Comments HS